1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ہیٹی کے زلزلہ متاثرین کی امداد جاری

14 جنوری 2010

ہیٹی میں تباہ کن زلزے کے بعد امدادی کام جاری ہیں اور زلزلہ زدگان کی مزید مدد کے لئے دنیا بھر سے اپیلیں بھی ہو رہی ہے۔ اس قیامت خیز زلزلے کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

امدادی کارکن ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی مدد کرتے ہوئےتصویر: AP

ہیٹی میں منگل کو رکٹر سکیل پر 7.0 کی شدت کے خوفناک زلزے کے بعد قدرتی آفت سے تباہ شدہ اس ملک کے لئے مختلف ممالک اور تنظیموں کی طرف سے امداد کے اعلانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس تباہ کن زلزلے میں ایک لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ تیس لاکھ کے قریب لوگ اس بے رحم قدرتی آفت کے زخم اپنے سینوں میں لئے زندگی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔

چین کی خصوصی امدادی ٹیم کے اراکین ہیٹی روانہ ہوتے وقت بیجنگ ایئرپورٹ پرتصویر: AP

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ہیٹی کی مصبیت زدہ عوام کے ساتھ ہے۔"امریکہ امدادی کارروائیوں میں ہیٹی کی عوام کی بھر پور مدد کرے گا تاکہ ملبے میں دبے ہوئے لوگوں کو نکالا جاسکے اور پانی، خوراک، دوائیوں سمیت دیگر دوسری اشیاء متاثرین تک پہنچائی جا سکیں۔"

تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ امریکہ نے زلزلہ متاثرین کے لئے کسی خاطر خواہ مالی مدد کا اعلان نہیں کیا۔

مشکلات میں گھرے ہیٹی کے لاکھوں متاثرین کی مدد کے لئے اقوامِ متحدہ نے 10 ملین جبکہ یورپی یونین نے 4.4 ملین ڈالرکا اعلان کیا ہے۔ جاپان نے 5 ملین کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اور ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ وہ بھی 100 ملین ڈالر کی اضافی رقم زلزلے سے تباہ شدہ ہیٹی کو دے گا۔

قیامت خیز زلزلے کے نتیجے میں ہیٹی میں تباہی کا ایک منظرتصویر: AP

جرمنی نے بھی کہا ہے کہ وہ ہیٹی کی مصیبت زدہ عوام کے ساتھ ہے اور زلزے کے متاثرین کے لئے وفاقی جرمن حکومت نے 1.5 ملین یورو کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا:"جرمنی ممکنہ حد تک ہیٹی کے عوام کی مدد کرے گا۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس خوفناک نا گہانی آفت کے متاثرین کو پہچنے والے نقصانات کا ممکنہ ازالہ ہوسکے۔"

جرمن چانسلر انگیلا میرکلتصویر: AP

اس کے علاوہ عالمی ادارہ برائے خوراک کی طرف سے 15000 ٹن کی خوراک اور El Salvador کی طرف سے قوی توانائی کے بسکٹ بھی آفت زدہ ہیٹی پہنچائے جارہے ہیں۔’ڈاکٹرز بغیر سرحد‘ نامی تنظیم کیمپوں میں عارضی طبی مراکز قائم کررہی ہے جبکہ بنگلہ دیش سمیت کئی اور ممالک کی میڈیکل ٹیمیں جلد ہی زلزلہ متاثرین کی مدد کے لئے ہیٹی پہنچیں گی۔

اس قدرتی آفت میں کئی افراد ایسے ہیں، جن کا اپنے گھرانوں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے ’فیملی لنک‘ کے نام سے ایک خصوصی ’ویب پیج‘ تیار کیا ہے، جس کا مقصد بچھڑے ہوئے افراد کے ان کے گھرانوں سے رابطے بحال کرانا ہے۔

تمام امدادی کاموں کے باوجود، ہیٹی میں اب بھی امدادی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں ہسپتال، طبی مراکز، اسکول اور عمارتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہیں۔

اس خوفناک سانحے پر لوگوں کی گریہ و زاری جاری ہے جو اپنے پیاروں کے بچھڑنے پرغم سے نڈھال ہیں اوراس ناگہانی آفت کو سمجھنے سے قاصر۔

صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر ریڈ کراس نے 10 ملین ڈالرکے عطیات کی اپیل کی ہے جبکہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے بھی ہیٹی کےمصیبت زدہ انسانوں کے لئے ایک امدادی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں