1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی نوجوانوں کے لیے جرمنی میں نئے مواقع

Kishwar Mustafa30 اپریل 2012

ایک سال کے عرصے سے یورپی یونین میں شامل نوجوانوں کو یہ سہولت میسر ہے کہ وہ جرمنی میں مختلف شعبوں میں فنی تعلیم حاصل سکتے ہیں۔

...
تصویر: DW

اس سے خاص طور سے مشرقی جرمنی کے دست کار یا ہاتھ کا کام کرنے والے نوجوان سب سے زیادہ مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ نوجوان جرمنی آ کر ہاتھ کے کاموں کی تربیت حاصل کرنے کا بہت زیادہ اشتیاق رکھتے ہیں۔ مشرقی جرمن شہر ’ کوٹ بُس‘ کے ہاتھ کا کام کرنے والوں کے چیمبر کی طرف سے پولینڈ کے 22 نوجوانوں کو مدعو کیا گیا۔ تاہم ایک سال بعد ان میں سے محض 6 جرمنی میں رہ گئے ہیں۔

’جرمنی میں کام کی سہولت میرے لیے بہت اچھی ہے۔ پولینڈ میں ایک تو روز گار کے مواقع بہت کم ہیں دوسرے یہ کہ تنخواہیں بہت کم ہیں۔ جرمنی میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں زیادہ پیسے ملتے ہیں اور میں بہتر زندگی گزار سکتا ہوں۔ اس لیے میں اسے اپنی زندگی کا ایک نادر موقع سمجھتا ہوں‘۔ یہ کہنا ہے 25 سالہ پولش نوجوان پاول کا۔ اُس کے اپنے ملک میں بے روزگاری کی شرح بہت بڑھی ہوئی ہے۔ پولینڈ کے نوجوانوں کی کُل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ بے روزگار ہے۔ ’کوٹ بُس‘ میں Apprenticeship یا کار آموذی کے مواقع ابھی بھی موجود ہیں۔

تعمیراتی شعبے میں تربیت حاصل کرنے والا نوجوانتصویر: AP

یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ’کوٹ بُس‘ میں گزشتہ چند برسوں کے اندر Apprenticeship یا وظیفے کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کی صورتحال میں بہت زیادہ تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ پہلے یہاں اس کے بالکل مواقع موجود نہیں تھے۔ اب وظیفے کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کے مواقع ہیں تو اس کے لیے درخواست دہندگان نہیں ہیں۔

پاول کام کی تلاش میں تھا۔ چنانچہ وہ اپنے پولینڈ کے مغربی شہر Zielona Góra سے مشرقی جرمن شہر ’کوٹ ُبس‘ منتقل ہو گیا۔ اس کے ساتھ 21 دیگر پولش نوجوان بھی جرمنی آ گئے۔ کوٹ ُبس میں اُس نے جرمن زبان سیکھی، جوApprenticeship کے لیے لازمی ہے۔ ایک سال بعد ان میں سے محض 6 نوجوان کوٹ ُبس میں رہ گئے۔ باقی نوجوانوں میں سے کچھ رضا کارانہ طور پر شہر چھوڑ گئے اور چند ایسا کرنے پر مجبور تھے۔ وجہ ان کی بہت زیادہ غیر حاضری اور جرمن زبان کی بہت کم جانکاری۔ پاول نے ہمت نہ ہاری اور جرمن زبان کی مشق کرتا رہا، اس کی گرامر سیکھتا رہا یہاں تک کہ اس نے جرمن زبان کا امتحان پاس کر لیا۔ اس کے باوجود اسے ابھی مزید سیکھنا ہے۔ وہ کہتا ہے،’ جرمن زبان اب بھی ایک مسئلہ ہے۔ میں ہر روز سیکھتا ہوں، مشق کرتا ہوں اور روز بروز میری جرمن بہتر ہو رہی ہے۔ مجھے اسکول میں بھی بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ بہت سی تکنیکی اصطلاحات میرے لیے مشکل ہیں، کیونکہ یہ ڈکشنری یا لُغت میں موجود نہیں ہیں۔ مجھے اپنے کسی ساتھی سے پوچھنا پڑتا ہے۔ میرے اسکول میں ایک اچھا دوست ہے جو شوق سے میری مدد کرتا ہے‘۔

جرمن شہر لائبزگ میں قائم تکنیکی تربیتی مرکزتصویر: picture-alliance/dpa

تعمیراتی پروجیکٹ کے لیے کام کرنے والے پاول کو اُس کے جرمن ساتھیوں نے قبول کر لیا ہے۔ دریں اثناء جرمن اور پولش کارکنوں کے مابین ثقافتی تبادلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ پاول کے بقول،’ کبھی کبھی میرے جرمن ساتھی میرے ساتھ پولینڈ جاتے ہیں، وہ میری ماں کے بنائے ہوئے روایتی کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ہمارے شہر میں گھومتے پھرتے ہیں۔ یہ بہت اچھا ہے۔ میرے ساتھی شوق سے میرے ساتھ پولینڈ کی سیر کرتے ہیں اورمیں میں بھی اب بڑے شوق سے جرمنی میں رہ رہا ہوں‘۔

پاول کے باس ’ریوڈیگر گالے‘ بھی اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاول جرمنی میں اچھی طرح گھل مل کر رہ رہا ہے۔ انضمام ہی کسی بھی کار آموز یا شاگرد کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

اُستاد ’ریوڈیگر گالے‘ کے مطابق ’ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شاگرد کہاں سے آئے ہیں۔ اہم امر یہ ہے کہ ان کے اندر سیکھنے کی خواہش اورانہماک ہو۔ کوٹ ُبس کی ’ ٹریننگ چیمبر‘ میں اس وقت 700 افراد کے لیے تربیت کی آسامیاں موجود ہیں۔ اس لیے ایک اور پروجیکٹ تیار ہے۔ آئندہ خزاں میں 18 مزید پولستانی نوجوان اس سے استفادہ کرنے کے لیے جرمنی آئیں گے۔ اس طرح یہ سلسلہ مزید آگے بڑھتا رہے گا۔ اس طرح نوجوانوں کے لیے بین الثقافتی تبادلے کی فضا قائم ہو گی۔ خلاصہ یہ کہ نوجوانوں کے لیے دو زبانوں کی واقفیت بہت مفید ہوتی ہے۔

Schilling,Jan/km/aa

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں