یورو زون کو مستحکم بنانے کی کوششیں
12 دسمبر 2012
اس غرض سے رواں ہفتے صلاح و مشورے کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ تین برس سے مسلسل چلےآ رہے قرضوں کے بحران نے یورپی بلاک پر پائے جانے والے اعتماد کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ جہاں ایک طرف یورپی سیاست دان اس امر پر اتفاق کرتے ہیں کہ براعظم یورپ کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ انضمام کی ضرورت ہے، وہاں دوسری جانب بہت سے امور پر شدید اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔
Notre Europe-Jacques Delor انسٹیٹیوٹ کے صدر آنٹونیو ویٹورینو کے مطابق یورو زون ہمیشہ یورپی اتحاد میں شامل رکن ریاستوں کے محتاط رویے کے خلاف رہا ہے۔ ویٹورینو کے خیال میں یورو زون میں شامل ملکوں کی یہ ایک جائز خواہش ہے کہ انہیں اپنی اپنی سماجی اور اقتصادی پالیسیوں کو وضع کرنے کا اختیار حاصل ہو۔
تاہم تمام تر مسائل اور بحران کے باوجود یورپی یونین کے پاس متحد رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ قرضوں کے بحران تلے دبے ہوئے بحران زدہ ممالک کی اقتصادی صورتحال اس حد تک غیر مستحکم ہو تی چلی گئی ہے کہ ایک وقت پر یورو زون کے ٹوٹنے کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جانے لگی تھیں۔
حالات کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے یورپی رہنماؤں نے گزشتہ جون میں ایک مخصوص روڈ میپ پر زور دیا، جسے سال رواں کے اواخر تک پیش کیا جانا تھا۔ اس روڈ میپ کے تحت ایک مخصوص مدت کے اندر اندر حقیقی معنوں میں ایک اقتصادی اور مالیاتی یونین کی تشکیل اور یورو زون کے بینکوں کے لیے ایک نگران ادارے کا قیام تھا۔
انضمام کے تصور میں بینکاری یونین کے علاوہ یورو زون بجٹ، یورو زون میں شامل ممبر ممالک کے لیے اصلاحاتی معاہدے اور قرضوں کے بوجھ کو یکساں بانٹنے کا خیال بھی شامل ہے، جس کی جرمنی کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی ہے۔ جرمنی کے وزیر مملکت برائے یورپی امور مشائیل لنکے نے گزشتہ منگل کو برسلز میں ایک بیان میں کہا،’قرضوں کے بوجھ کو آسانی سے بڑا کرنے اور اصلاحات پر آمادگی کو کم کرنے سے متعلق تمام تر تجاویزمدد گار ثابت نہیں ہوں گی بلکہ اس کے برعکس یہ یورپ کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔
جرمن لیڈر نے اس موقع پر یورپی یونین کے صدر ہرمن فان رومپوئے اور یورپی کمیشن کے صدر جوزے مانوئل باروسو کی تجاویز پر بھی نکتہ چینی کی۔ ان تجاویز کو جمعرات اور جمعہ کو برسلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں بحث و مباحثے کی بنیاد کی حیثیت حاصل ہو گی۔
برلن حکومت یورو زون کے ایک مشترکہ بجٹ اور قرضوں کے بوجھ کو مشترکہ طور پر اٹھانے کی تجاویز کو سختی سے رد کر چُکی ہے۔ اس کے برعکس جرمنی بچتی منصوبے کی وکالت کر رہا ہے۔
km/aa/dpa