ہم سا ہو تو سامنے آئے، ’انوکھی مِس جرمنی‘
11 جون 2015
اِمکے کو معلوم ہے کہ وہ کوئی عام گائے نہیں بلکہ وہ ماضی میں ’ مِس ایسٹ فریسیا‘ رہ چُکی ہے۔ جرمن صوبے لوور سکسنی کے شمال مغربی علاقے ایسٹ فریسیا میں گائیوں کی خوبصورتی کے مقابلے میں حصہ لے کر ’ مِس جرمنی ‘ کا ٹائٹل حاصل کرنے کے بعد اِمکے غرور سے سرشار، سر اُونچا کیے نہایت باوقار انداز میں چہل قدمی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ آخر یہ کوئی معمولی بات تو نہیں، کوئی ایسا ویسا ’بیوٹی کانٹسٹ‘ نہیں بلکہ امکے آج جمعرات 11 جون کو جرمن شہر اولڈنبرگ میں ہونے والے ’مِس جرمنی‘ مقابلے میں شرکت کر رہی ہے۔
یہ وہ مقابلہ نہیں جس میں نوجوان خواتین سوئمنگ کے لباس میں مقابلے کے میدان میں اُترتی اور اپنے دُبلے پتلے جسم کی نمائش کرتی ہیں بلکہ یہ مقابلہ ہے خوبصورت، جاندار اور وجیہہ ڈیری گائیوں کا۔
اس مقابلے کی تیاری کے لیے کئی روز سے اِمکے اور اس کی ساتھیوں کو جرمنی کے پُر فضا مقام Leer کے ایک تربیتی کیمپ میں رکھا گیا اور انہیں انتہائی خاص قسم کی غذا دی جاتی رہی۔ اِمکے کی فائنل تیاریاں مکمل ہو چُکی ہیں۔ اُسے خوب اچھی طرح غسل دیا گیا، اُس کا شیمپو ہوا، جسم کو اچھی طرح خُشک کر کے اُس پر برش پھیرا گیا اور یوں اِمکے بن سنور کر اولڈنبرگ میں منعقد ہونے والے مِس جرمنی کے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
مشرقی فریسین کی مویشی پالنے والوں کی ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والی آنے میٹے ایورز کہتی ہیں، ’’انہیں بہترین غذا دی جاتی ہے۔ ان کا چارہ آسٹریا سے آتا ہے جن میں کوہستانی سبزہ زار کی جڑی بوٹیاں شامل ہوتی ہیں‘‘۔
اس ایسو سی ایشن کی طرف سے سرخ اور سیاح چتکبری 20 گائیں اولڈنبرگ کے مقابلہ حُسن میں شامل ہونے کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ مِس جرمنی کے اس انوکھے مقابلے میں جرمنی کے مختلف علاقوں اور لگسمبرگ سے قریب 200 گائیں شامل ہو رہی ہیں۔ جرمنی کے سب سے شمال میں واقع صوبے شلسوگ ہولشٹائن کے علاقے ہولشٹائن کی مویشیوں کی تولید سے متعلق ایک انجمن کے مطابق جرمنی کے 4.3 ملین مویشیوں میں اس نسل کی گائیں سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔ روزانہ ایک گائے 25 کلو گرام غذا کھاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ذائقہ دار چارہ بھی ان کی روزانہ کی خوراک میں شامل ہوتا ہے۔
گائیوں کے اس مقابلہ حُسن کے جیوری اراکین سب سے زیادہ اس امر پر غور کریں گے اور اُن گائیوں کو زیادہ پوائنٹس ملیں گے جن کی ٹانگیں مضبوط اور جن کے ہڈیوں کا ڈھانچہ ٹھوس اور طاقتور نظر آئے گا۔ گائیوں کی خوبصورتی کا معیار اُن کے پستانی غدود کا حجم ہوگا۔ سوکھی، پتلی گائیوں کے لیے مِس جرمنی کا ٹائٹل جیتنے کے کوئی امکانات نہیں پائے جاتے۔