ماحول دوست کہتے ہیں کہ انسان کی جانب سے مصنوعات کا بے تحاشا استعمال ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ بن رہا ہے، مگر یہی اِصراف اقتصادی نمو کے لیے درکار قوت بھی ہے۔ کیا یہ دونوں عناصر میں کوئی ہم آہنگی ممکن ہے؟
تصویر: picture-alliance/EFE/S. Mendoza
اشتہار
ہم مختلف مصنوعات کا جتنا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ہمارے سیارے کو اتنا ہی نقصان بھی پہنچتا ہے۔ مٹی سے اہم اجزاء نکال لی جاتی ہیں، جنگلات کٹتے جاتے ہیں اور معدنیات زمین سے نکال لیے جاتے ہیں۔ جو وسائل ہم استعمال کرتے ہیں وہ کیمیائی فضلے کے صورت میں پھر زمین کو سونپ دیا جاتا ہے اور کچرے کے پہاڑ بننے کے ساتھ ساتھ اس عمل میں ضرر رساں گیسوں کا زبردست اخراج ہوتا ہے، جو اس سیارے کو ماحولیاتی تباہی کی جانب لے جا رہا ہے۔
مگر ساتھ ہی ہم میں سے بہت سے افراد ہیں، جو زندگی کے لیے نہایت بنیادی چیزوں ہی کی عدم دستیابی کا شکار ہیں، یعنی صاف ہوا اور خوراک۔
پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ برائے 2018 کے مطابق دنیا بھر میں شہروں میں رہنے والے ہر دس میں سے نو افراد آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں جب کہ سن 2015 کے مقابلے میں 2016ء میں انتہائی غریب افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سن 2015ء میں انتہائی غریب افراد کی تعداد 777 ملین تھی، جب کہ 2016ء میں یہ تعداد بڑھ کر 815 ملین ہو گئی۔ اس رپورٹ میں اس خراب صورت حال کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے تنازعات اور خشک سالی کو قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا تاہم کہنا ہے کہ معیشت میں ترقی اور نمو کو جی ڈی پی سے جوڑا جاتا ہے، تاہم معاشی نمو کا یہ درست پیمانہ نہیں، کیوں کہ اس میں مصنوعات کے اِصراف کو بنیادی اہمیت حاصل رہتی ہے۔ یونیورسٹی آف بارسلونا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر برائے ماحولیاتی سائنس اور ٹیکنالوجی فیدریکو ڈیماریا کے مطابق، ’’اب جی ڈی پی کے بہ طور پیمانہ استعمال اور اس کی افادیت پر سوالات ہر جانب سے سامنے آ رہے ہیں۔‘‘
عالمی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ عالمی اقتصادیات کے شعبے میں وسیع تر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی نمو کو وسائل کے استعمال کے ساتھ نتھی کرنا، انسانیت کو درپیش سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔
زمین، رفتہ رفتہ زندگی کھوتی ہوئی
دنیا بھر میں خشک سالی کئی علاقوں کو بنجر کرتی جا رہی ہے۔ زمینی حدت میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ زمینی ماحول پر پڑنے والے اثرات اب جنوبی افریقہ سے آرکٹک خطوں تک دیکھے جا سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/Everett Collection
آسٹریلیا، خشک سالی کا ملک
آسٹریلوی وزیراعظم میکم ٹرن بل نے ملکی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں خشک سالی کی بابت اپنے ایک خطاب میں کہا، ’’اب ہم خشک سالی والا ملک بن چکے ہیں۔‘‘ آسٹریلیا میں حال میں منظور کردہ ایک قانونی بل کے مطابق کسانوں کے لیے لاکھوں ڈالر کا ریلیف پیکیج منظور کیا گیا ہے۔
تصویر: Getty Images/B. Mitchell
ایتھوپیا، جانور رفتہ رفتہ ختم
ایتھوپیا سن 2015 سے بارشوں کی شدید کمی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے خوراک کی قلت بھی پیدا ہوئی ہے۔ ایتھوپین حکومت کے مطابق گزشتہ برس قریب ساڑھے آٹھ ملین افراد کو ہنگامی بنیادوں پر خوراک مہیا کی گئی جب کہ قریب چار لاکھ نومولود بچے خوراک کی کمی شکار ہوئے۔ اس خشک سالی کی وجہ سے وہاں جانوروں کی بقا بھی رفتہ رفتہ خطرات کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/E. Meseret
جنوبی افریقہ مکمل طور پر بنجر ہوتا ہوا
جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاؤن کے علاقے میں بارشوں کے موسم گزر جانے کے بس آخری دنوں میں کچھ بارش ہوئی، تو زندگی بحال ہوئی۔ دوسری صورت میں یہاں ’’ڈے زیرو‘‘ حالات پیدا ہو جاتے، یعنی پانی کی فراہمی رک جاتی اور ہنگامی خوراک پہنچانا پڑتی۔ اس طویل اور سخت خشک سالی کی وجہ سے اس شہر کے پانی کے تمام ذخائر ختم ہو گئے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/H. Krog
یورپ، فصلیں موسمی سفاکی کی نذر
یورپ میں بڑھتی گرمی اور بارشوں کی قلت کی وجہ سے حالات ماضی کے مقابلے میں بگڑے ہیں۔ صرف ایسا نہیں کہ یہاں شہریوں کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے بلکہ فصلوں کو بھی شدید نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔ یورپ بھر میں کسانوں کو خراب فصلوں کی وجہ سے دیوالیہ پن کے خدشات لاحق ہیں۔ سائنس دانوں کی پیش گوئی ہے کہ مستقبل میں یورپ کو مزید سفاک موسم اور شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/P. Pleul
یونان: فصلیں ہی نہیں دیہات بھی غائب
یونان میں مسائل دوہری نوعیت کے ہیں، ایک طرف تو کئی علاقے شدید خشک سالی کا شکار ہیں اور دوسری جانب سیلابوں نے بھی تباہی مچا رکھی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ خشک سردی کی وجہ سے وہ قریب چالیس فیصد فصل سے محروم ہو سکتے ہیں۔ یونان میں بعض علاقوں میں پانی کے ذخائر اتنے کم ہو گئے ہیں کہ لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سویڈن میں گزشتہ تین ماہ سے ایک بار بھی بارش نہیں ہوئی۔ سن 1944 کے بعد اس طرز کا یہ پہلا موقع ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے فصلوں کو شدید نقصان کے خطرے کے علاوہ مقامی کسانوں کو لاکھوں یورو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی ہے۔ سویڈن کو ان دنوں جنگلاتی آگ کے مسائل بھی لاحق ہیں اور یہاں درجہ حرارت بھی غیرمعمولی طور پر بلند دیکھا گیا ہے۔
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/M. Fludra
برطانیہ، قابو سے باہر صورت حال
برطانیہ میں موسم گرما کی خشک سالی کی وجہ سے خوراک کی سپلائی میں رخنے کے خطرات بڑھے ہیں۔ برطانیہ کی قومی فارمرز یونین کا کہنا ہے کہ صورت حال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
تصویر: picture-alliance/Photoshot
بھارت، پانی ختم ہو رہا ہے
بھارت میں آبادی میں تیزی سے اضافہ اور خراب انتظام کی وجہ سے پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ دوسری جانب خشک سالی کی وجہ سے بھی متعدد علاقوں میں پینے کا پانی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ بنگلور کو کچھ عرصے قبل ان شہروں کی فہرست میں رکھا گیا، جہاں پانی کی شدید قلت ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق ملک کا قریب 29 فیصد علاقہ شدید خشک سالی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے 75 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ گو کہ کیلی فورنیا کی جنگلاتی آگ کی وجہ سے عالمی توجہ اس جانب مبذول ہے، تاہم کینساس سمیت متعدد امریکی ریاستوں میں کسانوں کو شدید نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔
تصویر: picture-alliance/Everett Collection
9 تصاویر1 | 9
مبصرین کا کہنا ہے کہ اقتصادیات کے شعبے میں اس نوعیت کی اصلاحات متعارف کروانے کی ضرورت ہے جن کے تحت مصنوعات کے استعمال کی بجائے ان کے دوبارہ استعمال اور ری سائیکلنگ کے نظام کو بروئے کار لایا جائے۔ اس کے علاوہ ایسی راہ اپنائی جائے جس کے تحت توانائی کی کھپت میں کمی واقع ہو۔