سابق بھارتی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل کا کہنا تھا ہندوؤں کی مقدس کتاب گیتا میں بھی جہاد کا ذکر موجود ہے، جس طرح قرآن اور بائیبل میں ہے۔ بی جے پی کے سخت اعتراض کے بعد انہوں نے تاہم اپنے اس بیان کی تردید کی ہے۔
تصویر: Reuters/N. Chitrakar
اشتہار
ہندووں کے مقدس کتاب بھگوت گیتا میں بھی جہاد کا ذکر کے حوالے سے سابق بھارتی وزیر داخلہ اور کانگریس پارٹی کے رہنما شیو راج پاٹل کے بیان سے ملک میں سیاسی بیان بازی اور حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
حالانکہ تنازع کو بڑھتا دیکھ کر87 سالہ بزرگ رہنما نے آج جمعے کے روز اپنے بیان کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ تاہم موجودہ سیاسی حالات اور ملک میں جاری مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے یہ معاملہ شاید اتنی آسانی سے ختم نہ ہو۔
پاٹل نے کیا کہا تھا؟
شیو راج پاٹل جمعرات کے روز کانگریس کی ایک سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کی کتاب کے رسم اجراء کے موقع پر بول رہے تھے۔ میڈیا میں جاری اس تقریب کی ویڈیومیں انہیں یہ کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے،"یہ کہا جاتا ہے کہ مذہب اسلام میں جہاد کا کافی ذکر ہوا ہے۔ جہاد کی بات اس وقت آتی ہے جب کوئی شخص پورے خلوص دل کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے دوسرے کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن تمام کوششوں کے باوجود بھی اگر ناکام ہو جاتا ہے اور ایسے میں اگر آپ کو طاقت کا استعمال کرنے کی ضرورت ہو تو کریں۔ اور یہ بات صرف قرآن شریف کے اندر نہیں ہے۔ بلکہ مہابھارت کے اندر گیتا کے اندر شری کرشن جی بھی ارجن کو جہاد کی ہی بات کہتے ہیں۔"
پاٹل کا مزید کہنا تھا "یہ بات صرف قرآن شریف اور گیتا کے اندر ہی نہیں بلکہ مسیحیوں کی مذہبی کتاب بائیبل میں بھی موجود ہے۔ اور عیسیٰ مسیح نے لکھا ہے کہ میں یہاں امن کے ساتھ نہیں آیا ہوں بلکہ تلوار کے ساتھ بھی آیا ہوں۔ یعنی سب کچھ سمجھانے کی کوشش کرنے کے بعد اگر سمجھ نہیں رہے ہیں اور دوسرا شخص ہتھیار لے کر آرہا ہے تو آپ بھاگ کر نہیں جاسکتے۔ اس کو آپ جہاد بھی نہیں کہہ سکتے ہیں اور اس کو آپ غلط بات بھی نہیں کہہ سکتے ہیں۔"
بی جے پی حملہ آور
بھارتی پارلیمان کے سابق اسپیکر شیو راج پاٹل کے اس بیان پر حکمراں ہندو قوم پرست جماعت نے کانگریس پر حملہ کر دیا ہے۔ بی جے پی نے اسے سیاسی رنگ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریسی رہنما نے'ووٹ بینک' کی سیاست کے لیے یہ بیان دیا ہے۔
بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے ٹوئٹ کرکے کہا، "ہندوؤں سے نفرت اتفاق نہیں بلکہ ووٹ بینک کا استعمال ہے۔ گجرات کے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹ بینک کی پولرائزیشن کے لیے جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے۔ اس سے قبل راہول گاندھی بھی ہندوتوا کے بارے کافی کچھ کہہ چکے ہیں۔"
بی جے پی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ راہول گاندھی نے لشکر طیبہ کو ہندو انتہاپسند تنظیموں سے کم خطرناک بتایا تھا جب کہ کانگریس کے ایک اور سینیئر رہنما دگ وجے سنگھ نے ممبئی پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے لیے ہندووں پر الزام لگائے تھے۔
شیوراج پاٹل کی وضاحت
بی جے پی کی جانب سے سخت اعتراض کے بعد سابق بھارتی وزیر داخلہ اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کو صحیح انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔
ایک نامہ نگار کے سوال پر انہوں نے کہا،"جہاد کرنے کا پیغام دینے کی بات آپ لوگ کررہے ہیں۔ کیا شری کرشن جی ارجن کو جہاد کرنے کے لیے کہیں گے؟ نہیں کہیں گے نا؟ یہی میں کہہ رہا تھا۔"
دہلی کے نیشنل میوزیم میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے انتہائی نادر نسخوں کی ایک نمائش کا انعقاد کیا گیا تھا جن میں ساتویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک کے قرآنی خطاطی کے نمونوں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
تصویر: J. Akhtar
حاشیے میں تفسیر عزیزی
اٹھارہویں صدی میں لکھے گئے قرآن کے اس نسخے کے حاشیے میں تفسیر عزیزی کا متن بھی درج ہے۔
تصویر: J. Akhtar
خط بہاری میں لکھا گیا سترہویں صدی کا قرآنی نسخہ
خط بہاری میں تحریر کردہ یہ قرآنی نسخہ 1663ء میں تیار کیا گیا تھا۔ نئی دہلی میں بھارتی نیشنل میوزیم کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بی آر منی کے مطابق یہ خط صوبہ بہار کی دین ہے اور اسی وجہ سے اس رسم الخط کو یہ نام دیا گیا تھا۔ اپنے منفرد رسم الخط کی وجہ سے عبدالرزاق نامی خطاط کا لکھا ہوا یہ قرآنی نسخہ بہت تاریخی اہمیت کاحامل ہے۔
تصویر: J. Akhtar
انتہائی نایاب خط ثلث
پندرہویں صدی میں تحریر کردہ یہ قرآنی نسخہ خط ثلث میں ہے۔ اس رسم الخط میں تحریر کردہ قرآنی نسخے بہت ہی نایاب ہیں۔ بھارتی نیشنل میوزیم میں موجود یہ نسخہ نامکمل ہے۔
تصویر: J. Akhtar
کئی رنگوں کے امتزاج سے خطاطی کا تاریخی نمونہ
اس تصویر میں خط نسخ میں لکھا گیا ایک نادر قرآنی نسخہ نظر آ رہا ہے۔ اس نسخے کے ابتدائی صفحات خط کوفی خط میں لکھے گئے ہیں۔ یہ نسخہ سرخ، سیاہ، پیلے، سبز اور سنہرے رنگوں میں خطاطی کے شاندار امتزاج کا نمونہ ہے۔
تصویر: J. Akhtar
خطاطی خط نسخ میں لیکن جلد بندی بہت منفرد
انیسویں صدی میں لکھا گیا یہ نسخہ ماضی میں کپورتھلہ کے مہاراجہ کے خزانے کا حصہ تھا۔ خط نسخ میں تحریر شدہ اس نسخے کی جلد بندی میں خوبصورت بیل بوٹوں کا استعمال کیا گیا ہے جن سے یہ دیکھنے میں اور بھی خوبصورت نظر آتا ہے۔
تصویر: J. Akhtar
سترہویں صدی میں حسن ابدال میں لکھا گیا نسخہ
چھوٹی جسامت والا یہ قرآن انتہائی نایاب نسخوں میں سے ایک ہے، جسے عرف عام میں اس کے مٹھی جتنے سائز کی وجہ سے ’مشتی‘ بھی کہتے ہیں۔ 1602ء میں حسن ابدال (موجودہ پاکستان) میں اس نسخے کی تیاری میں بہت ہی باریک کاغذ استعمال کیا گیا ہے، جس پر تیاری کے دوران طلائی پاؤڈر بھی چھڑکا گیا تھا۔ اس نسخے کے پہلے صفحے پر مغل بادشاہ شاہجہاں کی مہر بھی ثبت ہے۔
تصویر: J. Akhtar
پہلے سات پارے چوتھے خلیفہ علی ابن علی طالب کے تحریر کردہ
ساتویں صدی عیسوی کا یہ نسخہ غیر معمولی حد تک قیمتی ہے، جو نئی دہلی کے نیشنل میوزیم میں محفوظ نادر قرآنی نسخوں میں سے قدیم ترین بھی ہے۔ اس کے پہلے صفحے پر درج عبارت کے مطابق اس کے سات پارے خلفائے راشدین میں سے چوتھے خلیفہ علی ابن علی طالب کے تحریر کردہ ہیں۔ یہ نسخہ کبھی گولکنڈہ (دکن) کے حکمران قطب شاہ کے خزانے کا حصہ ہوا کرتا تھا، جسے چمڑے پر خط کوفی میں لکھا گیا ہے۔
تصویر: J. Akhtar
آٹھویں صدی میں خط کوفی میں عراق میں لکھا گیا قرآنی نسخہ
آٹھویں صدی عیسوی میں یہ قرآنی نسخہ عراق میں تیار کیا گیا تھا۔ اسے بہت قدیم رسم الخط قرار دیے جانے والے خط کوفی میں تحریر کیا گیا ہے۔ نئی دہلی میں قومی عجائب گھر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منی کے مطابق یہ تمام نایاب قرآنی نسخے نیشنل میوزیم کی ملکیت ہیں، جن کی نمائش رواں ماہ کے آخر یعنی 31 مارچ 2018ء تک جاری رہے گی۔
تصویر: J. Akhtar
مغل بادشاہوں شاہجہان اور اورنگ زیب کی مہروں کے ساتھ
یہ تاریخی نسخہ 1396ء میں ریشمی کاغذ اور سمرقندی سِلک پیپر پر خط ریحان میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس کے پہلے صفحے پر مغل بادشاہوں شاہجہاں اور اورنگ زیب کی شاہی مہریں لگی ہوئی ہیں۔
تصویر: J. Akhtar
لفظ ’اللہ‘ ہر بار سونے کے پانی سے لکھا ہوا
انڈین نیشنل میوزیم کے سابق کیوریٹر اور معروف اسکالر ڈاکٹر نسیم اختر کے مطابق ان قرآنی نسخوں میں سے کئی کے صفحات کو ’سونے کے پانی‘ سے تحریر کیا گیا ہے، جب کہ ایک نسخہ ایسا بھی ہے، جس میں بار بار آنے والا لفظ ’اللہ‘ ہر مرتبہ سونے سے لکھا گیا ہے۔ خط نستعلیق میں یہ قرآنی نسخہ انیسویں صدی میں تحریر کیا گیا تھا۔
تصویر: J. Akhtar
ایک کرتے پر مکمل قرآن اور اللہ کے ننانوے نام بھی
اٹھارہویں صدی میں تیار کردہ اس کرتے پر پورا قرآن لکھا گیا ہے، جو ایک غیر معمولی اثاثہ ہے۔ کرتے کے دائیں بازو پر اللہ کے صفاتی نام درج ہیں۔ اس قرآن کی بہت ہی باریک کتابت خط نسخ کی گئی ہے اور اس کرتے پر اللہ کے ننانوے نام خط ریحان میں تحریر کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا بہت ہی منفرد اور واحدکرتا ہے۔