1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ہانگ کانگ: جمہورت نوازوں کی پولیس سے جھڑپیں

عابد حسین29 نومبر 2014

چین کے خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ میں ہفتہ 29 نومبر کی صبح پولیس اور جمہوریت نواز مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پولیس کی کوشش ہے کہ وہ شہر کے سب سے انتشار والے علاقے میں قانون کی عملداری کو بحال کرے۔

Hongkong Räumung nach Protest 26.11.2014
تصویر: Reuters/Bobby Yip

چینی علاقے ہانگ کانگ میں گزشتہ چند ہفتوں سے جمہوریت کے حق میں مظاہرہ کرنے والے افراد کے ساتھ پولیس کی جھڑپوں سے حالات میں مزید خرابی کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ پولیس کی کوشش ہے کہ ہانگ کانگ کے سب سے زیادہ بد امنی والے ڈسٹرکٹ مونگ کوک پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے صورت حال کو بہتر کیا جائے تا کہ مقامی رہائشیوں کے کاروباری معاملات آگے بڑھ سکیں۔ ایسے خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ مونگ کوک کا علاقہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تناؤ اور جھڑپوں کا مرکز بن سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق کئی ہفتوں سے پولیس کے صبر کا پیمانہ بھی اب چھلکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور وہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بیجا قوت کا استعمال کرنے سے گریز نہیں کر رہی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان مسلسل تناؤ کی کیفیت موجود ہے۔ ڈنڈا بردار پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش میں ہے۔ طبی ذرائع نے کئی مظاہرین کے زخمی ہونے کا بتایا۔ ان کے مطابق کئی احتجاجیوں کے سروں پر زخم آئے ہیں۔ پولیس کے اہلکار مرچوں کے اسپرے اور آنسو گیس کے ساتھ بھی لیس ہیں۔ ہفتے کی صبح بھی مظاہرین نے تقریباً تین گھنٹے مظاہرہ کیا اور وہ مزید جمہوریت کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان مسلسل تناؤ کی کیفیت موجود ہےتصویر: Reuters/Liau Chung-ren

ہانگ کانگ کی انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان کئی ہفتوں سے تنازعے کے حل کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین اپنے مؤقف پر ڈٹے ہیں تو انتظامیہ بھی بیجنگ حکومت کی ہدایات کی پاسداری کر رہی ہے۔ سن 1997 میں ہانگ کانگ کی انتظامی عملداری برطانوی حکومت نے چین کے سپرد کر دی تھی اور حالیہ مظاہروں کا سلسلہ خصوصی اختیارات کی حامل انتظامیہ کا امتحان اور آزمائش بن کر رہ گیا ہے۔ گزشتہ تین راتوں سے مونگ کوک کے ضلع میں صورت حال کافی کشیدہ ہے۔ اِس دوران پولیس نے بدھ کے روز ایک سو سے زائد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں طلبہ رہنما جوشوا وونگ اور لیسٹر شوم بھی شامل ہیں۔

جمعے کے روز انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہانگ کانگ میں مظاہرین کے خلاف پولیس فورس کے بیجا استعمال کی مذمت کی ہے۔ طلبہ لیڈران جوشوا وونگ اور لیسٹر شوم کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں پیٹتے ہوئے گرفتار کیا ہے۔ کئی اور مظاہرین کے ساتھ بھی پولیس نے ناروا سلوک روا رکھا۔ پولیس کارروائی کے خلاف ہانگ کانگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے حکام کو باقاعدہ شکایت درج کروانے کے علاوہ آج ہفتے کے روز احتجاج کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ ہانگ کانگ میں مظاہروں کے سلسلے کو دو ماہ ہونے والے ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں