کینیا کے صدر اور نائب صدر پر فرد جرم عائد
9 ستمبر 2013
ان دونوں سیاسستدانوں پر 2007 ء کے صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں تشدد پر اکسانے ، قتل کی منصوبہ بندی کرنے اور کمیشن لینے جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ مشرقی افریقہ کے اس ملک میں ان سیاستدانوں کی پھیلائی ہوئی بدامنی کے نتیجے میں 1200 سے زائد انسان ہلاک ہوئے تھے۔
روٹو کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہو چُکی ہے اور کینیاٹا 12 نومبر کو دی ہیگ کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ دونوں سیاستدانوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ خود پر لگے الزامات کے دھبوں کو مٹا دیں گے اور ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنائیں گے کہ حکومتی نظام بھی چلتا رہے۔
نیروبی میں کینیا کی پارلیمان نے اپنے ملک کی بین الاقوامی فوجداری عدالت سے دست بردارہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اراکین پارلیمان کی اس بارے میں ووٹنگ محض پہلا قدم ہے۔ بین لاقوامی قانون کی رو سے کینیا کا دی ہیگ کی جنگی جرائم کی عدالت سے دستبرداری کا فیصلہ اُس وقت مؤثر ہوگا جب نیروبی حکومت اس فیصلے سے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹیریٹ کو تحریری طور پر مطلع کرے گا۔
ہالینڈ کی لائڈن یونیورسٹی کے پروفیسر کارسٹن اشٹاہن کے بقول،" آیا کینیا کے اس فیصلے کے اثرات دیگر ممالک پر بھی پڑیں گے ، اس کا دار ومدار افریقی یونین کے رویے پر ہوگا" ۔
امریکا دی ہیگ کی فوجداری عدالت کو تسلیم نہیں کرتا
دی ہیگ کی جنگی جرائم کی عدالت کا قیام جولائی 2002 ء میں عمل میں آیا تھا۔ تاہم اس عدالت کے فیصلوں کے پابند محض وہ ممالک ہیں جنہوں نے ’روم ضابطے '' کی توثیق کی تھی۔ ’روم ضابطہ‘ جولائی 1998ء کو اطالوی دارالحکومت روم میں منعقدہ ایک سفارتی اجلاس کے دوران طے پایا تھا اوراس کا اطلاق 2002 ء سے شروع ہوا۔ 122 ممالک نے اب تک اس ضابطے کی توثیق کی ہے جن میں یورپی یونین کے تمام رکن ممالک شامل ہیں تاہم چین، روس اور امریکا نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے۔ کینیا میں اس قانون پر دستخط 2005 ء میں ہوئے تھے جبکہ اس پر اطلاق کا سلسلہ 2008ء ءسے شروع ہوا تھا۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران افریقی سیاستدانوں کی طرف سے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
کیا اس کے اثرات سے دیگر ممالک متاثر ہوسکتے ہیں
کینیا کی طرف سے اس عدالت سے دستبراداری کا علان ایک انوکھا قدم ہے تاہم اس سے یہ خطرات پیدا ہو گئے ہیں کہ اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ افریقی یونین دی ہیگ کی جنگی جرائم جیسی ایک علاقائی عدالت کے قیام پر غور و خوض کر رہی ہے جو صرف افریقی بر اعظم کے جنگی جرائم کی ذمہ دار ہو۔ اُدھر امریکی مخالفت کے باوجود دی ہیگ کی ٹریبونل کے روم ضابطے کی توثیق کرنے والی ریاستوں کی تعداد 2002 ء سے اب تک دوگنی ہو چُکی ہے۔
کینیا کےصدر اھورا کینیاٹا اور نائب صدر ولیم روٹو کے خلاف عائد فرد جرم پر اس ملک کے دی ہیگ کی عدالت سے اخراج کا فیصلہ اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔ اس بارے میں دی ہیگ کی عدالت کے ایک ترجمان فادی العبداللہ کا کہنا ہے۔
" روم ضابطے کے تحت اس سے اخراج کی درخواست کی اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹیریٹ سے توثیق کے ایک سال بعد اس پر اطلاق ہوتا ہے۔ یعنی ایک سال بعد کینیا روم ضابطے سے سرکاری طور پر دست بردار ہو سکے گا اس کے علاوہ کسی بھی ملک کے اخراج کا فیصلہ ماضی سے موثر نہیں ہوسکتا" ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیروبی کے اس فیصلے کے منفی اثرات کینیا کی ترقیاتی پالیسیوں پر مرتب ہوں گے کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ آج کل کسی بھی ملک کے لیے ترقیاتی امداد کا دارومدار زیادہ تر اُس ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر منحصر ہوتا ہے۔
مارکوس لیوٹکے/ کشور مصطفیٰ/ عابد حسین