جرمنی میں دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی تنظیم کے صدر ہانز پیٹر وولزائفر کا کہنا ہے کہ جرمنی میں بہت سے تارکین وطن کو ان کی ہنرمندی کی وجہ سے قبول کیا گیا ہے، جب کہ ملک میں ہنرمند مزدوروں کی قلت کی وجہ سے بہت سے تارکین وطن، جو اس وقت جرمنی میں موجود ہیں اور مختلف شعبہ ہائے جات کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے بھی جگہ موجود ہے۔
جرمن کابینہ نے امیگریشن قوانین کی منظوری دے دی
’پاکستان ہنر مند افراد کو قانونی طور پر جرمنی بھیجنے کا خواہش مند‘
وولزائفر کے مطابق جرمنی کو ایسے تارکین وطن کی اشد ضرورت ہے، جو جرمن زبان جانتے ہیں، معاشرتی انضمام میں مسائل کے شکار نہ ہوں اور ہنرمند ہوں، ’’ایسے افراد کو ہم کیوں واپس بھیجیں گے؟ واپس انہیں بھیجا جا رہے ہے، جو ہنرمند نہیں اور جن کا معاشرتی انضمام آسان نہیں۔ ایسے افراد ہمیں جن کی ضرورت ہے، انہیں جرمنی میں رکھا جانا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اگر کوئی راستہ اپنایا جاتا ہے، یعنی ہنرمند افراد کو اگر جرمنی سے نکالا جاتا ہے، تو یہ ایک ’پاگل پن‘ ہو گا۔
دست کاری کی صنعت رواں برس سیاسی پناہ کے 16 ہزار متلاشی افراد کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کر رہی ہے، جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد گیارہ ہزار تھی۔
دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی تنظیم کے صدر وولزائفر کا مزید کہنا تھا، ’’میں آپ کو اپنے ذاتی تجربے سے بتا سکتا ہوں اور یہ بات میں نے سنی بھی ہے کہ یہ تارکین وطن دست کاری کی صنعت میں نہایت دل چسپی سے کام کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اسے نادر موقع سمجھتے ہیں اور یہ اس کا فائدہ اٹھانا اور جرمنی میں بسنا چاہتے ہیں۔‘‘
’اپسوس پبلک افیئرز‘ نامی ادارے نے اپنے ایک تازہ انڈیکس میں ستائیس ممالک کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ کن ممالک میں غیر ملکیوں کو مرکزی سماجی دھارے میں قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔
تصویر: picture-alliance/ dpaپچپن کے مجموعی اسکور کے ساتھ تارکین وطن کو معاشرتی سطح پر ملک کا ’حقیقی‘ شہری تسلیم کرنے میں کینیڈا سب سے نمایاں ہے۔ کینیڈا میں مختلف مذاہب، جنسی رجحانات اور سیاسی نظریات کے حامل غیر ملکیوں کو مرکزی سماجی دھارے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ ترک وطن پس منظر کے حامل ایسے افراد کو، جو کینیڈا میں پیدا ہوئے، حقیقی کینیڈین شہری کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Images/N. Denetteانڈیکس میں امریکا دوسرے نمبر پر ہے جس کا مجموعی اسکور 54 رہا۔ امریکی پاسپورٹ حاصل کرنے والے افراد اور ترک وطن پس منظر رکھنے والوں کو حقیقی امریکی شہری کے طور پر ہی سماجی سطح پر قبول کیا جاتا ہے۔
تصویر: Picture-Alliance/AP Photo/S. Senneتارکین وطن کی سماجی قبولیت کے انڈیکس میں 52 کے مجموعی اسکور کے ساتھ جنوبی افریقہ تیسرے نمبر پر ہے۔ مختلف مذاہب کے پیروکار غیر ملکیوں کی سماجی قبولیت کی صورت حال جنوبی افریقہ میں کافی بہتر ہے۔ تاہم 33 کے اسکور کے ساتھ معاشرتی سطح پر شہریت کے حصول کے بعد بھی غیر ملکیوں کو بطور ’حقیقی‘ شہری تسلیم کرنے کا رجحان کم ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP/S. Khanچوتھے نمبر پر فرانس ہے جہاں سماجی سطح پر غیر ملکی ہم جنس پرست تارکین وطن کی سماجی قبولیت دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ تاہم جنوبی افریقہ کی طرح فرانس میں بھی پاسپورٹ حاصل کرنے کے باوجود تارکین وطن کو سماجی طور پر حقیقی فرانسیسی شہری قبول کرنے کے حوالے سے فرانس کا اسکور 27 رہا۔
تصویر: Reuters/Platiau
پانچویں نمبر پر آسٹریلیا ہے جس کا مجموعی اسکور 44 ہے۔ سماجی سطح پر اس ملک میں شہریت حاصل کر لینے والے غیر ملکیوں کی بطور آسٹریلین شہری شناخت تسلیم کر لی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں غیر ملکی افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی معاشرہ حقیقی آسٹریلوی شہری قبول کرتا ہے۔
تصویر: Reutersجنوبی افریقی ملک چلی اس فہرست میں بیالیس کے اسکور کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔ ہم جنس پرست غیر ملکی تارکین وطن کی سماجی قبولیت کے حوالے سے چلی فرانس کے بعد دوسرا نمایاں ترین ملک بھی ہے۔ تاہم دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملکی مرکزی سماجی دھارے کا حصہ سمجھنے کے حوالے سے چلی کا اسکور محض 33 رہا۔
تصویر: Reuters/R. Garridoارجنٹائن چالیس کے مجموعی اسکور کے ساتھ اس درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے۔ تارکین وطن کی دوسری نسل اور ہم جنس پرست افراد کی سماجی سطح پر قبولیت کے حوالے سے اجنٹائن کا اسکور 65 سے زائد رہا۔
تصویر: Reuters/R. Garridoسویڈن کا مجموعی اسکور 38 رہا۔ ہم جنس پرست تارکین وطن کی قبولیت کے حوالے سے سویڈن کو 69 پوائنٹس ملے جب کہ مقامی پاسپورٹ کے حصول کے بعد بھی تارکین وطن کو بطور حقیقی شہری تسلیم کرنے کے سلسلے میں سویڈن کو 26 پوائنٹس دیے گئے۔
تصویر: picture-alliance/dpaتارکین وطن کی سماجی قبولیت کے لحاظ سے اسپین کا مجموعی اسکور 36 رہا اور وہ اس فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔ ہسپانوی شہریت کے حصول کے بعد بھی غیر ملکی افراد کی سماجی قبولیت کے ضمن میں اسپین کا اسکور محض 25 جب کہ تارکین وطن کی دوسری نسل کو حقیقی ہسپانوی شہری تسلیم کرنے کے حوالے سے اسکور 54 رہا۔
تصویر: picture-alliance/Eventpress
اس درجہ بندی میں پینتیس کے مجموعی اسکور کے ساتھ برطانیہ دسویں نمبر پر ہے۔ اسپین کی طرح برطانیہ میں بھی تارکین وطن کی دوسری نسل کو برطانوی شہری تصور کرنے کا سماجی رجحان بہتر ہے۔ تاہم برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد بھی تارکین وطن کو حقیقی برطانوی شہری تسلیم کرنے کے حوالے سے برطانیہ کا اسکور تیس رہا۔
تصویر: Reuters/H. Nicholls
جرمنی اس درجہ بندی میں سولہویں نمبر پر ہے۔ جرمنی میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی سماجی قبولیت کینیڈا اور امریکا کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس حوالے سے جرمنی کا اسکور محض 11 رہا۔ اسی طرح جرمن پاسپورٹ مل جانے کے بعد بھی غیر ملکیوں کو جرمن شہری تسلیم کرنے کے سماجی رجحان میں بھی جرمنی کا اسکور 20 رہا۔
تصویر: Imago/R. Peters
اکیسویں نمبر پر ترکی ہے جس کا مجموعی اسکور منفی چھ رہا۔ ترکی میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو سماجی سطح پر ترک شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس ضمن میں ترکی کو منفی بارہ پوائنٹس دیے گئے۔ جب کہ پاسپورٹ کے حصول کے بعد بھی تارکین وطن کو حقیقی ترک شہری تسلیم کرنے کے حوالے سے ترکی کا اسکور منفی بائیس رہا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/epa/AFP/A. Altan واضح رہے کہ جرمنی کی وفاقی کابینہ نے کچھ نئے ضوابط متعارف کروائے ہیں، جن کے تحت انتہائی باہنر افراد کے لیے جرمنی میں قیام کی راہ ہم وار کی گئی ہے۔ ان ضوابط کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی باہنر افراد کو کام کی اجازت دی جائے گی اور ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی جانچ پڑتال کے وقت ان کی ہنرمندی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
ع ت، الف الف (ڈی پی اے)