یورپی رہنما یورپی یونین کی طویل المدتی بجٹ ڈیل پر متفق
28 جون 2013
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کےمطابق اس سربراہی کانفرنس کا مقصد یورپ میں نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سب سے زیادہ بنیادی موضوع تھا، تاہم برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس حوالے سے اپنی ایک ماہ پرانی مالیاتی پوزیشن برقرار رکھی۔ بہرحال یورپی رہنما جمعے کے روز ایک بجٹ کے مسودے پر متفق ہو گئے۔ یورپی کونسل کے سربراہ ہیرمان فان رومپوئے نے کانفرنس میں یورپی رہنماؤں کے جانب سے بجٹ مسودے کی متفقہ منظوری کے بعد کہا، ’اس حوالے سے ایک واضح ہاں کہہ دی گئی ہے۔‘
واضح رہے کہ یورپی رہنما گزشتہ کافی عرصے سے یورپی یونین کے سن 2014 تا 2020 کے لیے بجٹ کے حوالے سے بحث و مباحثے میں مصروف تھے، تاہم اس سلسلے میں اتفاق رائے نہیں ہو پا رہا تھا۔ کچھ روز قبل ایک بجٹ مسودے کو یورپی پارلیمان نے مسترد کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ جمعے کو طے کیے جانے والے اس بجٹ مسودے کو ابھی یورپی پارلیمان سے منظوری حاصل کرنا ہو گی، تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اب یہ منظوری حاصل کرنا زیادہ دشوار نہیں ہو گا۔
واضح رہے کہ اس نئے بجٹ مسودے میں اگلے سات برسوں کے لیے یونین کے اخراجات کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بینکوں کے لیے بیل آؤٹس اور خطے کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کرنے اور سرمایہ کاررواں کو اعتماد فراہم کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گو کہ یورپی رہنما ایک متفقہ مسودہ پر راضی ہو گئے ہیں، تاہم اس بجٹ پر ہونے والی طویل بحث سے یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں پائے جانے والا اختلاف رائے بھی واضح ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ برطانیہ کا موقف تھا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب برطانیہ مالیاتی مسائل سے دوچار ہے، وہ یورپی یونین کے اخراجات میں بہت زیادہ حصہ نہیں ملائے گا۔ اس بجٹ میں یورپی یونین کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یونین کے بجٹ میں بچتی اقدامات تفویض کیے گئے ہیں۔
at/ai (AP)