کیمیاوی مادے سول مقاصد کے لیے شام کو دیے تھے: میرکل
19 ستمبر 2013
گزشتہ شام جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ٹی وی چینل اے آر ڈی پر ایک بیان دیتے ہوئے کہا،’’ جرمن حکومت اس بارے میں بہت اچھی طرح چھان بین کر چکی ہے کہ یہ کیمیاوی مادے کس مصرف کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ تمام تر ثبوت بتاتے ہیں کہ یہ مادے سول مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ ہم نے مئی 2011ء کے بعد یعنی جب سے شامی حکومت پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں ہیں، اس قسم کے مادوں کی برآمد روک دی تھی۔‘‘
کیمیاوی ہتھیاروں کو تباہ کر نے کے عمل میں ایک سال لگ جائے گا: اسد
شامی صدر بشار الاسد کے مطابق شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کو تلف یا تباہ کرنے کے عمل میں ایک سال کا عرصہ لگ جائے گا۔ اس کے علاوہ اس عمل پر بہت زیادہ رقم یعنی قریب ایک بلین ڈالرز کے اخراجات آئیں گے۔
شامی صدر نے یہ بیانات امریکی ٹیلیوژن چینل فوکس نیوز کو بُدھ کی شام ایک انٹرویو دیتے ہوئے دیے۔ اسد نے کہا کہ وہ اس بات کے لیے آمادہ ہیں کہ اگر واشنگٹن حکومت رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہے تو امریکا شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کو اپنے ہاں لے جا کر انہیں تباہ کر دے۔ تاہم شامی صدر نے اس الزام کو ایک بار پھر رد کر دیا ہے کہ ان کی حکومت نے 21 اگست کو اپنے ہی شہریوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کیے تھے۔
بشارالاسد نے اپنی حکومت پر لگے ان الزامات کے حوالے سے مزید کہا،’’کسی نے بھی اُن تصاویر اور ویڈیوز کو جانچ کر ان کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تصدیق شدہ چیزیں صرف زمین سے اُٹھائے گئے خون اور دیگر چیزوں کے نمونے ہیں جو معائنہ کاروں کی ٹیم نے وہاں جاکر اکھٹا کیے ہیں۔‘‘
اسد کا کہنا تھا کہ ویڈیوز کی مدد سے رپورٹ نہیں تیار کی جا سکتی کیونکہ ان کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا۔ بشار الاسد نے مزید کہا،" ہم گزشتہ ڈھائی برسوں سے جعل سازی کی دنیا میں رہ رہے ہیں" ۔
یاد رہے کہ شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے معاہدے پر گزشتہ ویک اینڈ پر امریکا اور روس نے اتفاق کیا تھا۔ اُدھر مغربی ممالک زور دے رہے ہیں کہ اقوام متحدہ میں جو قراردار پیش کی جائے اس میں فوجی کارروائی کا راستہ بھی شامل رکھا جائے۔ تاہم روس اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نہیں بلکہ باغی افواج نے کیا تھا۔
دریں اثناء شام میں باغی فوجیوں کے دو گروہوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب القاعدہ سے منسلک ریاستِ اسلامی عراق نامی جہادی گروہ اور مغربی ممالک کی حمایت یافتہ فری سیریئن آرمی کے جنگجوؤں کے درمیان ترک سرحد کے قریب اعزاز نامی قصبے میں تصادم ہوا۔ جہادی گروہوں اور فری سیرئین آرمی کے درمیان یہ لڑائی اب تک کی سب سے بڑی جھڑپ سمجھی جا رہی ہے۔