حوثیوں کی مغربی یمن میں پیش قدمی کے ساتھ لڑائی میں شدت
5 ستمبر 2026
یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے جنوب مغربی علاقوں میں پیش قدمی کے بعد لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان ہفتے کے روز ہونے والی شدید جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے، جن میں شہری بھی شامل ہیں۔ یہ بات طبی اور فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی۔
تین یمنی فوجی ذرائع کے مطابق ملک کے جنوب مغربی علاقوں میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں حکومتی فورسز کے 26 اہلکار ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب ایران نواز حوثیوں سے وابستہ طبی اور فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ 31 حوثی جنگجو مارے گئے ہیں۔
ادھر حکومتی کنٹرول والے شہر تعز کے ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ ایک میزائل حملے میں مسافروں سے بھری ایک بس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چھ شہری ہلاک اور سات دیگر زخمی ہو گئے۔
حوثی باغی تازہ کارروائی سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا جنوب مغرب میں بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر واقع اہم بلند مقامات پر قبضہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حوثیوں نے جولائی میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ جلاوطن حکومت کے ساتھ قائم ایک غیر مستحکم جنگ بندی بھی ختم کر دی تھی۔
دارالحکومت صنعاء اور ملک کے بڑے حصے پر قابض ایران نواز حوثیوں نے جمعرات کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے خلاف زمینی کارروائی شروع کی۔ یہ اتحاد یمن کی جلاوطن حکومت کی حمایت کرتا ہے۔
جانی نقصان کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، تاہم خبر رساں اداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درجنوں جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ لڑائی کے دوران شہری ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق جمعے تک ہلاکتوں کی تعداد 129 ہو چکی تھی۔ اگر ہفتے کو ہونے والی 60 مزید ہلاکتوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو مجموعی تعداد تقریباً 190 تک پہنچ جاتی ہے۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ گولہ باری اور توپ خانے کے حملوں کے باعث سینکڑوں خاندانوں کو ساحلی شہروں الحدیدہ اور المخا سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ یہ دونوں شہر اس تنازعے کے مختلف فریقوں کے زیر کنٹرول ہیں۔
حوثی اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش اب کیوں کر رہے ہیں؟
یمن تقریباً 12 برس سے خانہ جنگی کی حالت میں ہے۔ نسبتاً سکون کا ایک دور رواں برس جولائی میں خلیج میں ایران سے متعلق تنازع کے دوران ختم ہو گیا۔
حوثی باغی ان بندرگاہوں اور بلند مقامات پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اس وقت سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت یافتہ فورسز کے زیر کنٹرول ہیں۔ ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے حوثیوں کی آبنائے باب المندب پر گرفت مضبوط ہو سکتی ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن کے ذریعے بحیرہ عرب اور کھلے سمندر سے ملاتی ہے۔
آبنائے باب المندب ہمیشہ سے عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ رہی ہے، تاہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر عائد پابندیوں اور رکاوٹوں کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
حوثیوں نے سعودی عرب کے مغربی ساحل کی جانب جانے والے جہازوں کے لیے ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ سعودی عرب کی مشرقی بندرگاہوں تک رسائی پہلے ہی آبنائے ہرمز کے ذریعے متاثر ہو چکی ہے۔ تاہم حوثی اس اعلان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے نہ تو مثالی جغرافیائی پوزیشن رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس مطلوبہ وسائل موجود ہیں۔
اس کے باوجود حوثی محدود ساحلی کنٹرول کے ساتھ بھی کئی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض واقعات میں انسانی ہلاکتیں اور مالی نقصان بھی ہوا۔
لڑائی میں شدت کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فوجی ذرائع نے خبر رساں اداروں ڈی پی اے اور اے ایف پی کو بتایا کہ حالیہ جھڑپوں میں دونوں فریقوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
حکام کے مطابق جنوب مغربی یمن کے دو صوبوں، تعز اور الحدیدہ میں زمینی جھڑپوں کے علاوہ راکٹوں اور ڈرون حملوں کے تبادلے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
حوثیوں کے زیر کنٹرول اہم مغربی بندرگاہ الحدیدہ نسبتاً شمال میں واقع ہے، تاہم تعز کے جنوب مغربی علاقوں کے بڑے حصے، جن میں آبنائے باب المندب کے قریب واقع بندرگاہ المخا بھی شامل ہے، سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت یافتہ فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔
بندرگاہ المخا کے نزدیک واقع جبل النعمان سمیت اہم بلند مقامات پر قبضے کے لیے شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔
امریکہ میں قائم خطرات کے تجزیے سے متعلق ادارے بشا رپورٹ کے محمد البشا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''حوثیوں کا ہدف باب المندب ہے۔‘‘
ان کے بقول، ''حوثیوں کا خیال ہے کہ اگر وہ باب المندب یا المخا کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیتے ہیں تو حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات میں ان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے گی۔‘‘