1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہہانگ کانگ

ہانگ کانگ آتشزدگی حادثہ، ہلاک شدگان کے لیے تعزیتی تقریبات

رابعہ بگٹی ایجنسیاں ، ادارت: امتیاز احمد
29 نومبر 2025

ہفتے کو ہانگ کانگ کے رہنما جان لی اور دیگر سرکاری ملازمین نے سیاہ لباس زیب تن کیا اور مرکزی حکومتی دفاتر کے باہر تین منٹ کی خاموشی اختیار کی، جبکہ قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو جان لی اور دیگر سرکاری اہلکار 29 نومبرکو وانگ فوک کورٹ کی رہائشی املاک کی آگ کے متاثرین کے سوگ میں تین منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہوئے۔
ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو جان لی اور دیگر سرکاری اہلکار 29 نومبرکو وانگ فوک کورٹ کی رہائشی املاک کی آگ کے متاثرین کے سوگ میں تین منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہوئے۔تصویر: Peter Parks/AFP/Getty Images

ہانگ کانگ کے ضلع تائی پو میں واقع وانگ فوک کورٹ رہائشی کمپلیکس میں گزشتہ بدھ کو لگنے والی خوفناک آگ سے اب تک 128 افراد ہلاک اور 150 لاپتہ ہو چکے ہیں۔

مقامی پولیس نے تقریباً 80 برسوں میں شہر میں بدترین آتشزدگی کے الزام میں 14 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ وانگ فوک کورٹ کمپلیکس میں تعمیراتی کام کی کے لیے ممکنہ بدعنوانی اور غیر محفوظ تعمیراتی مواد کے استعمال کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

ضلع تائی پو میں امدادی کارروائیاں گزشتہ روز مکمل ہوئیں، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں کئی عمارتوں کی خستہ حالت کے پیشِ نظر مزید لاشیں ملنے کا امکان ہے۔

پولیس نے ہفتے کے روز بتایا کہ کچھ افراد اپنے پیاروں سے دوبارہ رابطے میں آ گئے ہیں، جنہیں ابتدائی طور پر لاپتہ قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد 200 سے کم کر کے 150 کر دی گئی ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں پولیس نے کہا کہ امدادی کارروائیاں کرنے والی ٹیم کو مزید لاشیں نہیں ملیں۔

ہانگ کانگ کے تائی پو ڈسٹرکٹ میں ایک خاتون وانگ فوک کورٹ کے باہرمرنے والوں کی یاد میں پھول رکھنے سے پہلے دعا کر رہی ہیں تصویر: Philip Fong/AFP/Getty Images

حادثہ کب اور کیسے ہوا؟

تائی پو میں واقع ایک ایپارٹمنٹ کمپلیکس میں رواں ہفتے بدھ کی دوپہر لگنے والی خوفناک آگ نے یکے بعد دیگر سات عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم ایک سو اٹھائیس ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ شہر کی تاریخ کی مہلک ترین آگ میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ہانگ کانگ فائر سروسز کے مطابق فائر فائٹرز نے جمعہ کے روز سرچ آپریشن کے دوران درجنوں مزید لاشیں برآمد کیں۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ لاشیں اس قدر بری طرح جل چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔ حکام نے میڈیا کو بتایا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ تحقیقات کا عمل کم از کم تین سے چار ہفتے تک جاری رہے گا۔

حکام نے ہفتے کے روز پورے ملک میں بلند و بالا عمارتوں، خصوصاً رہائشی بلاکس کی تعمیرات کے دوران آگ لگنے کے سبب کی ہنگامی جانچ پڑتال کا حکم جاری کیا ہے۔
لاشوں کی تلاش جاری

حکام کے مطابق متعلقہ عمارت میں فائر الارم مناسب طور پر کام نہیں کر رہے تھے، جہاں ساڑھے چار ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔

ہانگ کانگ کی ہوم سیکرٹری ایلس میک نے کہا کہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے میں تین سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز جن دو بلاکس میں امدادی کام جاری تھا وہاں نسبتا کم نقصان ہوا ہے تاہم لاشوں کی تلاش اب بھی جارہی ہے۔

ہانگ کانگ کے رہائشی ٹاورز میں ہولناک آگ

01:00

This browser does not support the video element.

سوگ کا ماحول

مرنے والوں کے اہل خانہ اور سوگواران متاثرہ عمارت کے اطراف میں جمع ہوئے اور پھولوں کے گلدستے رکھے۔

ستاسٹھ سالہ کرسٹی تانگ کے ایک دوست اس حادثے میں ہلاک ہوئے۔ ان کہا کہنا ہے، "ہم نے لاشوں کی تصاویر دیکھ کر اس کی شناخت کرنے کی کوشش کی لیکن ایسا ممکن نہیں۔"

انڈونیشیا اور فلپائن سے تعلق رکھنے والی کئی گھریلو ملازمائیں بھی اس سانحے کا شکار ہوئیں۔ ہانگ کانگ میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ سے زائد گھریلو ملازمین کام کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر کم آمدنی والے ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین ہیں، جو اکثر اپنے آجروں کے ساتھ ہی تنگ مکانات میں رہائش پذیر ہوتی ہیں۔

انڈونیشیا کے مطابق اس حادثے میں اس کے سات شہری ہلاک ہوئے۔ فلپائن کے مطابق اس کا ایک شہری شدید زخمی ہے، ایک لاپتہ ہے اور 28 ایسے افراد ہیں جو ممکنہ طور پر اس علاقے میں مقیم تھے لیکن اُن کا سراغ نہیں مل سکا۔

28 سالہ فلپائنی خاتون روڈورا الکاراز جو زخمی حالت میں زندہ بچ گئیں، نے اپنی بہن ریشیل لوریٹو کو بتایا کہ انہوں نے اپنے آجر کے تین ماہ کے بچے کو گیلے کمبل میں لپیٹ دیا تھا، جبکہ وہ دونوں کئی گھنٹوں تک دھوئیں سے بھرےکمرے میں پھنسے رہے اور بعد میں فائر فائٹرز نے انہیں نکالا۔

 1948 کے بعد سب سے مہلک آگ

یہ ہانگ کانگ کی 1948ء کے بعد سب سے ہلاکت خیز آتشزدگی ہے۔ ہانگ کانگ کے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے روئٹرز کو بتایا کہ وانگ فوک کورٹ کے رہائشیوں کو گزشتہ سال مطلع کیا گیا تھا کہ وہ آگ لگنے کے خطرے سے محفوظ ہیں، ہالانکہ رہائشیوں نے عمارت کی تعمیر کے دوران درپیش ممکنہ خطرات پر بارہا شکایتیں کی تھیں۔

مہلک آتشزدگی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں لوگ وانگ فوک کورٹ کے باہر پھول رکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ تصویر: Philip Fong/AFP/Getty Images

محکمے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ستمبر 2024 میں رہائشیوں نے متعدد خدشات کا تذکرہ کیا تھا جن میں اس سبز حفاظتی جالی کا ذکر بھی شامل تھا جو ٹھیکیداروں نے بانس کے ڈنڈوں کے سہارے نصب کی تھی۔ یہ جالی ہی ممکنہ طور پر آتش گیر ثابت ہوئی۔

تعمیراتی عمارتوں میں بدعنوانی کے خلاف لیبر ڈیپارٹمنٹ نے جمعے کے روز آٹھ مزید افراد کو گرفتار کیا۔ ان میں ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ اور ایک سب کنٹریکٹر شامل ہیں۔ اس سے قبل پولیس نے پریسٹیج کنسٹرکشن کے دو ڈائریکٹرز اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو بھی حراست میں لیا تھا۔
آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

کئی رضاکار جمعے کے روز شہر بھر میں پمفلٹ تقسیم کرتے نظر آئے جن میں حکومتی سطح پر جوابدہی، ممکنہ بدعنوانی کی آزادانہ تحقیقات، رہائشیوں کے لیے مناسب متبادل رہائش اور تعمیراتی نگرانی کے نظام کے جائزے کا مطالبہ کیا گیا۔

ایک آن لائن پٹیشن پر ان مطالبات کے لیے ہفتے کی دوپہر تک تقریباً 10 ہزار دستخط جمع ہو چکے تھے۔

اس آتشزدگی کے بعد سوالات کا رخ تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ حکومتی ریگولیٹرز تک جا پہنچا ہے۔ ہانگ کانگ میں چین کے قومی سلامتی کے دفتر کے ایک ترجمان نے آج ایک بیان میں کہا کہ وہ سختی سے اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ حکومت اُن تمام افراد کو سخت سزا دے جو ہانگ کانگ کو نقصان پہنچانے کے لیے اس حادثے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں