ہر بالغ شخص کے لیے ماہانہ ڈھائی ہزار ڈالر، سوئس ریفرنڈم
شمشیر حیدر1 جون 2016
سوئٹزرلینڈ میں پانچ جون کو ایک ریفرنڈم کا انعقاد ہو رہا ہے، جس میں سوئس عوام اس بارے میں فیصلہ کریں گے کہ ملک بھر میں ہر بالغ شخص چاہے وہ کام کرے یا نہ کرے، اسے ماہانہ کم از کم ڈھائی ہزار ڈالر کے برابر رقم ملنی چاہیے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/G. Ehrenzeller
اشتہار
کم از کم ماہانہ آمدنی کا خیال بہت سادہ سا ہے، یعنی اگر آپ بالغ ہیں اور آپ کام کرتے ہوں یا نہ کرتے ہں، آپ کو کم از کم پچیس سو ڈالر ماہانہ کے برابر رقم ملتی رہے گی جب کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو بھی چھ سو ڈالر ماہانہ کے برابر ادائیگی کی جائے گی۔ سوئس عوام پانچ جون کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے اسی بات کا فیصلہ کریں گے۔
سوئس حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی حمایت میں ووٹ نہ ڈالیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کم از کم آمدن مقرر کرنے سے نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا بلکہ یہ اقدام معاشرے کو بھی متاثر کرے گا۔ بعض ماہرین نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ اگر کام کیے بغیر ہر بالغ شخص کو ماہانہ خرچہ دے دیا گیا، تو لوگوں میں کام کرنے کا رجحان بھی ختم ہو جائے گا۔
دوسری جانب اس کے حق میں مہم چلانے والوں کی رائے میں ایسا نہیں ہو گا بلکہ ان کی رائے میں ہر شہری کو کم از کم رقم مہیا کرنے سے نہ صرف ایک باوقار معاشرہ تشکیل پائے گا بلکہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں، جب کہ انسانوں کے بجائے مشینوں سے زیادہ کام لیا جا رہا ہے، عوامی فلاح و بہبود کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
گزشتہ مہینے ہر کسی کے لیے کم از کم لازمی ماہانہ آمدنی کے حق میں مہم چلانے والے کارکنوں نے دنیا کا سب سے بڑا بینر بھی تیار کیا تھا جسے گِنیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس بینر پر سنہری حروف میں درج تھا، ’’اگر آپ کو خرچہ حکومت دے تو آپ کیا کام کریں گے؟‘‘
بالغ شہریوں کو کم از کم پچیس سو سوئس فرانک جب کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو چھ سو سوئس فرانک ماہانہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہےتصویر: picture-alliance/dpa/S.Stache
اس بارے میں مہم چلانے والی سماجی تنظیم ’بنیادی آمدنی سوئٹزرلینڈ‘ کی خاتون ترجمان ماریلولا وِیلی کا کہنا ہے، ’’ہم اس ریفرنڈم کے ذریعے یہ چاہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے ہر شہری کو زندہ رہنے کے لیے کافی رقم دستیاب ہو۔‘‘
کم از کم ماہانہ اجرت کا خیال نیا تو نہیں ہے لیکن سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والی اس مہم کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ فن لینڈ نے بھی اس منصوبے پر نظر رکھی ہوئی ہے اور سوئٹزرلینڈ میں اس کی کامیابی کی صورت میں اسے فن لینڈ میں بھی آزمایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح جرمنی میں بھی ایسی ہی مہم شروع ہو چکی ہے۔ اگرچہ جرمنی میں برسر اقتدار چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ ملک میں ایسے کسی ریفرنڈم کی حمایت نہیں کرے گی تاہم اب جرمنی میں ایک سماجی تنظیم نے ایک لاکھ سے زائد افراد کے دستخطوں کے ساتھ ایک درخواست جمع کرا دی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جرمنی میں بھی ایسا ہی ایک ریفرنڈم پراجیکٹ شروع کیا جائے۔
سوئٹزرلینڈ میں دنیا کی طویل ترین سرنگ
سوئٹزرلینڈ میں یکم جون کو دنیا کی طویل ترین سرنگ کا افتتاح ہو رہا ہے۔ ایلپس کے پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی ستاون کلومیٹر طویل یہ سرنگ ایرسٹ فیلڈ اور بوڈیو نامی خوبصورت دیہات کو آپس میں ملائے گی۔
تصویر: picture-alliance/dpa/B. Settnik
ایک عظیم منصوبہ
گوٹفریڈ بیسک ٹنل (GBT) سرنگ 17 برسوں میں مکمل ہوئی۔ اس دوران بڑی بڑی بورنگ مشینوں کی مدد سے سوئٹزرلینڈ کے سلسلہٴ کوہ ایلپس میں سے تقریباً 28 ملین ٹن چٹانی مادے نکال کر سرنگ کھودی گئی۔ پھریہ مادے اس سرنگ کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیے گئے۔ یکم جون سے اس سرنگ میں سے ٹرینوں کے آزمائشی سفر تو شروع ہو جائیں گے تاہم اس طرح کے تین ہزار سفر مکمل ہونے سے پہلے اسے معمول کے سفر کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔
تصویر: picture-alliance/Keystone/M. Ruetschi
زیادہ ہموار اور آسان سفر
گوٹفریڈ نامی پرانی سرنگ میں سے دن میں ایک سو اَسّی ٹرینیں گزرا کرتی تھیں تاہم اس نئی سرنگ میں سے روزانہ دو سو ساٹھ مال بردار ریل گاڑیاں گزر سکیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ نئی سرنگ زیادہ ہموار ہے اور بھاری ٹرینوں کو لے جانے کے لیے کم انجنوں کی ضرورت پڑے گی۔ آئندہ یہ ٹرینیں زیادہ رفتار کے ساتھ بھی سفر کر سکیں گی۔
تصویر: picture alliance/KEYSTONE
مثالی منصوبے کا وقت سے پہلے اختتام
یہ منصوبہ مقررہ وقت سے ایک سال پہلے ہی اور طے کردہ بجٹ میں معمولی اضافے کے ساتھ ہی مکمل ہو گیا ہے۔ اس کی تعمیر میں انجینئروں، ماہرینِ ارضیات اور کنٹریکٹرز سمیت کوئی دو ہزار چھ سو افراد نے حصہ لیا، جن کے کام کے اوقات چار ملین گھنٹے بنتے ہیں۔
تصویر: AlpTransit Gotthard AG
ایک نیا ریکارڈ
اس سرنگ کے ذریعے سوئٹزرلینڈ نے جاپان کا طویل ترین سرنگ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ جاپان کی سائیکان نامی سرنگ کا افتتاح 1988ء میں ہوا تھا، جس کی تعمیر کے احکامات ایک ہولناک طوفان کے دوران پانچ مسافر بردار کشتیوں کے غرق ہونے کے بعد جاری کیے گئے تھے۔ تب آبنائے سُوگارُو کو محفوظ طریقے سے پار کرنے کے لیے ایک ایسے علاقے میں 53.9 کلومیٹر طویل سرنگ بنائی گئی تھی، جہاں اکثر زلزلوں کا خدشہ رہتا ہے۔
تصویر: Imago/Kyodo News
یورو ٹنل سے بھی سات کلومیٹر لمبی
فرانس اور انگلینڈ کے درمیان 50.5 کلومیٹر طویل سرنگ ’یورو ٹنل‘ کا 37.9 کلومیٹر کا حصہ سمندر کے نیچے بنایا گیا ہے اور یہ اس اعتبار سے دنیا کی طویل ترین سرنگ ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں یکم جون کو جس گوٹفریڈ سرنگ کا افتتاح ہو رہا ہے، وہ ایک تعمیراتی معجزہ قرار دی جانے والی یورو ٹنل سے لمبائی میں سات کلومیٹر زیادہ ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP/D. Charlet
گوٹفریڈ طویل ترین لیکن کب تک؟
گوٹفریڈ بیسک ٹنل اپنے دنیا کی طویل ترین سرنگ ہونے کے ریکارڈ سے سن 2026ء میں محروم بھی ہو سکتی ہے۔ تب تک BBT یعنی برینر بیسک ٹنل نامی سرنگ کے مکمل ہو جانے کا امکان ہے۔ آسٹریا اور اٹلی کے درمیان تعمیر کی جانے والی برینر سرنگ 64 کلومیٹر لمبی ہو گی۔
سوئٹزرلینڈ کی گوٹفریڈ سرنگ کی تعمیر بہت سے جرمن انجینئرز کی شرکت کے ساتھ وقت سے پہلے اور مقررہ بجٹ میں معمولی سے اضافے کے ساتھ مکمل ہو گئی۔ خود جرمنی میں معاملہ اس کے برعکس ہے، جس کی ایک مثال برلن میں شوئنے فَیلڈ کا نیا ایئرپورٹ ہے، جسے دراصل اب سے ساڑھے چار سال پہلے ہی مکمل ہو جانا چاہیے تھا۔ اس تصویر میں اس ایئر پورٹ کو جانے والی زیرِ زمین ریلوے سرنگ پر بدستور جاری تعمیراتی کام دیکھا جا سکتا ہے۔