یورپی ممالک غزہ پر نئی قرار داد لانے کی تیاریوں میں
22 اگست 2014
فلسطینی علاقے غزہ پٹی میں چھ ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی ممالک کی طرف سے یہ پیشرفت اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں حماس کے تین اہم کمانڈروں کی ہلاکت اور مصر کی طرف سے مذاکرات کے ذریعے غزہ میں مستقل جنگ بندی معاہدے کی ناکام ہوتی کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس نے دو صفحات پر مشتمل مجوزہ قرارداد کے اہم نکات پر مشتمل دستاویز حاصل کی ہے۔ اس دستاویز میں فوری اور پائیدار جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے غزہ سے راکٹ فائر کرنے اور اس فلسطینی علاقے میں اسرائیلی فوجی آپریشن فوری طور پر روکنے پر زور دیا گیا ہے۔
مجوزہ قرار داد میں اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی کی ناکہ بندی ختم کرنے اور اس علاقے میں آنے جانے والے سامان کی تصدیق اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو رپورٹ کرنے کا طریقہ کار طے کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔
سفارت کاروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 ارکان کے درمیان ایک قرارداد پر اتفاق حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے قبل اُردن کی تیار کردہ قرارداد کے مسودے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا اور خاص طور پر امریکا کی طرف سے اس کی مخالفت کی گئی تھی۔
اس دستاویز میں پیش کیے گئے نکات میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے علاوہ اسرائیلی تحفظ سے متعلق تحفظات اور فلسطینیوں کے مطالبات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
اس دستاویز میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے کہا گیا ہے کہ وہ مجوزہ قرارداد پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر تجاویز پیش کریں۔ اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کے مطابق انہیں امید ہے کہ اس قرارداد کے ذریعے مصری کوششوں سے جاری امن مذاکرات کامیاب ہو سکیں گے اور آئندہ برسوں میں دوبارہ کسی قسم کے تنازعے اور جنگ سے بچا جا سکے گا۔
ایک سفارتی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہمیں متعلقہ علاقے سے مثبت پیغامات مل رہے ہیں کہ یہ مجوزہ قرار داد (اس مسئلے کے حل کے لیے) معاون ثابت ہو گی۔‘‘
اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی میں آٹھ جولائی سے جاری فوجی کارروائی کے نتیجے میں اب تک 2083 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق ان میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں جن میں بچوں اور خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔