1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ہینوور میلہ: چوتھے صنعتی انقلاب کی نوید؟

8 اپریل 2013

اس سال جرمن شہر ہینوور میں سالانہ صنعتی میلے میں انقلاب کا بہت چرچا ہے۔ میلے میں ایک چوتھے صنعتی انقلاب کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ تاہم غور سے دیکھا جائے تو یہ انقلاب اتنا ہنگامہ خیز نظر نہیں آ رہا، جتنا کہ اس کا چرچا ہے۔

Hannover Messe 2013
تصویر: DW/A. Becker

گزشتہ شام اس میلے کا افتتاح جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے روسی صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ مل کر کیا، جن کا ملک روس اس سال اس میلے کا ساتھی ملک ہے۔ اس میلے میں انقلاب کی باتیں گزشتہ سال بھی ہوئی تھیں، اس بار بھی ہو رہی ہیں اور امسالہ صنعتی میلے کے سربراہ یوخن کوئکلر کے مطابق یقیناً اگلے سال بھی ہوں گی۔ اُنہوں نے بتایا:’’یہ موضوع صرف اسی سال کے ہینوور فیئر کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ ہم درحقیقت ایک نئے دور میں جا رہے ہیں اور اُس سے سیکھ رہے ہیں، جو کچھ ہم نے گزشتہ بیس برسوں کے دوران موبائل فونز اور سمارٹ فونز کے یوزرز کے طور پر سیکھا ہے یعنی ہم چلتے پھرتے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ یہی چیز اب فیکٹری ہالز تک بھی پہنچ گئی ہے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ اس سال ہینوور ٹریڈ فیئر کا عنوان ’انٹگریٹڈ انڈسٹری‘ یعنی ’باہم مربوط صنعت‘ رکھا گیا ہے۔ اسی چیز کو ’انڈسٹری 4.0‘ یا چوتھے صنعتی انقلاب سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔ مطلب یہ کہ مشینیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں اور اُن کے مختلف حصے ایک دوسرے کے ساتھ ابلاغ کر سکیں۔

جدید کارخانوں میں روبوٹس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور انتہائی حساس روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیںتصویر: Fraunhofer IPT

اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے تنصیبات تعمیر کرنے والے ادارے فینکس کنٹیکٹ کے ناظم الامور رولانڈ بینٹ نے بتایا:’’مثلاً آپ کے پاس ایک پیداواری یونٹ ہے، جسے مختلف حصے فراہم کیے جاتے ہیں اور وہ آگے ان حصوں کو جوڑ کر کچھ تیار کرتا ہے۔ پھر یہ یونٹ نئے حصوں کا انتظار کرنے لگتا ہے۔ انتظار کے ان لمحات میں اس پیداواری یونٹ کو ایک طرح سے سُلایا جا سکتا ہے یعنی ایک ایسی حالت میں لے جایا جا سکتا ہے، جہاں یہ کم سے کم توانائی استعمال کرے۔ جیسے ہی نئے حصے پہنچیں، یہ یونٹ پھر سے خود کار طور پر جاگ جائے اور کام شروع کر دے۔ ان ذہین تکنیکی نظاموں کو ہی ہم ’انڈسٹری 4.0‘ یا ’انٹگریٹڈ انڈسٹری‘ کا نام دے رہے ہیں۔‘‘

ان خود کار نظاموں کی مدد سے پیداواری عمل میں پندرہ فیصد تک کم توانائی خرچ ہوتی ہے۔ ہینوور میلے میں متعارف کروائی گئی کئی دیگر نئی مشینوں میں بھی توانائی کی بچت کے نکتے کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ ہائیڈرالک انجن تیار کرنے والے امریکی ادارے پارکر ہینیفن کے ذیلی جرمن ادارے کے ناظم الامور گیرڈ شیفل کے مطابق پرانی مشینوں کی جگہ نئی مشینیں لگانے سے کافی مقدار میں توانائی بچائی جا سکتی ہے:’’آپ کی مشین جتنی زیادہ پرانی ہو گی، اتنا ہی آپ نئی مشین کی مدد سے زیادہ توانائی بچا سکیں گے۔ مشینیں زیادہ پرانی نہ ہوں تو آپ تیس فیصد تک توانائی کی بچت کر سکیں گے جبکہ زیادہ پرانی مشینوں کو بدلنے سے آپ 80 فیصد تک توانائی کی بچت کر سکتے ہیں۔‘‘

صنعتی میلے کے سربراہ یوخن کوئکلرتصویر: Deutsche Messe AG

دورِ جدید کے کارخانوں میں اب انتہائی حساس روبوٹ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ روبوٹ ساز ادارہ کوکا ایک ایسے ماڈل کے ساتھ ہینوور میلے میں شریک ہے کہ جس کے راستے میں اچانک پانی سے بھرا گلاس بھی رکھ دیا جائے تو وہ اتنے آرام سے رُک جاتا ہے کہ ایک بھی قطرہ نہیں گرے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ آئندہ انسانوں کو روبوٹس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی، انسانوں اور روبوٹس کو الگ الگ رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی اور دونوں مل کر کام کر سکیں گے۔

اس میلے میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ آدھے سے زیادہ نمائش کنندگان کا تعلق جرمنی سے نہیں بلکہ بیرونی دُنیا سے ہے۔ زیادہ تر غیر ملکی فرموں کا تعلق چین سے ہے، جو گزشتہ برس اس میلے کا پارٹنر ملک تھا۔ اس سال یہ حیثیت روس کو حاصل ہے۔ اس حوالے سے میلے کے سربراہ یو خن کوئکلر نے بتایا:’’پہلی بات تو یہ ہے کہ گروپ جی ایٹ کے رکن کے طور پر روس ایک بڑی اقتصادی طاقت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ توانائی کے روایتی ذرائع کی جگہ متبادل ذرائع اپنانے کے معاملے میں بھی روس ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ روس خود اپنی صنعتی پیداوار کو توسیع دینا اور جدید تر بنانا چاہتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ جرمنی میں موجود ڈھانچوں سے سیکھنا چاہتا ہے اور اپنے ہاں درمیانے درجے کی صنعتوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔‘‘

اس سال چین سے 734، اٹلی سے 518، ترکی سے 228، روس سے 176جبکہ فرانس سے 142 کمپنیاں ہینوور میلے میں شرکت کر رہی ہیں۔

A.Becker/aa/ia

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں