1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کییف میں مظاہروں پر پابندی کے خلاف احتجاج، درجنوں زخمی

عابد حسین20 جنوری 2014

یوکرائن میں مظاہروں پر پابندی کے نئے قانون کے نفاذ کے خلاف دارالحکومت کییف میں کم از کم دو لاکھ افراد نے حکومت مخالف مظاہرے میں شرکت کی ہے اور اِسی مظاہرے میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں زخمی بھی ہوئے۔

مشتعل مظاہرین پولیس پارٹی پر حملہ کرتے ہوئےتصویر: Reuters/Gleb Garanich

اتوار کے روز کییف میں ہونے والی خونی جھڑپوں میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کا بتایا گیا ہے۔ اِن میں کم از کم ستر پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ مظاہروں پر پابندی کے نئے قانون کے نفاذ پر کم از کم دو لاکھ افراد نے صدر یانوکووچ کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا۔ ملکی پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب بپھرے ہوئے مظاہرین نے پولیس کی بسوں اور گاڑیوں کو نذر آتش بھی کر دیا۔ مظاہرین نے پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں پتھر پھینکنے کے علاوہ اُن پر پٹرول بم بھی پھینکے۔ پولیس نے جواباً مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے ساتھ ساتھ تیز دھار والے پانی اور خوفزدہ کر دینے والے گرینیڈ بھی پھینکے۔

اپوزیشن لیڈر وتالی کلٹچکو پر بھی مظاہرین نے آگ بھانے والا مواد پھینکاتصویر: Reuters/Gleb Garanich

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران بعض مواقع پر پولیس نے ربر کی گولیوں کا بھی استعمال کیا۔ اتوار کے روز کے مظاہروں کا اندازہ لگاتے ہوئے کییف میں امریکی سفارت خانے کے بیان میں حکومت اور مظاہروں کی قیادت کرنے والے اپوزیشن لیڈروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کے عمل کا آغاز کریں تاکہ گزشتہ دو ماہ سے تعطل کی پیدا شدہ فضا کا خاتمہ ہوسکے۔ امریکی سفارت خانے کے بیان میں صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ صرف مذاکرات ہی اِن مظاہروں کو مزید پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔

اتوار کے روز دارالحکومت کییف میں مظاہرین نے پانچ بسوں اور دو ٹرکوں کو آگ لگا دی۔ سارا دن شہر کی فضا اِن گاڑیوں اور آنسو گیس کے دھوئیں سے بوجھل رہی۔ مظاہروں میں کئی افراد نے اپنے چہروں کو اسکارف سے ڈھانپ رکھا تھا۔ کئی مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور لوہے کی زنجیریں بھی تھیں۔ ان سے وہ پولیس اہلکاروں پر حملے بھی کرتے رہے۔ کییف کے محکمہٴ صحت کے مطابق دو درجن زخمی مظاہرین کو مرہم پٹی کی سہولت دی گئی جب کہ تین شدید زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کر لیا گیا ہے۔ اِن کے علاوہ ستر پولیس اہلکاروں بھی زخمی ہوئے۔ ایک پولیس اہلکار پر مظاہرین نے شدید تشدد بھی کیا اور وہ گہرے صدمے کی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا۔

مشتعل مظاہرین پولیس کی بس کو توڑتے ہوئےتصویر: Reuters/Gleb Garanich

یوکرائن کے دارالحکومت میں گزشتہ دو ماہ سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرے کرنے والے یورپ نواز خیال کیے جاتے ہیں۔ نئے قانون کے تحت گرفتار شخص کو کم از کم پانچ برس تک کی قید سنائی جا سکے گی۔ اسی طرح ہیلمٹ یا ماسک پہنے ہوئے مظاہرین کی حراست بھی نئے قانون میں شامل ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یانوکووچ نے اِس قانون کا نفاذ اپنے حلیف روسی صدر ولادیمیر پوٹین کے انداز میں کیا ہے۔ پوٹن نے بھی تیسری مدت صدارت کا آغاز حلف سنبھالنے کے بعد مظاہروں پر پابندی کے قانون سے کیا تھا۔

یوکرائن کے عالمی شہرت یافتہ باکسر اور اپوزیشن لیڈر وتالی کلٹچکو نے اتوار کے روز صدر وکٹور یانوکووچ سے ملاقات کی۔ وتالی کلٹچکو نے صدر کو ملاقات کے دوران مشورہ دیا کہ وہ صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچاتے ہوئے مفاہمت کی راہ اختیار کریں۔ یانوکووچ نے جواباﹰ کہا کہ آج پیر سے ایک خصوصی کمیشن اپوزیشن سے ملاقاتیں کر کے بحران کو حل کرنے کی راہ تلاش کرے گا۔ ملاقات سے قبل کلٹچکو نے تقریر کرتے ہوئے یانوکووچ کو خبردار کیا تھا کہ وہ رومانیہ کے چاوسیسکو اور لیبیا کے قذافی کے انجام کو سامنے رکھیں۔ انہوں نے صدر کو مشورہ دیا کہ وہ جلد از جلد انتخابات کا اعلان کریں تاکہ حالات مزید خراب ہونے سے بچ سکیں۔ دوسری جانب عوامی سطح پر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اپوزیشن سیاستدان اپنے اختلافات میں گم ہیں اور مقید خاتون رہنما ٹیموشینکو کی رہائی پر فوکس نہیں ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں