1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیمیا کا نوبل انعام تین سائسدانوں کے نام

عدنان اسحاق8 اکتوبر 2014

کیمیا کا نوبل انعام اس مرتبہ ایک جرمن اور دو امریکی محققین کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نوبل کمیٹی کے مطابق یہ سائنسدان مائیکرو اسکوپ کو جدت کی نئی بلندیوں پر لے گئے ہیں۔

Bildkombo William E. Moerner, Stefan W. Hell, Eric Betzig (vlnr) Nobelpreis 2014 Chemie

سویڈن کی نوبل رائل اکیڈمی کے مطابق اسٹیفن ہیل، ایرک بیٹزگ اور ولیم موئرنر نے مائیکرو اسکوپ کے ذریعے اشیاء کو دیکھنے کے مروجہ طریقے کو اس حد تک بہتر بنایا ہے کہ اب اس کے ذریعے خَلیات کی اندرونی ساخت کو کہیں بڑے سائز میں اور کہیں زیادہ صاف اور واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ’’سویڈن کی رائل اکیڈمی برائے سائنسز نے 2014ء کا کیمیا کا نوبل انعام امریکی شہر ورجینیا کے ہارورڈ ہیوز میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے محقق ڈاکٹر ایرک بیٹزگ، جرمنی کی گوئٹنگٹن یونیورسٹی اور ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے بائیو فزیکل کیمسٹری کے پروفیسر ہیل اور امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ولیم موئرنر کو فلوری سینس مائیکرو سکوپی دریافت کرنے پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔

اس سے قبل کہا جاتا تھا کہ مائیکرو اسکوپ کی دنیا میں مزید جدت کی گنجائش نہیں ہے اور آپٹیکل مائیکرو اسکوپی ایک خاص سطح سے آگے نہیں جا سکتی ہے۔ ’’اس مرتبہ کے نوبل انعام کا تعلق اُس جدت سے ہے، جس کی وجہ سے عام مائیکرو اسکوپ ایک نینو اسکوپ میں تبدیل ہو گئی ہے۔‘‘

تصویر: CC BY-SA-Zsynth

نوبل انعام ڈائنامائٹ کے موجد اور سویڈن کے معروف تاجر الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ 1901ء میں شروع کیا گیا تھا۔ سویڈن میں پیدا ہونے والے الفریڈ نوبل نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت روس میں گزارا تھا اور ان کا انتقال 1896ء میں ہوا تھا۔

51 سالہ جرمن پروفیسر ہیل ہائیڈل برگ میں قائم کینسر کے ملکی ادارے سے بھی منسلک ہیں۔ ان کے بقول نوبل انعام کے حقدار ٹھہرائے جانے پر وہ بہت خوش ہیں۔’’یہ میرے لیےبہت ہی غیر متوقع ہے اور مجھے بالکل بھی یقین نہیں آ رہا۔ خوش قسمتی سے میں نے پروفیسر اسٹیفن نورمارک کی آواز پہچان لی، جس سے مجھے یقین آ گیا۔ مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ مجھے صورتحال کو سمجھنے میں وقت لگا۔‘‘

ہر سال طبیعات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے شعبوں میں خدمات سرانجام دینے والی شخصیات کو نوبل انعام دیا جاتا ہے۔ سن 1968ء سے نوبل انعام کے شعبوں میں معاشیات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے ہر انعام کے ساتھ آٹھ ملین سویڈش کرونا کی رقم بھی دی جاتی ہے، جو تقریباً آٹھ لاکھ اسی ہزار یورو کے برابر بنتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر سال کی طرح اس سال بھی دس دسمبر کو ایک تقریب منعقد ہو گی، جس میں نوبل انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔

گزشتہ روز فزکس کا نوبل انعام بھی مشترکہ طور پر تین ایسے جاپانی نژاد سائنسدانوں کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا، جنہوں نے نئی طرز کے LED لیمپ ایجاد کر کے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے خلاف جنگ میں ایک بڑی پیش قدمی کو ممکن بنایا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں