’یورو ہاک‘ ڈرون نہیں اُڑ سکتے‘
23 جولائی 2013
اس کمیٹی کا چھ روزہ اجلاس آج 22 جولائی سے شروع ہو گیا ہے۔ وفاقی جرمن وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر انیس گواہوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی وزارت کے دور میں پیدا ہونے والا یہ سب سے بڑا بحران ہے۔ ڈے میزیئر کو اتنی بڑی رقم کی فُضول خرچی کے بارے میں جواب دینا ہے۔
آخر یہ ممکن کیسے ہوا کہ وفاقی جرمن وزیر دفاع تھوماس ڈے میزئیر کی وزارت نے 600 ملین یورو کی سرمایہ کاری ایک ڈرون پروجیکٹ پر کردی جب کہ یہ طیارے سلامتی کی وجوہات کے سبب جرمنی کی فضائی حدود میں پرواز نہیں کرسکتے؟ وفاقی جرمن فوج کو ایسے چار ڈرون طیارے ملنا تھے تاہم اب تک اس کا محض ابتدائی نمونہ ہی بن پایا ہے اور اس کی تکمیل کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
خوف کے ساتھ خاتمہ
ڈرون پروجیکٹ ’یورو ہاک‘ تو کھٹائی میں پڑا ہی، ساتھ ہی اس سے جرمن وزیر دفاع کی ساکھ بھی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ وہ خود کو یہ کہہ کر بچا رہے ہیں کہ انہوں نے مئی کے ماہ میں اس پروجیکٹ کو روک کر ملک کو ایک بہت بڑے نقصان سے بچا لیا ہے۔ ان کے بقول اس مرحلے تک اُن کے ہم کار یہ تاثر دیتے رہے کہ یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ڈے میزیئر کا کہنا ہے کہ ڈرون پروجیکٹ کو بند کرنے کا اُن کا فیصلہ بہت ہی بر وقت تھا۔ خوف کے ساتھ خاتمہ ایک نہ ختم ہونے والے خوف سے بہتر ہے۔ تاہم جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے قریبی تعلق رکھنے والے جرمن وزیر دفاع کو اپوزیشن اتنی آسانی سے بری الذمہ قرار نہیں دے گی۔ سوشل ڈیموکریٹس سمیت گرین اور بائیں بازو کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء کو اس امر کا یقین ہے کہ جرمن وزیر دفاع نے اس نہایت مہنگے پروجیکٹ پر بریک بہت دیر سے لگایا اور اس طرح انہوں نے ڈرون پروجیکٹ پر ٹیکس دہندگان کے کئی ملین یورو ضایع کیے ہیں۔
اپوزیشن کی طرف سے ایک پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا جو ڈرون پروجیکٹ کی تفصیلات کی چھان بین کرے اور ایک رپورٹ پیش کرے۔ جون کے اواخر میں اس کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی تھی اور اب موسم گرما کی چھٹیوں کے بیچوں بیچ آج سے، یعنی 22 جولائی سے اس کمیٹی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے اور یہ 31 تاریخ تک جاری رہے گا۔ ستمبر میں جرمنی کے پارلیمانی انتخابات ہونا ہیں جس کے بعد موجودہ پارلیمان کے پاس یوروک ہاک پروجیکٹ پر روشنی ڈالنے کے مواقع باقی نہیں رہیں گے۔
وضاحت کے لیے تیز رفتارکارروائی
پارلمیانی کمیٹی چھ روزہ اجلاس میں ڈرون پروجیکٹ کی تفصیلات کی چھان بین کرے گی۔ کمیٹی کے اراکین 19 گواہوں سے پوچھ گچھ کریں گے، جن میں وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر، اُن کے جند اسٹیٹ سیکریٹریز ، دو سابقہ وزیر دفاع اور دفاعی سازوسامان سازی کی کمپنیوں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ عام طور سے پارلیمانی کمیٹی اس نوعیت کی چھان بین میں کئی مہینے لگا دیتی ہے بلکہ کبھی کبھی یہ عمل سالوں میں جا کر مکمل ہوتا ہے، تاہم اس بار پارلیمانی کمیٹی نے چھ روز کے اندر وضاحت پیش کرنے کے لیے چھان بین کی کارروائی کا مشکل ٹارگٹ مختص کیا ہے۔
دو صنعت کار، ایک بھی منظوری نہیں
یورو ہاک کے پروجیکٹ کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بہ ہے کہ یورو ہاک کا ابتدائی نمونہ امریکا میں تیار ہوا جس کی منظوری وہاں کے صنعت کاروں نے تو دے دی تاہم یہ منظوری جرمنی کے لیے کافی نہیں ہے۔ یہ ڈرون جرمن فضائی حدود کے لیے بھی موزوں نہیں ہیں۔ جرمنی کو اس نئی تکنیک کا کوئی تجربہ بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ تکنیکی تفصیلات سے متعلق دستاویزات بھی موجود نہیں ہیں۔ انہیں امریکا نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ یہ کہنا ہے جرمن وزیر دفاع کا۔ علاوہ ازیں یہ بغیر پائلٹ کے ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے ڈرون طیارے سوِل ہوائی جہازوں کے فضائی حدود کے لیے خطرناک اور نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ: کشور مصطفیٰ
ادارت: شامل شمس