یورپی خواتین دائیں بازو کی طرف مردوں کی نسبت زيادہ مائل
30 اگست 2018
یورپ میں دائیں بازو سے متعلق پاپولسٹ افراد سے مراد عموماﹰ سفید النسل ناراض مظاہرین ہی لی جاتی ہے۔ تاہم ایک ریسرچ کے مطابق اب خواتین کی بڑی تعداد اس جانب رُخ کر رہی ہے اور انہیں مردوں سے زیادہ انتہا پسند پایا گیا ہے۔
تصویر: Getty Images/S. Gallup
اشتہار
جرمن شہر کیمنٹز میں حال ہی میں مہاجرین اور غیر ملکیوں کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں دائیں بازو کی سوچ کے حامل افراد نے مظاہرے کیے۔ ان میں زیادہ تر تو مرد حضرات ہی تھے لیکن خواتین کی شمولیت بھی دیکھنے میں آئی۔
جرمنی میں یہ ایک عمومی خیال ہے کہ اسلام مخالف تحريک پیگیڈا اور مہاجرین و اسلام مخالف سیاسی جماعت اے ايف ڈی کے ارکان کو ہمیشہ ناراض یورپی مردوں سے ہی جوڑا جاتا ہے۔ لیکن جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک جماعت سے منسلک فریڈرش ایبرٹ فاؤنڈیشن کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کی رُو سے یہ بات درست نہیں۔
اس رپورٹ میں فرانس، ہنگری، جرمنی، یونان، پولینڈ اور سویڈن میں پاپولسٹ ووٹروں کا جائزہ لیا گیا ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ خواتین کا رجحان رائٹ ونگ کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
دائیں بازو کی جماعتیں خواتین میں مقبولیت کیوں حاصل کر رہی ہیں؟
یورپی رائٹ ونگ جماعتیں نسائیت کی پرانی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے باوجود سن 2017 کے جرمن پارلیمانی انتخابات میں مشرقی ریاستوں میں سترہ فیصد خواتین نے دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کو ووٹ دیا جبکہ اسی طرح مغربی حصے میں آٹھ فیصد خواتین اس مہاجرین مخالف جماعت کی ووٹر بنیں۔
تصویر: Getty Images/C. Koall
کیا وجہ ہے کہ یہ جماعتیں خواتین میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں؟
ایف ای ایس کے جائزے کی تدوین کرنے والی ایلیزا گوٹشے کا کہنا ہے کہ اس پسندیدگی کا پس منظر ان جماعتوں کی جانب سے ملک میں سماجی بہبود کے نظام کو مستحکم کرنے کا وعدہ ہے۔ ایلیزا کے مطابق،’’ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ بچوں کی بہبود کی مد میں دی جانے والی رقوم میں اضافہ کریں گی اور خاندانوں کی بہتری کے لیے الاؤنس بھی دیے جائیں گے۔‘‘
اے ایف ڈی، جرمن حکومت کے مہاجرین کے لیے خیر مقدمانہ پالیسی کے مقابلے میں ’بچوں کو خوش آمدید‘ کہنے کی پالیسی کی حامی ہے۔ در حقیقت بیشتر خواتین نے اس خدشے کے تحت دائیں بازو کی جماعتوں کے ووٹ بینک میں اضافہ کیا ہے کہ اگر مستقبل میں جرمنی کا پينشن نظام منہدم ہو گیا تو کیا ہو گا۔
حیران کن طور پر اجانب دشمن نظریات
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ اسلام اور مہاجرین مخالف عقائد کی حامل ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے ایلیزا گوٹشے کا کہنا ہے،’’ میرے خیال میں خواتین کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کا کمتر حصہ ہیں۔ اسی لیے انہیں مہاجرین اور تارکین وطن کے خلاف مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘
ص ح / ع س / نیوز ایجنسی
انتہائی دائیں بازو کے یورپی رہنما اور سیاسی جماعتیں
سست اقتصادی سرگرمیاں، یورپی یونین کی پالیسیوں پر عدم اطمینان اور مہاجرین کے بحران نے کئی یورپی ملکوں کے انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو کامیابی دی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
جرمن: فراؤکے پیٹری، الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ کی لیڈر فراؤکے پیٹری نے تجویز کیا تھا کہ جرمن سرحد کو غیرقانونی طریقے سے عبور کرنے والوں کے خلاف ہتھیار استعمال کیے جائیں۔ یہ جماعت جرمنی میں یورپی اتحاد پر شکوک کی بنیاد پر قائم ہوئی اور پھر یہ یورپی انتظامی قوتوں کے خلاف ہوتی چلی گئی۔ کئی جرمن ریاستوں کے انتخابات میں یہ پارٹی پچیس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
تصویر: Reuters/W. Rattay
فرانس: مارین لے پین، نیشنل فرنٹ
کئی حلقوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ برطانیہ میں بریگزٹ اور امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے انتہائی دائیں بازو کی فرانسیسی سیاسی جماعت کو مزید قوت حاصل ہو گی۔ سن 1972 میں قائم ہونے والے نیشنل فرنٹ کی قیادت ژاں ماری لے پین سے اُن کی بیٹی مارین لے پین کو منتقل ہو چکی ہے۔ یہ جماعت یورپی یونین اور مہاجرین کی مخالف ہے۔
تصویر: Reuters
ہالینڈ: گیئرٹ ویلڈرز، ڈچ پارٹی فار فریڈم
ہالینڈ کی سیاسی جماعت ڈچ پارٹی فار فریڈم کے لیڈر گیئرٹ ویلڈرز ہیں۔ ویلڈرز کو یورپی منظر پر سب سے نمایاں انتہائی دائیں بازو کا رہنما خیال کیا جاتا ہے۔ مراکشی باشندوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر پر سن 2014 میں ویلڈرز پر ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ اُن کی سیاسی جماعت یورپی یونین اور اسلام مخالف ہے۔ اگلے برس کے پارلیمانی الیکشن میں یہ کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/S. Koning
یونان: نکوس مِشالاولیاکوس، گولڈن ڈان
یونان کی فاشسٹ خیالات کی حامل سیاسی جماعت گولڈن ڈان کے لیڈر نکوس مِشالاولیاکوس ہیں۔ مِشالاولیاکوس اور اُن کی سیاسی جماعت کے درجنوں اہم اہلکاروں پر سن 2013 میں جرائم پیشہ تنظیم قائم کرنے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا اور وہ سن 2015 میں حراست میں بھی لیے گئے تھے۔ سن 2016 کے پارلیمانی الیکشن میں ان کی جماعت کو 16 نشستیں حاصل ہوئیں۔ گولڈن ڈان مہاجرین مخالف اور روس کے ساتھ دفاعی معاہدے کی حامی ہے۔
تصویر: Angelos Tzortzinis/AFP/Getty Images
ہنگری: گَبور وونا، ژابِک
ہنگری کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت ژابِک کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سن 2018 کے انتخابات جیت سکتی ہے۔ اس وقت یہ ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے۔ سن 2014 کے پارلیمانی الیکشن میں اسے بیس فیصد ووٹ ملے تھے۔ یہ سیاسی جماعت جنسی تنوع کی مخالف اور ہم جنس پرستوں کو ٹارگٹ کرتی ہے۔ اس کے سربراہ گَبور وونا ہیں۔
تصویر: picture alliance/dpa
سویڈن: ژیمی آکسن، سویڈش ڈیموکریٹس
ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکشن کے بعد سویڈش ڈیموکریٹس کے لیڈر ژیمی آکسن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یورپ اور امریکا میں ایسی تحریک موجود ہے جو انتظامیہ کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ سویڈش ڈیموکریٹس بھی مہاجرین کی آمد کو محدود کرنے کے علاوہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالف ہے۔ یہ پارٹی یورپی یونین کی رکنیت پر بھی عوامی ریفرنڈم کا مطالبہ رکھتی ہے۔
تصویر: AP
آسٹریا: نوربیرٹ، فریڈم پارٹی
نوربیرٹ ہوفر آسٹریا کی قوم پرست فریڈم پارٹی کے رہنما ہیں اور وہ گزشتہ برس کے صدارتی الیکشن میں تیس ہزار ووٹوں سے شکست کھا گئے تھے۔ انہیں گرین پارٹی کے سابق لیڈر الیگزانڈر فان ڈیئر بیلن نے صدارتی انتخابات میں شکست دی تھی۔ ہوفر مہاجرین کے لیے مالی امداد کو محدود اور سرحدوں کی سخت نگرانی کے حامی ہیں۔
سلوواکیہ کی انتہائی قدامت پسند سیاسی جماعت پیپلز پارٹی، ہمارا سلوواکیہ ہے۔ اس کے لیڈر ماریان کوتلیبا ہیں۔ کوتلیبا مہاجرین مخالف ہیں اور اُن کے مطابق ایک مہاجر بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو ایک مرتبہ جرائم پیشہ تنظیم بھی قرار دیا تھا۔ یہ یورپی یونین کی مخالف ہے۔ گزشتہ برس کے انتخابات میں اسے آٹھ فیصد ووٹ ملے تھے۔ پارلیمان میں چودہ نشستیں رکھتی ہے۔