1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کینیا میں یونیورسٹی پر دہشت گردانہ حملے میں ستّر طلبا ہلاک

مقبول ملک2 اپریل 2015

افریقی ملک کینیا کی ایک یونیورسٹی پر صومالی مسلم عسکریت پسندوں کے گروپ الشباب کے ایک دہشت گردانہ حملے میں کم از کم ستّر طلبا ہلاک اور اسّی کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ متعدد حملہ آور ایک عمارت میں مورچہ بند ہو گئے تھے۔

تصویر: picture-alliance/AP Photo

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کینیا میں آج جمعرات دو اپریل کے روز کیا جانے والا یہ خونریز حملہ اس ملک میں 1998ء میں امریکی سفارت خانے پر کیے جانے والے بم حملوں کے بعد سے اب تک کی سب سے ہلاکت خیز دہشت گردانہ کارروائی ہے۔

مشرقی کینیا کے شہر گاریسا سے آمدہ رپورٹوں کے مطابق اس شہر کی ایک یونیورسٹی میں صومالی عسکریت پسندوں کی کالعدم تنظیم کی طرف سے یہ حملہ متعدد مسلح شدت پسندوں کے ایک گروپ نے کیا۔ کینیا کے وزیر داخلہ جوزف اینکائسیری نے جمعرات کی شام صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آوروں نے یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی، جس کے بعد وہ اس جامعہ کی ایک عمارت میں مورچہ بند ہو گئے تھے۔

حملے کی اطلاع ملتے ہوئے ملکی سکیورٹی دستوں نے اس یونیورسٹی کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا لیکن تب تک دہشت گرد 20 کے قریب طلبا کو قتل کرنے کے بعد ایک بلڈنگ میں مورچہ بند ہو چکے تھے۔ ان عسکریت پسندوں نے وہاں 12 گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک پناہ لیے رکھی، جس دوران ان کا سکیورٹی دستوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔

وزیر داخلہ کے مطابق شام تک کم از کم چار حملہ آور مارے جا چکے تھے لیکن تب تک عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے طلبا کی تعداد بھی کم از کم 70 ہو چکی تھی۔ اس حملے میں زخمی ہونے والے طلبا کی تعداد کم از کم بھی 79 بتائی گئی ہے۔

گاریسا سے ملنے والی تازہ رپورٹوں کے مطابق حکام کو یقین ہے کہ وہ اس حملے اور یونیورسٹی کیمپس میں الشباب کے عسکریت پسندوں کی موجودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرے کے 90 فیصد حصے پر قابو پا چکے ہیں۔ تاہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مزید کوئی حملہ آور یونیورسٹی کی کسی عمارت میں چھپا ہوا نہ ہو، سکیورٹی دستے پورے کیمپس کی تلاشی لے رہے ہیں۔

جوزف اینکائسیری نے بتایا کہ چار مسلح عسکریت پسند اس وقت مارے گئے جب حملہ آوروں کی طرف سے کئی گھنٹوں کی مورچہ بندی کے بعد کینیا کے فوجی دستوں نے بالآخر اُس بلڈنگ پر دھاوا بول دیا، جہاں یہ دہشت گرد موجود تھے۔

تصویر: picture-alliance/AP Photo

اے ایف پی نے کینیا کی حکومت کے دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہمسایہ ملک صومالیہ میں مسلم عسکریت پسندوں کی الشباب ملیشیا سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے اس یونیورسٹی پر حملہ صبح کے وقت کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے بہت سے مسیحی طلبا کو یا تو چن چن کر یرغمالی بنا لیا یا انہیں ہلاک کر دیا۔

وزیر داخلہ جوزف اینکائسیری کے بقول گاریسا کی جس یونیورسٹی پر حملہ کیا گیا، وہاں طلبا کی تعداد 815 اور ٹیچنگ سٹاف کے ارکان کی تعداد قریب 60 بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی طلبا ابھی بھی لاپتہ ہیں۔

کینیا کی نیشنل انٹیلیجنس کے مطابق الشباب کی طرف سے اس حملے کا ذمہ دار محمد محمود نامی ایک انتہائی مطلوب عسکریت پسند ہے، جو الشباب کے بیرون ملک حملوں، خاص کر کینیا میں کی جانے والی کارروائیوں کا نگران سمجھا جاتا ہے۔ کینیا کی حکومت نے محمد محمود کی گرفتاری میں مدد دینے والے کسی بھی فرد کے لیے 20 ملین شِلنگز یا قریب دو لاکھ بیس ہزار امریکی ڈالر کے برابر انعام کا اعلان کیا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں