1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’گلگت بلتستان: الیکشن ترامیمی ایکٹ 2017ء کی صریح خلاف ورزی‘

کشور مصطفیٰ | صلاح الدین زین
13 نومبر 2020

آئندہ اتوارکوگلگت بلتستان میں قانون سازاسمبلی کا الیکشن ہونےجا رہا ہے۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیرکے چند حلقے اس کےخلاف ہیں۔ کیا اس میں دہلی اوراسلام آباد کےمابین کسی قسم کی مفاہمت کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے؟ ڈی ڈبلیوکا تجزیہ۔

Pakistan Wahlen in Gilgit-Baltistan (Bildergalerie)
تصویر: DW/S. Raheem

 

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیم حریت کانفرنس اور بعض دیگر حلقے بھی گلگت بلتستان میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کے خلاف ہیں۔ الیکشن کرانے کے پیچھے کیا نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین کسی قسم کی مفاہمت کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے؟ ڈی ڈبلیو کا خصوصی تجزیہ۔

گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے الیکشن 15 نومبر کو ہونے جارہے ہیں۔ انتخابات سے پہلے شمالی پاکستان کا قدرتی حسن سے مالا مال یہ علاقہ درجنوں سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور ان کے لیڈران اور کارکنان غیر معمولی طور پر متحرک نظر آ رہے ہیں۔ خاص طور سے پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور حکمران پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان میں اپنے اپنے ووٹ بینکس بنانے اور زیادہ سے زیادہ پاپولر ووٹ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس وقت ملکی سیاست کا دھارا پوری طرح سے گلگت بلتستان کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق اور پارلیمان میں عوامی نمائندگی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے صوبے کا درجہ دینے کا حکومتی اعلان پاکستان سمیت پورے خطے  کی سیاست کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین و مبصرین اس کے مُضمرات پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈال رہے ہیں۔

بھارت کی طرف سے مخالفت

اُدھر بھارت، پاکستان کے ان اقدامات کی مخالفت کرتا رہا ہے اور کشمیر کی علیحدگی پسند جماعتیں بھی پاکستانی اقدامات سے خوش نہیں ہیں اور متنازعہ علاقے میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کی مخالف ہیں۔ حریت کانفرنس نے گلگت  بلتستان کے ایک نیا صوبہ بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو سے خصوصی بات چیت میں میر واعظ عمر فاروق کے معتمد خاص شمس الرحمان نے کہا، ''کشمیر کی سن47 سے پہلے کی جو پوزیشن تھی وہ بحال رہنی چاہیے اور کسی ایک ملک کی جانب سے یکطرفہ اقدامات سے اس کی تاریخی نوعیت اور متنازعہ حیثیت متاثر نہیں ہو گی۔ یکطرفہ اقدامات کشمیری عوام کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں ہیں۔‘‘

حریت کا کہنا ہے کہ جب تک اس پورے متنازعہ خطے پر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے اس کا کوئی دیرپا حل نہیں نکلتا اس وقت تک کسی بھی ملک کی جانب سے اس طرح کے یکطرفہ اقدامات قطعی قابل قبول نہیں ہیں۔

بھارت کی مخالفت کیوں؟

جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئر مین ڈاکٹر نعیم احمد نے ڈی ڈبلیو اُردو کی طرف سے کیے گئے اس سوال کے جواب میں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے پر بھارت کیوں منفی رد عمل دکھا رہا ہے؟ ڈاکٹر نعیم کا کہنا تھا،'' گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے کشمیر کا حصہ ہے اور  پاکستان اور بھارت دونوں ہی کشمیر کے دعویدار ہیں۔ بھارت اس علاقے میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان انیس سو اڑتالیس میں جو جنگ ہوئی تھی تب پاکستان نے کشمیر کا ایک حصہ بھارت سے چھڑوا کر اسے اپنی عملداری میں لیا تھا، 1949ء کی سیز فائر لائن کے تحت کشمیر کا یہ ٹکڑا اور گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ بن گئے لیکن یہ اب بھی متنازعہ خطے کی حیثیت رکھتا ہے جس میں کوئی رد و بدل نہیں کی جا سکتی۔‘‘

گلگت بلتستان کا خطہ بھی جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے کا حصہ ہے

ڈی ڈبلیو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ریسرچ اور کمیونیکیشن سیل کی ایک رکن فہمیدہ برچا سے رابطہ کیا جو اس وقت وہاں موجود ہیں۔ گلگت بلتستان کو پہلی بار صوبے کی حیثیت دینے کی پاکستانی حکومت کے فیصلے کے پیچھے کون سے عوامل کارفرماں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں فہمیدہ برچا کا کہنا تھا،''اس فیصلے کے پیچھے بہت سے عوامل ہیں جیسے کہ سی پیک جیسے منصوبوں میں ہونے والی بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی ضوابط کے مطابق ضمانت۔ اس کےعلاوہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی طرف سے ستر سال سے چلائی جانے والی الحاق کی تحریک۔ خاص کر پچھلے پانچ سالوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی گلگت بلتستان کے علاقے کو مرکزی دھارے میں لانے  کے  لیے ایک بھرپور مہم چلائی ہے۔ ایک عمومی خیال یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بھی اب سی پیک کے معاملات اور خاص طور پہ اگست 2019ء میں بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم کر کے اسے یونین ٹیرٹری بنانے کے فیصلے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے موضوع پر نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے۔‘‘

ایل او سی پر بسنے والوں کی آواز

گلگت بلتستان کے علاقے میں ایل او سی( لائن آف کنٹرول) پر بسنے والے لوگ اور اس سے قریب واقع کارگل کے رہنماؤں کا موقف قدرے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے گلگت بلتستان کا مسئلہ بھی گزشتہ 70 برسوں سے التوا کا شکار رہا ہے اور اسی لیے خطے کے لوگ آزادی کے وقت سے ہی تمام آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک اس متنازعہ خطے کا کوئی دیرپا حل نہیں نکلتا اس وقت تک انہیں خود مختاری عطا کر کے آئینی حقوق اور کچھ اختیارات دیے جائیں۔ کارگل کے معروف سماجی کارکن اور سرکردہ سیاسی شخصیت سجاد کرگلی کہتے ہیں کہ پاکستان بھی بھارت کی طرح گلگت بلتستان میں مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتا رہا ہے۔ ڈوئچے ویلے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا،''ہم چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو بھی ریاست کا درجہ ملے لیکن یہ درجہ اسی خود مختاری کی شرط پر دیا جانا چاہیے جیسے کشمیر میں دفعہ 370 کے تحت کشمیریوں کو خصوصی آئینی اختیارات حاصل تھے۔ اس میں وہاں کی آبادی اور ان کے تشخص کا خاص خیال ہونا چاہیے۔ یہ دیرپا حل تو نہیں ہے تاہم حل ہونے تک علاقے کے لوگوں کو کچھ تو آئینی حقوق ملیں گے جس سے وہ ایک عرصے سے محروم ہیں''۔

کارگلی نے مزید کہا کہ اس مسئلے پر بھارتی حکومت، حریت کانفرنس اور یسین ملک کا بھی تقریبا ًیکساں موقف ہے۔ سب یہ چاہتے ہیں کہ حالات جوں کے توں برقرار رہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ سجاد کرگلی کے مطابق اس معاملے میں بھارتی حکومت یا تو پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی ہے یا پھر دونوں ملکوں میں کوئی خفیہ سمجھوتہ ہے، ''گزشتہ ستر برسوں سے پاکستان گلگت بلتستان کو ضم نہیں کر سکا تھا لیکن بد قسمتی سے پانچ اگست 2019ء کو بھارت نے کشمیر کے ساتھ جو کچھ کیا اس نے پاکستان کو بھی یہ سب کرنے کا مکمل جواز فراہم کر دیا۔'' ان کا کہنا تھا، ''بھارتی حکومت بھی علاقے کی عوام کے مفاد کے حوالے سے بات نہیں کرتی ہے بلکہ پاکستانی اقدامات کی نفی کے لیے بیان بازی کرتی رہتی ہے۔ وہاں کے عوام کے حقوق کے لیے بھارت بھی آواز نہیں اٹھاتا ہے۔'' انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے شیڈول فور کے تحت وہاں کے قومی رہنماؤں کو گرفتار کیا تھا اور ان میں سے اب بھی بہتوں کو کھلے عام انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہے۔

کارگلی کے بقول، ''جیسے یہاں بھارتی حکومت عوام کو دبانے کے لیے پی ایس اے جیسے قوانین کا استعمال کرتی ہے وہاں پاکستان شیڈول فور کا استعمال کر تا ہے۔ تو خطے کی دونوں جانب کی عوام کو ایسی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔''

ماہرعلوم بین الاقوامی تعلقات ڈاکٹر نعیم احمد کا بھی یہی کہنا ہے کہ دونوں اطراف کے عوام مکمل خود مختاری چاہتے ہیں۔ اس لیے دونوں حکومتوں کو اس متنازعہ خطے کے عوام کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارت کو کشمیر میں دفعہ 370 کے تحت کشمیریوں کے خصوصی آئینی اختیارات منسوخ کرنے پر اور پاکستان کو گلگت بلتستان کو پانچویں صوبے  کی حیثیت دینے پر۔

کشمیریوں کا موقف کمزور ہوا ہے 

ڈاکٹر نعیم احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار یہ ہو رہا ہے کہ کسی علاقے کو آئینی طور پر صوبے کی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اس سے شاید گلگت بلتستان کے عوام کو تو کسی حد تک اپنے حقوق کے حصول میں آسانی ہو اور وہ اس سے خوش ہوں مگر کشمیریوں کا موقف اس سے کمزور ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں،''کشمیریوں کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ یہ متنازعہ خطہ ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔‘‘

کیا نئی دہلی اور اسلام آباد کے بیچ ان معاملات میں کوئی مفاہمت کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر نعیم نے کہا،'' گزشتہ اگست میں کشمیر کے حوالے سے بھارت نے جو اقدام کیا تھا، اُس کا پاکستان کی طرف سے کوئی بہت شدید رد عمل سامنے نہیں آیا تھا بلکہ محض بیان بازی تھی۔ اب پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کو آئینی طور پر صوبے کی حیثیت دینے کا اعلان اس طرف نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں طرف حکومتوں کے مابین ایک )ٹیکٹکس انڈراسٹینڈنگ( ہے۔ بھارت کی طرف سے بھی اس پر بیان بازی اور لفظی مذمت ہو گی مگر کسی عملی ایکشن کی ہمیں امید نہیں ہے۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ریسرچ اور کمیونیکیشن سیل کی رکن فہمیدہ برچا نے اس بارے میں ڈوئچے ویلے کو اپنا بیان دیتے ہوئے کہا،'' بحیثیت ایک نام نہاد متنازعہ خطے کے باشندے کے طور پر  میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کے پاس سب سے بڑا جواز گلگت بلتستان کے عوام کا عزم اور جدوجہد ہے جو انہوں نے پچھلے ستر سال میں اس ملک سے الحاق کے لیے پر امن طور طریقے سے کی ہے۔ یہ دنیا کی تاریخ کی انوکھی تحریک ہے، جو زبردستی متنازعہ قرار دیے گئے ایک خطے کے لوگوں کی طرف سے اس ملک سے مکمل الحاق کے لیےچلائی  گئی۔ جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت میں تبدیلی، آرٹیکل 370 کو ختم کرنے اور 35-A میں ترامیم کے بعد بھارت کی طرف سے گلگت بلتستان کے آئینی اور سیاسی حیثیت میں تبدیلی پراحتجاج کرنے کا کوئی معقول جواز نہیں بنتا۔ کیونکہ بھارت نے خود تنازعہ کشمیر کے حوالے سے موجود اقوام متحدہ کی قرار دادوں  کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ طور پہ جموں وکشمیر کو انڈین یونین کا حصہ ڈیکلیئر کیا ہے ۔‘‘

اتوار کے انتخابات سے عوام کی توقعات

فہمیدہ برچا سے جب ہم نے پوچھا کہ وہ وہاں موجود ہیں اور الیکشن سے پہلے کی صورتحال دیکھ رہی ہیں، ان کے خیال میں گلگت بلتستان کے عوام کیا توقعات رکھتے ہیں،؟ تو ان کا جواب تھا،''انتخابات کے انعقاد سے عوام عمومی طور پہ مطمئن ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ 2009ء میں جو کمزور سیاسی عمل اس خطے میں شروع کیا گیا تھا وہ جاری رہے۔ لوگ بہت بڑی تعداد میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں جو کہ نظام پہ اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ ساری سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین گلگت بلتستان پہنچے ہوئے ہیں اور عوام کی بہت بڑی تعداد ان کی ریلیوں میں شرکت کر رہی ہے۔ انتخابی عمل میں اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں  کے لیے چھ سو کے قریب امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے، جن میں سے بہت سارے لوگ انتخابات میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔‘‘
فہمیدہ برچا نے مزید کہا،'' اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور پاپولر عوامی رائے کے مطابق تحریک انصاف کی مرکزی حکومت، الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے اپنے فرائض کی ادائیگی آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر نہیں کر رہے۔ مثلآ مرکزی حکومت کے وزراء گلگت بلتستان میں الیکشن مہم چلا رہے ہیں جو کہ الیکشن امینڈمنٹ ایکٹ 2017ء کی صریح خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن پوسٹل بیلٹس کے حوالے سے آنے والی شکایات، مرکزی حکومت کے وزراء کو انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل دھاندلی سے روکنے اور چند حلقوں میں فرقہ وارانہ اور کالعدم جماعتوں کے دباؤ پر انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے عمل سے روکنے میں مکمل طور پہ ناکامی کا شکار ہیں۔ مبصرین کے مطابق عوام چاہتے ہیں کہ انتخابات  کا انعقاد آزادنہ اور شفاف ہو اور اس کے نتیجے میں بننے والی نمائندہ اسمبلی کی قراد داد سے گلگت بلتستان کے مستقبل کی حیثیت کا تعین کیا جائے۔‘‘

کشور مصطفیٰ، زین صلاح الدین

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں