1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کینیا: یونیورسٹی پر الشباب کا حملہ، ہلاکتیں 15 ہو گئیں

افسر اعوان2 اپریل 2015

صومالی سرحد کے قریب کینیا کی گاریسا یونیورسٹی پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم الشباب نے قبول کر لی ہے۔

تصویر: picture-alliance/AP Photo

جمعرات کے روز افریقی ریاست کینیا کے شمال مشرقی علاقے گاریسا میں نقاب پوش مسلح حملہ آوروں نے گاریسا یونیورسٹی کالج پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 65 بتائی گئی ہے۔

کینیا کے نیشنل ڈیزاسٹر آپریشن سنٹر کی طرف سے ایک ٹوئیٹر پیغام میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ اس پیغام کے مطابق چار افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جنہیں فضائی راستے سے دارالحکومت نیروبی منتقل کر دیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا اور اور امدادی تنظیم ریڈ کراس کے مطابق حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے درجنوں افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ صومالیہ کی سرحد کے قریب واقع اس علاقے سے مزید اطلاعات ابھی موصول ہو رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے جائے وقوعہ پر موجود ایک پولیس افسر کے حوالے سے بتایا ہے، ’’میں نے 14 لاشیں گِنی ہیں جنہیں ریڈ کراس کی ایمبولینس میں لے جایا گیا ہے۔ ان میں دو افسران بھی شامل تھے، جو ہلاک ہوئے۔‘‘

حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیںتصویر: Reuters

اس پولیس افسر نے مزید بتایا، ’’ہمارے لیے یونیورسٹی کمپاؤنڈ میں داخلہ مشکل ہو رہا ہے کیونکہ بعض حملہ آور عمارت کی چھت پر موجود ہیں اور ہم جب بھی اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اوپر سے فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔‘‘

مسیحی طلبہ کو یرغمال بنا لیا ہے، الشباب

دوسری طرف صومالیہ میں سرگرم اسلام پسند شدت پسند گروپ الشباب نے کینیا کی اس یونیورسٹی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یرغمال بنائے گئے طلبہ میں سے مسلمان طلبہ کو رہا کر دیا ہے جبکہ مسیحی طلبہ میں سے بعض کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ بقیہ کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

الشباب کے ملٹری آپریشنز کے ترجمان شیخ ابو مصعب نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’’ہم نے لوگوں کو الگ الگ کر دیا اور مسلمانوں کو رہا کر دیا۔‘‘ ترجمان کا مزید کہنا تھا، ’’بہت سے مسیحیوں کی لاشیں عمارت کے اندر موجود ہیں۔ ہم نے بہت سے مسیحیوں کو زندہ یرغمال بھی بنایا ہوا ہے۔ کالج کے اندر لڑائی ابھی بھی جاری ہے۔‘‘

صومالیہ میں سرگرم الشباب دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ تنظیم ماضی میں بھی گاریسا اور کینیا کے دیگر حصوں میں حملے کر چکی ہے۔ گاریسا صومالی سرحد سے قریب 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں