ہنگری ریفرنڈم : مہاجر کوٹہ منصوبہ مسترد کیے جانے کا امکان
صائمہ حیدر
2 اکتوبر 2016
توقع کی جا رہی ہے کہ ہنگری کے عوام کی ایک غالب اکثریت یورپی یونین کے تجویز کردہ تارکینِ وطن کے کوٹہ سسٹم منصوبے کو آج وہاں ہونے والے ایک ریفرنڈم میں مسترد کر دے گی۔ ہنگری کی حکومت کوٹہ سسٹم منصوبے کے خلاف ہے۔
اشتہار
یورپی یونین کا کوٹہ سسٹم منصوبہ مسترد ہونے سے نہ صرف ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان کی اپنے ملک کے اندر ساکھ میں اضافہ ہو گا بلکہ برسلز کے ساتھ مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے کوٹہ سسٹم کے منصوبے کے خلاف لڑنے کے لیے ہمت افزائی بھی ہو گی۔
سن دو ہزار دس سے وزارتِ عظمی ٰ کے منصب پر فائز اوربان کو یورپی یونین میں مہاجرت کے سخت ترین مخالفین میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے اوربان نے ہنگری کی جنوبی سرحدوں کو خار دار باڑ لگا کر بند کر رکھا ہے اور وہاں ہزاروں کی تعداد میں فوج اور بارڈر پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔
گزشتہ برس مشرقِ وسطی میں جنگ اور غربت سے متاثرہ ہزاروں کی تعداد میں تارکینِ وطن نے امیر مغربی یورپی ممالک کی جانب سفر کرتے ہوئے ہنگری کی سرحد کو پار کیا۔ اس سال ہنگری نے سرحد پار کرنے کے اٹھارہ ہزار غیر قانونی راستوں کا پتہ چلایا ہے۔
ہفتے کے روز ایک اخبار میں شائع ہوئے ایک خط میں اوربان نے ہنگری کے عوام کو ایک بار پھر یورپی یونین کو یہ پیغام دینے پر مائل کیا ہے کہ اس کی تارکینِ وطن کے حوالے سے پالیسی ناقص ہے اور اس سے یورپ کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اوربان نے اس خط میں لکھا ہے:’’ہم یورپی یونین کو یہ پیغام بھیج سکتے ہیں کہ یہ صرف ہم’’ یورپی باشندوں‘ پر منحصر ہے کہ آیا ہم سب مل کر یورپی یونین کو ہوش کے ناخن لینے پر مجبور کریں یا اسے تباہ ہونے دیں۔‘‘
ہنگری کی سرحد پر مہاجرین کی ابتر صورتحال
ہنگری میں مہاجرین سے متعلق ریفرنڈم سے قبل اس ریاست کی سرحد پر جمع سینکڑوں مہاجرین کے مصائب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم یہ لوگ انتہائی مشکلات کے باوجود اپنے مہاجرت کے سفر میں شکست تتسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
تصویر: Reuters/L. Balogh
کوئی چارہ گر نہیں
دو اکتوبر بروز اتوار ہنگری میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس ریفرنڈم میں عوام سے پوچھا جائے گا کہ کیا وہ یورپی یونین کے کوٹہ سسٹم کے تحت تارکین وطن کو ہنگری کی پارلیمان کی اجازت کے بغیر ملک میں پناہ دینے کے حق میں ہیں؟ وزیر اعظم وکٹور اوربان کی حکمران فیدس پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے سوال کا منفی میں جواب ہی ہنگری کی آزادی اور سالمیت کے حق میں ہو گا۔
تصویر: DW/D. Cupolo
یورپ داخل ہونے کے لیے نیا دروازہ
اس گیٹ کے ذریعے مہاجرین ہنگری کے علاقے کیلیبیا میں داخل ہوتے ہیں۔ سربیا اور ہنگری کی حکومتوں کے مابین ایک ڈیل کے تحت یومیہ بیس مہاجرین کو ہنگری میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان مہاجرین کی سربیا میں رجسٹریشن ہوتی ہے جبکہ ہنگری میں داخل ہونے سے قبل ان کا تفصیلی انٹرویو بھی کیا جاتا ہے۔
تصویر: DW/D. Cupolo
انتظامی غلطیوں کا احتمال
سربیا سے ہنگری داخل ہونا آسان نہیں۔ اٹھارہ سالہ مصری مہاجر محمد جمال کو اطلاع ملی کہ اس کا اںٹرویو ہونے والا ہے۔ تاہم جب وہ ہنگری پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ انٹرویو اس کا نہیں بلکہ اسی کے ہم نام کسی اور مصری مہاجر کا تھا۔ ہنگری کے حکام کے پاس جمال کا ڈیٹا نہیں کہ آیا وہ سربیا میں داخل ہوا بھی تھا یا نہیں۔
تصویر: DW/D. Cupolo
انتظار کی تھکن
انٹرویو کے انتظار میں جمال نے ہنگری کی سرحد سے متصل ایک عارضی کیمپ میں رہائش اختیار کر لی ہے۔ اس کیمپ میں رہنے والے دیگر مہاجرین بھی انٹرویو کے منتظر ہیں۔ وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ اس تصویر میں نظر آنے والے بچے ایزدی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جو بے یارومدگار یورپ داخل ہونے کی کوشش میں ہیں۔
تصویر: DW/D. Cupolo
سرحدوں کی سخت نگرانی
جمال نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ ہنگری داخل ہونے کے لیے کوئی اور راستہ تلاش کر لے گا۔ اس نے کہا کہ اس مقصد کے لیے وہ انسانوں کے اسمگلروں سے بات چیت کر رہا ہے۔ اس کی ایک ایسی ہی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ ہنگری کی سرحد پر محافظ چوکنا ہیں جبکہ ہیلی کاپٹروں سے نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ جمال کے بقول اگر کوئی مہاجر سرحدی محافظوں سے تیز بھاگتا ہے تو اس کے پیچھے سدھائے ہوئے کتے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
تصویر: DW/D. Cupolo
’یہ جگہ پھر بھی بہتر ہے‘
اربیل میں کار مکینک ولید خالد اپنے بچوں کے ہمراہ ہنگری کی سرحد پر کئی مہینوں سے رہائش پذیر ہے۔ اس کے بچے یہاں کھیلتے رہتے ہیں۔ ولید کا کہنا ہے کہ یہاں کے حالات انتہائی برے ہیں لیکن پھر بھی یہ مقام کئی دیگر علاقوں سے بہتر ہے۔
تصویر: DW/D. Cupolo
واپسی کا راستہ نہیں
ہنگری میں کیلیبیا کے مہاجر کیمپ میں رہائش پذیر زیادہ تر مہاجرین کا تعلق مشرق وسطیٰ کے ممالک سے ہے۔ پاکستانی اور افغان مہاجرین ہورگوس نامی ایک دوسرے کیمپ میں سکونت پذیر ہیں۔ خالد کا کہنا ہے کہ وہ کیلیبیا میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ دیگر کیمپوں میں اسے کئی مرتبہ لوٹا جا چکا ہے۔
تصویر: DW/D. Cupolo
ہنگری کی حکومت کا خوف
ہنگری کی حکومت کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد سے ملکی ثقافت تباہ ہو جائے گی۔ یورپی یونین کی کوشش ہے کہ مہاجرین کو تمام یورپی ملکوں میں ایک کوٹہ سسٹم کے تحت تقسیم کر دیا جائے۔ تاہم اوربان کا کہنا ہے کہ مہاجرین کو کوٹہ سسٹم کے تحت یورپی ممالک میں پناہ دینے کا فیصلہ دراصل ان کے ملک کی قومی خودمختاری کے خلاف ہے۔
تصویر: DW/D. Cupolo
8 تصاویر1 | 8
اوربان نے مزید کہا کہ اُن کا مشن آئندہ کچھ مہینوں میں برسلز کو مہاجرین کی یورپ میں آباد کاری کے قوانین کو زبردستی نافذ کرنے سے روکنا ہے۔ بوڈاپیسٹ حکومت کا موقف ہے کہ امیگریشن پالیسی قومی خود مختاری کا معاملہ ہونی چاہیے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے مہاجرین کے حوالے سے خوف اور نفرت کی فضا قائم کرنے اور سرحد پر تارکینِ وطن کے ساتھ ناروا سلوک پر ہنگری کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
خیال رہے کہ جمعے کے روز ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں قریب ڈیڑھ ہزار افراد نے اتوار دو اکتوبر کے روز ہونے والے ریفرنڈم کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ مہاجرت پر اوربان کے سخت گیر موقف نے وسطی یورپ میں ایک طرف ان کے اتحادیوں کا دل جیت لیا ہے تو دوسری جانب یورپی یونین میں شامل مشرقی یورپ کے سابق کمیونسٹ ممالک بھی مہاجرین کی تقسیم کے حوالے سے یورپی یونین کی پالیسی کی مخالفت کر رہے ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہنگری کے قریب اسّی فیصد عوام کوٹہ سسٹم کے منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں تاہم یہ ضروری نہیں کہ ووٹ ڈالنے کی مطلوبہ پچاس فیصد شرح حاصل ہو سکے۔