ایرانی پاسداران انقلاب اب دہشت گرد گروپوں کی کینیڈین لسٹ میں
20 جون 2024
کینیڈا نے ایران کی ایلیٹ فورس پاسداران انقلاب کو 'دہشت گرد' گروپ قرار دیتے ہوئے ایران میں موجود اپنے شہریوں سے نکل جانے کی اپیل کی ہے۔ اوٹاوا نے تہران پر 'انسانی حقوق کو مکمل طور پر نظر انداز' کرنے کا بھی الزام لگایا۔
پابندی کا مطلب یہ ہوگا کہ پاسداران انقلاب کے اعلی عہدیداروں سمیت ایرانی حکومت کے ہزاروں اعلیٰ حکام پر کینیڈا میں داخلے پر پابندی عائد ہو گیتصویر: Iranian Army Office/ZUMA/picture alliance
اشتہار
کینیڈا میں حزب اختلاف کے قانون سازوں کے برسوں کے دباؤ کے بعد ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (پاسداران انقلاب فورسز) کو بالآخر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
کہ کینیڈا آئی آر جی سی کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے دائرہ اختیار میں تمام ذرائع استعمال کرے گا۔ بذات خود کارروائی کرنے کے ساتھ ہی اس تنظیم کے حزب اللہ اور حماس جیسے دہشت گرد گرپوں کے ساتھ وابستگی رہی ہے۔''
اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) ایران کی ایک بڑی فوجی، سیاسی اور اقتصادی قوت ہے، جس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے قریبی تعلقات ہیںتصویر: Tasnimnews
کئی برسوں سے کینیڈا میں حزب اختلاف کے قدامت پسند قانون ساز وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو پر زور دے رہے تھے کہ وہ پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کر دیں۔
بدھ کے روز کینیڈا کے عوامی تحفظ کے وزیر ڈومینک لی بلینک نے اس فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے انسانی حقوق کے ریکارڈ بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا، ''ایرانی حکومت نے ایران کے اندر اور باہر انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کو غیر مستحکم کرنے کے لیے آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔''
ان کا مزید کہنا تھا، ''پاسداران انقلاب پر پابندی کینیڈا کی حکومت کی ان وسیع تر کوششوں کو یقینی بناتی ہے کہ ایران کے غیر قانونی اقدامات اور دہشت گردی سے متعلق اس کی حمایت کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔''
کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا جولی نے ''غیر قانونی حراست'' کے بڑھتے ہوئے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ملک کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
ایرانی اسلامی انقلاب کے چالیس برس
سید روح اللہ موسوی خمینی کی قیادت میں مذہبی رہنماؤں نے ٹھیک چالیس برس قبل ایران کا اقتدار سنبھال لیا تھا۔ تب مغرب نواز شاہ کے خلاف عوامی غصے نے خمینی کا سیاسی راستہ آسان کر دیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/FY
احساسات سے عاری
خمینی یکم فروری سن 1979 کو اپنی جلا وطنی ختم کر کے فرانس سے تہران پہنچے تھے۔ تب ایک صحافی نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں تو اس مذہبی رہنما کا جواب تھا، ’’کچھ نہیں۔ مجھے کچھ محسوس نہیں ہو رہا‘۔ کچھ مبصرین کے مطابق خمینی نے ایسا اس لیے کہا کیونکہ وہ ایک ’روحانی مشن‘ پر تھے، جہاں جذبات بے معنی ہو جاتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/AP Images
شاہ کی بے بسی
خمینی کے وطن واپس پہنچنے سے دو ماہ قبل ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو چکے تھے۔ مختلف شہروں میں تقریبا نو ملین افراد سڑکوں پر نکلے۔ یہ مظاہرے پرامن رہے۔ تب شاہ محمد رضا پہلوی کو احساس ہو گیا تھا کہ وہ خمینی کی واپسی کو نہیں روک سکتے اور ان کی حکمرانی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/UPI
خواتین بھی آگے آگے
ایران میں انقلاب کی خواہش اتنی زیادہ تھی کہ خواتین بھی خمینی کی واپسی کے لیے پرجوش تھیں۔ وہ بھول گئی تھیں کہ جلا وطنی کے دوران ہی خمینی نے خواتین کی آزادی کی خاطر اٹھائے جانے والے شاہ کے اقدامات کو مسترد کر دیا تھا۔ سن 1963 میں ایران کے شاہ نے ہی خواتین کو ووٹ کا حق دیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/IMAGNO/Votava
’بادشاہت غیر اسلامی‘
سن 1971 میں شاہ اور ان کی اہلیہ فرح دیبا (تصویر میں) نے ’تخت جمشید‘ میں شاہی کھنڈرات کے قدیمی مقام پر ایران میں بادشاہت کے ڈھائی ہزار سال کی سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب میں شرکت کی تھی۔ تب خمینی نے اپنے ایک بیان میں بادشاہت کو ’ظالم، بد اور غیر اسلامی‘ قرار دیا تھا۔
تصویر: picture alliance/akg-images/H. Vassal
جلا وطنی اور آخری سفر
اسلامی انقلاب کے دباؤ کی وجہ سے شاہ چھ جنوری سن 1979 کو ایران چھوڑ گئے۔ مختلف ممالک میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے کے بعد سرطان میں مبتلا شاہ ستائیس جنوری سن 1980 کو مصری دارالحکومت قاہرہ میں انتقال کر گئے۔
تصویر: picture-alliance/UPI
طاقت پر قبضہ
ایران میں اسلامی انقلاب کے فوری بعد نئی شیعہ حکومت کے لیے خواتین کے حقوق مسئلہ نہیں تھے۔ ابتدا میں خمینی نے صرف سخت گیر اسلامی قوانین کا نفاذ کرنا شروع کیا۔
تصویر: Tasnim
’فوج بھی باغی ہو گئی‘
سن 1979 میں جب خمینی واپس ایران پہنچے تو ملکی فوج نے بھی مظاہرین کو نہ روکا۔ گیارہ فروری کو فوجی سربراہ نے اس فوج کو غیرجانبدار قرار دے دیا تھا۔ اس کے باوجود انقلابیوں نے فروری اور اپریل میں کئی فوجی جرنلوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/EPU
نئی اسلامی حکومت
ایران واپسی پر خمینی نے بادشات، حکومت اور پارلیمان کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ تب انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک نئی حکومت نامزد کریں گے کیونکہ عوام ان پر یقین رکھتے ہیں۔ ایرانی امور کے ماہرین کے مطابق اس وقت یہ خمینی کی خود التباسی نہیں بلکہ ایک حقیقت تھی۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/FY
انقلاب کا لبرل رخ
اسکالر اور جمہوریت نواز سرگرم کارکن مہدی بازرگان شاہ حکومت کے خلاف چلنے والی عوامی تحریک میں آگے آگے تھے۔ خمینی نے انہیں اپنا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا۔ تاہم بازرگان اصل میں خمینی کے بھی مخالف تھے۔ بازرگان نے پیرس میں خمینی سے ملاقات کے بعد انہیں ’پگڑی والا بادشاہ‘ قرار دیا تھا۔ وہ صرف نو ماہ ہی وزیرا عظم رہے۔
تصویر: Iranian.com
امریکی سفارتخانے پر قبضہ
نومبر سن 1979 میں ’انقلابی طالب علموں‘ نے تہران میں قائم امریکی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا تھا اور اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ تب سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ یہ انقلابی خوفزدہ تھے کہ امریکا کی مدد سے شاہ واپس آ سکتے ہیں۔ خمینی نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور اپنے مخالفین کو ’امریکی اتحادی‘ قرار دے دیا۔
تصویر: Fars
خمینی کا انتقال
کینسر میں مبتلا خمینی تین جون سن 1989 میں چھیاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کو تہران میں واقع بہشت زہرہ نامی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ان کی آخری رسومات میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تصویر: tarikhirani.ir
علی خامنہ ای: انقلاب کے رکھوالے
تین جون سن 1989 میں سپریم لیڈر خمینی کے انتقال کے بعد علی خامنہ ای کو نیا رہنما چنا گیا۔ انہتر سالہ خامنہ ای اس وقت ایران میں سب سے زیادہ طاقتور شخصیت ہیں اور تمام ریاستی ادارے ان کے تابع ہیں۔
تصویر: Reuters/Official Khamenei website
12 تصاویر1 | 12
ایک نیوز کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ نے کہا، ''وہ لوگ جو ابھی ایران میں موجود ہیں، ان کے گھر واپس آنے کا وقت آگیا ہے۔ جو لوگ ایران جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ نہ جائیں۔''
تہران اور اوٹاوہ کے کشیدہ تعلقات
اس پابندی کے بعد کینیڈا میں پہلے سے موجود ایرانی حکومت کے موجودہ اور سابق اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ تفتیش کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
ایران اور کینیڈا کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔ اوٹاوا نے سن 2012 میں تہران کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔
تاہم یہ تعلقات سن 2020 میں اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب ایران نے ایک طیارہ مار گرایا، جس میں درجنوں کینیڈین شہری اور وہاں کے مستقل رہائشی سوار تھے۔
وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی قیادت میں کینیڈین حکومت نے پہلے دباؤ کے باوجود آئی آر جی سی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم برسوں کے مستقل دباؤ کے بعد بالآخر یہ فیصلہ کر لیا گیا۔