یورپی عوام کا یورپی یونین پراعتماد کم ہو رہا ہے
29 اپریل 2013
خوزے اگناسیو تورے بلانکا کا تعلق اسپین سے ہے اور وہ سیاسی امور کے ماہر ہیں۔ ان کے بقول یورپ میں معاشی اعتبار سے بے یقینی کی کیفیت ایک وائرس کی طرح ہے۔ ایک ایسا وائرس جس کی زد میں تمام ممالک آ سکتے ہیں:’’یہ حیران کن ہے کہ تمام یورپی اپنے آپ کو اس بحران کا شکار محسوس کرتے ہیں‘‘۔ ان کے بقول اس فہرست میں جرمنی اور اسپین بھی شامل ہے۔ حالانکہ جرمنی امداد دینے والا ملک ہے جبکہ اسپین کا شمار امدادی پیکج پر بھروسہ کرنے والے ملکوں میں ہوتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ جنوبی یورپی ممالک کے اقتصادی شعبےکو مستحکم کرنے کی کوششوں اور ڈھانچوں میں تبدیلی کے منصوبے عوامی اعتماد میں اس فقدان کی اہم وجوہات ہیں۔
اس جائزے کے مطابق 2009ء میں 56 فیصد ہسپانوی باشندے یورپی یونین سے مطمئن تھے جبکہ رواں سال یہ شرح 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اٹلی میں بھی اس حوالے سے صورتحال بہت مختلف نہیں ہے۔ وہاں بھی یورپی یونین پراعتماد کرنے والوں کی تعداد 52 فیصد سے کم ہو کر31 فیصد ہو گئی ہے۔
جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی یوٹا اشٹائن رک کے بقول ایک بے یقینی کی کیفیت نے سب کو پریشان کیا ہوا ہے: ’’عوام اپنے مستقبل کے حوالے سے ایک خوف میں مبتلا ہیں۔ انہیں روزگار ختم ہونے اور معیار زندگی پست ہونے کا ڈر ہے۔ اور وہ یورپ کو اس مالیاتی بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں‘‘۔ وہ کہتی ہیں کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اور متعدد سیاستدانوں کی سوچ بھی یہی ہے۔ یوٹا اشٹائن رک کے بقول اس سلسلے میں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یورپی سطح پر ہونے والی کامیابیوں کا سہرا مقامی سیاستدان اپنے سر لے لیتے ہیں جبکہ ناکامی کی تمام ذمہ داری برسلز پر ڈال دیتے ہیں۔
سیاسی امور کے ماہر تورے بلانکا کہتے ہیں کہ اقتصادی صورتحال اور یورپی یونین پر بھروسے کے فقدان کا ایک دوسرے سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مسئلہ شدید ہوتا جا رہا ہے، ’’عوام سوچ رہے ہیں کہ حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ اور انہیں ایسےاقدامات تسیلم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جنہیں وہ اس مسئلے کے حل کے طور پر نہیں دیکھتے۔ جرمنی کو بار بار قرضے فراہم کرنے کے نئے منصوبے بنانے پڑتے ہیں جبکہ جنوبی یورپی ممالک کو نئے نئے بچتی پروگرام ترتیب دینا پڑ رہے ہیں‘‘۔
صورتحال کو تبدیل کرنے کے کئی متبادل راستے ہیں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ جرمنی بحران کے شکار دیگر ممالک کی امداد کرنا بند کر دے۔ لیکن پھر جرمنی کواس کے انتہائی منفی نتائج کا سامنا کرنے پڑے گا۔ جبکہ کئی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ یورپ کے معاملے میں شفافیت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
N. Naumann / ai /aba