یورپی لیڈران کے لیے جرمن بچتی پالیسی چیلنج بنتی ہوئی
15 مارچ 2013
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کی رکن ریاستوں کو دو معاملات میں ایک ساتھ چیلنج کا سامنا ہے۔ ان میں ایک جرمن حکومت کی جانب سے سخت کفایت شعارانہ پالیسیوں کا نفاذ اور ان پر عمل پیرا ہونا ہے۔ دوسرا چیلنج فرانس کی جانب سے ہے اور اس میں اقتصادی ترقی کو فروغ دینے والی دوستانہ اور معاون حکومتی اخراجاتی پالیسیوں کو متعارف کروانا شامل ہے۔
یورو زون کی اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنے والے ممالک میں حکومتوں کی جانب سے بچتی پلان کا سلسلہ جاری ہے اور ان کی مخالفت میں پندرہ ہزار کے قریب افراد جمعرات کے روز برسلز میں ہونے والے مظاہرے میں شریک تھے۔ اس مظاہرے میں شریک درجنوں افراد کو پولیس نے حراست میں بھی لیا۔ برسلز کی پولیس نے ان مظاہرین کو یورپی یونین کے صدر دفتر کے قریب واقع ایک پارک میں پابند کر دیا تھا۔ گرفتار ہونے والے افراد نے پولیس کی جانب سے قائم کردہ حد کو عبور کیا تھا۔
یورپی یونین کا وہ گروپ جو یورو کرنسی کا استعمال کر رہا ہے، اس میں تقریباً کسادبازاری کی فضا قائم ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار انتہائی سست ہوتی جا رہی ہے۔ اس باعث شرح بیروزگاری میں اضافہ ہو چکا ہے۔ یونین کی رکن ریاستوں میں تقریباً 26 ملین افراد بیروزگار خیال کیے جاتے ہیں۔ بیروزگاری میں ناقابل یقین اضافہ یونان، اسپین، قبرص اور اٹلی میں دیکھا جا رہا ہے۔ اب تک کم از کم چار ملک یونین سے مالیاتی امدادی پیکج وصول کر چکے ہیں۔
دو روزہ میٹنگ میں فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ نے یونین سے اپیل کی کہ وہ شام کے باغیوں کے لیے اسلحے کی فراہمی کی پابندی کو ختم کر دے۔ اس مناسبت سے اولانڈ کو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حمایت بھی حاصل ہے۔ برسلز پہنچنے پر کیمرون سے فرانسیسی صدر نے خصوصی ملاقات بھی کی تھی۔ اولانڈ نے یونین کے اجلاس میں شریک ہونے سے قبل کہا تھا کہ وہ شامی بغاوت کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ اجلاس کے ایجنڈے پر دوسرے موضوعات کے ساتھ ساتھ یونین اور رکن ریاستوں کے روس کے ساتھ تعلقات پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
یورپی یونین کے دو روزہ اجلاس میں یورو زون کے گروپ کے لیڈروں کی ایک خصوصی ملاقات بھی پلان کی گئی ہے۔ آج جمعے کے روز یورو زون کے وزرائے خزانہ کا خصوصی اجلاس بھی ہو گا۔ یورو زون کے وزرائے خزانہ کے گروپ کی صدارت ان دنوں ہالینڈ کے وزیر خزانہ ژیرُون ڈیشلبلُوم کے پاس ہے۔ اس اجلاس میں قبرص کے لیے مالیاتی پیکج پر بھی فوکس کیا جائے گا۔ اگر یہ امدادی پیکج منظور ہو گیا تو گزشتہ تین برسوں میں قبرص پانچواں ملک ہو گا جس کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مالیاتی پیکج فراہم کیا جائے گا۔ قبرص کے صدر Nicos Anastasiades نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان کے ملک کو امدادی پیکج حاصل ہو جائے گا۔ یورپی یونین کے اس دو روزہ سربراہی اجلاس کے مختلف سیشنز میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی سربراہ کرسٹیان لاگارڈ بھی شریک ہوں گی۔
(ah/ng(AFP