1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیا چین ایران کے خلاف جنگ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

جاوید اختر مصنف: ڈانگ یوان
3 مارچ 2026

بیجنگ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی رہنماؤں کی ہلاکتوں پر سخت تنقید کی ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں ’جنگل کے قانون‘ کے خلاف خبردار کیا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ
چین خود کو ایک مضبوط اور ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، جو من مانی طاقت کا استعمال نہیں کرتی، تاکہ اپنی عالمی شبیہ بہتر بنا سکےتصویر: mehrnews

چین نے ایران کے خلاف جاری امریکہ۔اسرائیل جنگ اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ بیجنگ نے اسے ’’ایران کی خودمختاری اور سلامتی کی سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے، جو ’’اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد، اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی ضوابط کو پامال کرتی ہے۔‘‘

فطری طور پر، چین کے خدشات صرف بین الاقوامی قانون کے احترام تک محدود نہیں ہیں۔ ایران چین کو تیل اور قدرتی گیس فراہم کرنے والے اہم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

اندازوں کے مطابق ایرانی تیل کی پیداوار کا تقریباً 90 فیصد چین کو برآمد کیا جاتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ سخت بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے تیسرے ممالک کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔

اپریل 2025 سے، ایران کو بین الاقوامی سوئفٹ ادائیگی نظام سے خارج کیے جانے کے باعث ایرانی تیل کی برآمدات کی ادائیگی چینی کرنسی میں کی جا رہی ہے۔

چین نے ایران کے خلاف جاری امریکہ۔اسرائیل جنگ اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کی ہےتصویر: Edward Nachtrieb/REUTERS

چین ایران تعلقات تیل کی فروخت سے کہیں آگے

اس جاری تنازعے نے آبنائے ہرمز پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے، جو ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔ یہ عمان اور ایران کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔

دنیا کی تیل کی مجموعی کھپت کا تقریباً 20 فیصد، یعنی لگ بھگ دو کروڑ بیرل خام تیل اور ایندھن روزانہ اسی راستے سے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کا تقریباً نصف حصہ چین کو جاتا ہے۔

اسی لیے بیجنگ آبنائے ہرمز کی کسی بھی طویل المدتی بندش کو اپنی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ہفتے کے روز امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے اس آبی گزرگاہ سے تجارتی آمدورفت تقریباً معطل ہو چکی ہے۔

توانائی کے علاوہ، ایران اور چین کے درمیان قریبی سیاسی تعلقات بھی ہیں۔ ایران 2023ء  سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا رکن ہے، جو چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک سکیورٹی اتحاد ہے۔ ایران 2024ء سے برکس پلس کا بھی رکن ہے، جو دنیا کی بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک گروپ ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اتوار کے روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک خودمختار ریاست کے سربراہ کا 'کھلے عام قتل‘ اور حکومت کی تبدیلی پر اکسانا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ واسرائیل کی مشترکہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب امریکی اور ایرانی حکام سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کے عمل میں مصروف تھے۔

چین نے امریکہ کے ذریعہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کرنے کو جنگل کا قانون قرار دیاتصویر: Adam Gray/REUTERS

’جنگل کا قانون‘

ایران کے خلاف امریکہ واسرائیل کی کارروائیوں سے چند ہفتے قبل امریکی فوج نے ایک کارروائی میں وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کر کے انہیں منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے نیویارک منتقل کر دیا تھا۔

مادورو کی امریکی گرفتاری نے بیجنگ میں بھی تشویش پیدا کی۔

چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ ہفتے جرمن چانسلر فریڈرش میرس سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہا، ’’سال 2026 کا آغاز کچھ خاص اچھا نہیں رہا۔‘‘

شی کے مطابق بین الاقوامی تنازعات گہرائی سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

اب اس غیر مستحکم جغرافیائی سیاسی پس منظر میں بیجنگ 'جنگل کے قانون‘ کے خلاف خبردار کر رہا ہے اور بڑی طاقتوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ ’’اپنی فوجی برتری کی بنیاد پر من مانے انداز میں دوسرے ممالک پر حملے نہ کریں۔‘‘

ایران پر حملہ چین کو ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف رائے عامہ ہموار کرے اور اس طرح عالمی قیادت کے اس کے دعوے کو چیلنج کرےتصویر: Michael Kappeler/dpa/picture alliance

چین کے لیے اپنا عالمی تشخص بہتر بنانے کا موقع

بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ واشنگٹن کے برعکس اقوام متحدہ کو مضبوط کرنا اور یورپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ ان عزائم کے پیش نظر ایران پر حملہ چین کو ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے سب سے بڑے حریف کے خلاف رائے عامہ ہموار کرے اور اس طرح عالمی قیادت کے اس کے دعوے کو چیلنج کرے۔

اقوام متحدہ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بین الاقوامی معاملات میں مسلح طاقت کا استعمال قواعد و ضوابط کے تحت ہو، نہ کہ من مانی طور پر۔

تاہم ایران پر حملہ چین کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مختلف راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر چین ٹرمپ کے دلائل کو اپنائے تو بیجنگ کو یہ جواز مل سکتا ہے کہ وہ ’’پیشگی دفاع‘‘ کا بہانہ بنا کر کسی بھی وقت آبنائے تائیوان عبور کر کے خود مختار جمہوری جزیرے تائیوان پر حملہ کر دے۔

بیجنگ تائیوان کو چین کا حصہ سمجھتا ہے اور بارہا اس عزم کا اظہار کر چکا ہے کہ ضرورت پڑنے پر طاقت کے ذریعے بھی اس علاقے کو اپنے کنٹرول میں لایا جائے گا۔

اہم سوال یہ ہے کہ بیجنگ کی ترجیحات کیا ہیں؟ چین خود کو ایک مضبوط اور ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، جو من مانی طاقت کا استعمال نہیں کرتی، تاکہ اپنی عالمی شبیہ بہتر بنا سکے۔ لیکن چینی حکام تائیوان پر طاقت کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنے کے لالچ میں بھی آ سکتے ہیں۔ آخرکار دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بنیادی مفادات میں سے کون سا غالب آتا ہے۔

ادارت: امتیاز احمد

(یہ مضمون اصل میں جرمن زبان میں لکھا گیا تھا۔)

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں