یورو زون سے یونانی اخراج تاحال ممکن، یورپی کمشنر
26 جون 2015
برلن سے جمعہ چھبیس جون کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی سے تعلق رکھنے والے یورپی یونین کے ڈیجیٹل اکانومی کے نگران کمشنر گنٹر اوئٹِنگر نے آج صبح جرمن ریڈیو ڈی ایل آر کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر یونان میں سِپراس حکومت اور ایتھنز کو قرضے دینے والے بین الاقوامی اداروں کے مابین تیس جون تک کوئی حتمی تصفیہ نہ ہو سکا تو یونان کا یورو زون سے اخراج لازمی ہو جائے گا۔
گنٹر اوئٹِنگر نے کہا کہ ایتھنز حکومت کے پاس ابھی بھی پانچ دن باقی ہیں اور اسے اپنی پوری کوشش کرتے ہوئے اس عرصے کو اپنے بہتر اقتصادی اور مالیاتی مستقبل کے لیے استعمال میں لانا چاہیے۔
یونان کو دیوالیہ پن سے بچانے کی کوششوں کے بارے میں گنٹر اوئٹِنگر نے کہا، ’’ہم (یورپی یونین) تیس جون تک اپنی ہر ممکن کاوش کریں گے لیکن یونانی حکومت کو بھی ہر حال میں یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ وہ فیصلہ کن مالیاتی اصلاحات کے لیے تیار ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یورو زون سے یونان کا ممکنہ اخراج (Greek Exit یا Grexit) یونین کا کوئی ہدف نہیں ہے بلکہ برسلز یورو گروپ کے ساتھ مل کر اسے ہر حال میں روکنے کی کوششوں میں ہے۔ لیکن یہ بات بھی ہر کسی پر واضح ہونی چاہیے کہ اگر اگلے پانچ دنوں میں یونان اور اسے قرض دینے والے اداروں کے مابین کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا تو ایتھنز کا یورو زون سے اخراج کسی بھی طرح روکا نہ جا سکے گا۔
یورپی یونین کے کمشنر اوئٹِنگر نے مزید کہا کہ یونانی حکومت کے ساتھ یورپی یونین کے یورو زون میں شامل ملکوں کے گروپ کے وزرائے خزانہ کی بات چیت میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی تو ہے لیکن ابھی تک کئی امور پر ایسا اختلاف رائے بھی پایا جاتا ہے، جسے دور کرنا ہر حال میں ضروری ہو گا۔
یونانی حکومت اور یورو گروپ میں اس کے ساتھی ملکوں کے مابین وزرائے خزانہ کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں کل جمعرات کی شام تک ایک بار پھر کوئی بہت بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی جس کے بعد اگلے مذاکرات اب کل ہفتے کے روز ہوں گے۔ اس بات چیت میں ایتھنز حکومت کے پیش کردہ مالیاتی اصلاحات کے منصوبوں کا یورپی مرکزی بینک، بین الاقوامی مالیاتی مالیاتی فنڈ اور یورپی کمیشن کی طرف سے نئے سرے سے جائزہ لیا جائے گا۔
یورو گروپ کے ملکوں میں سے یونانی بیل آؤٹ پیکج کے لیے سب سے زیادہ رقوم مہیا کرنے والے ملک جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والا ہنگامی اجلاس فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہو گا۔