1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی ممالک یوکرائین میں مداخلت سے باز رہیں: روسی وزیر خارجہ

کشور مصطفیٰ21 جنوری 2014

سرگئی لاوروف نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے چند یورپی ساتھی یوکرائن کے سیاسی بحران میں بے جا مداخلت سے اجتناب برتیں اور سیاسی ادب آداب کو ملحوظ رکھیں۔

تصویر: Reuters

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یورپی ممالک کی حکومتوں کو یوکرائن کے سیاسی بحران میں مداخلت سے باز رہنے کو کہا ہے۔ لاوروف نے آج منگل کو یوکرائن کی داخلی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کی ایف کے حالیہ پرُتشدد واقعات ملک کے سیاسی بحران کے کنٹرول سے باہر ہونے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

ماسکو اب بھی سابقہ سویت جمہوریہ یوکرائن کو اپنے روایتی دائرہ اثر و رسوخ میں شامل ایک ساتھی ملک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے سے احتراز برتنے والے یوکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ کے خلاف پُر تشدد مظاہروں کا سلسلہ کریملن انتظامیہ کے لیے تردد کا باعث بنا ہوا ہے اور ماسکو حکام اضطراب کے عالم میں اس تمام صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ٹھکرانے کے بعد روس کی طرف سے یانوکووچ کو کئی بلین ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج بھی دیا گیا۔ اس کے علاوہ یوکرائن حکومت نے گزشتہ ہفتے عوامی احتجاج پر پابندی عائد کرنے کے لیے نئے قوانیں بھی منظور کیے ہیں۔ یانوکوچ کے یہ اقدامات یوکرائن کے عوام میں مزید برہمی اور اشتعال کا سبب بنے ہیں۔

لاوروف نے مظاہرین کی طرف سے بروئے کار لائے جانے والے تشدد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہےتصویر: picture-alliance/dpa

سرگئی لاوروف نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے چند یورپی ساتھی یوکرائن کے سیاسی بحران میں بے جا مداخلت سے اجتناب برتیں اور سیاسی ادب آداب کو ملحوظ رکھیں۔ تاہم اس کے برعکس بغیر کسی قسم کی دعوت کے، چند یورپی ممالک کے اراکین کی ایف کے مرکزی اسکوائر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے لیے بغیر سوچے سمجھے کُود پڑے جبکہ ان یورپی ممالک کے یوکرائین کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم تھے۔۔۔ یہ ناخوشگوار طرز عمل ہے۔‘‘

گزشتہ دسمبر میں امریکا کی نائب سیکرٹری خارجہ وکٹوریا نولینڈ، یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن اور اُس وقت کے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے یوکرائن کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے کی ایف میں حکومت مخالف مظاہرے کرنے والوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔

یورپی یونین کے وزراء یوکرائن حکومت کی طرف سے مظاہروں کو کچلنے کی کوششوں کے طور پر نافذ کیے جانے والے قوانین کی سخت مذمت کر رہے ہیں۔ یورپی سیاستدانوں نے ان قوانین کو ’’غیر جمہوری‘‘ قرار دیا ہے۔

لاوروف نے مظاہرین کی طرف سے بروئے کار لائے جانے والے تشدد کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’آتش زنی، پولیس پر حملے، املاک وغیرہ کو نقصان پہنچانا اور دھماکا خیز مادے کا استعمال انسانی رویے سے متعلق یورپی معیار کی کُھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘

یانوکووچ کے خلاف پُر تشدد مظاہروں کا سلسلہ کریملن انتظامیہ کے لیے تردد کا باعث بنا ہوا ہےتصویر: AFP/Getty Images

گزشتہ ہفتے یوکرائن کی پارلیمان کی طرف سے مظاہروں پر قدغن لگانے کی غرض سے متعدد نئے قوانین منظور کرنے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ امریکی انتظامیہ نے کہا تھا کہ پُر امن مظاہروں کو جرم قرار دینا غیر جمہوری عمل ہے اور اس طرح یوکرائن کی جمہوری بنیاد کو نقصان پہنچے گا۔ واشنگٹن نے کی ایف کو پابندیوں کی دھمکی بھی دی تھی۔

برسلز میں سویڈن کے وزیر خارجہ کارل بلٹ نے ان قوانین کو گزشتہ دہائیوں کےدوران کسی یورپی پارلیمان کی طرف سے پیش کردہ جابرانہ قوانین کا سب سے زیادہ ٹھوس پیکج قرار دیا تھا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں