یورپی وزرائے خارجہ کا اجلاس: روس پر مزید پابندیاں زیر بحث
12 مئی 2014
یورپی وزراء اس بارے میں صلاح و مشورے کر رہے ہیں کہ آیا روس کو نئی دھمکیوں سے متاثر کیا جا سکتا ہے؟ اور اس سلسلے میں ثالثی کون کرے گا؟ یورپی یونین کے ایک اعلیٰ سفارتکار کے مطابق، ’’یوکرائن کے بحران کے کسی سیاسی حل کے لیے ہمیں روس پر دباؤ برقرار رکھنا ہوگا۔‘‘
یورپی یونین کی ممبر ریاستوں کے وزرائے خارجہ روس پر پابندیوں کے دائرے کو وسیع تر کرنے کے لیے مزید ممکنہ پابندیوں کی ایک فہرست پر غور و خوض کر رہے ہیں۔ اس بارے میں گزشتہ ہفتے یورپی سفیروں اور یورپی کمیشن نے مختلف سفارشات کی ایک فہرست تیار کر لی تھی۔ مختلف افراد یا شخصیتوں پر پابندی میں سب سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔ اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر ایک یورپی سفارتکار کا کہنا تھا، ’’مستقبل میں ایسے افراد پر بھی سفری پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں اور اُن کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے جاسکتے ہیں جو یا تو بین الاقوامی اداروں کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کریں گے یا یوکرائن کے حوالے سے روسی حکومت کے اقدامات میں ماسکو کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کریں گے۔ دریں اثناء یورپی یونین نے ایسے ناموں کی ایک باقاعدہ فہرست تیار کر لی ہے، تاہم اسے مکمل طور پر مخفی رکھا گیا ہے۔ آج پیر 12 مئی کو برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ پہلے اس امر پر غور کریں گے کہ آیا روس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی جائیں یا نہیں۔
فی الوقت روسی معیشت کے خلاف کوئی سخت پابندی نہیں
یورپی مشاورتی کمیٹی کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ برسلز میں یورپی وزراء سب سے پہلے اس امر کا بھرپور اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ گزشتہ روز مشرقی یوکرائن میں ہونے والے ریفرنڈم کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور اسے غیرقانونی سمجھتے ہیں۔ روس کے خلاف پابندیوں کے نئے معیار اور اصولوں کے تحت ممکنہ طور پر اُن افراد پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں جو مشرقی یوکرائن میں چند روز قبل سلامتی و تعاون کی یورپی تنظیم او ایس سی ڈی کے فوجی معائنہ کاروں کو یرغمال بنانے کی کارروائی میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ روس اور یوکرائن کی حکومتوں کے اُن اراکین پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی جو ماسکو حکومت کی مدد و حمایت کر رہے ہیں۔ مذکورہ معیار اور اصول پر پورا اترنے والے روسی اور یوکرائنی آجرین پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ان کمپنیوں کے یورپی یونین میں موجود اثاثوں کو منجمد کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں امریکا پہلے ہی روسی کمپنیوں اور ایک روسی بینک پر پابندی عائد کر چُکا ہے۔
جرمنی سزاؤں کی بجائے امداد پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے
یورپی کمیشن نے یورپی یونین کے تمام 28 ممبر ممالک کو وسیع تر اقتصادی پابندیوں کے علیحدہ علیحدہ ملکوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے آگاہ کر دیا ہے۔ گزشتہ مارچ ہی میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے ریاستی اور ملکی سربراہان نے یورپی کونسل کو ایک جائزہ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی تاکہ اس امر کا اندازہ لگایا جا سکے کہ کون سی پابندیاں مفید ثابت ہوں گی اور کون سی نہیں۔ اندازوں کے مطابق روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کو وسیع تر کرنے کے سبب رواں سال جرمنی کی اقتصادی پیداوار میں 0.9 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم یورپی کمیشن کی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ روس پر اقتصادی پابندیوں کی وسعت کے سبب تیل اور گیس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے یورپی یا دنیا بھر کے صارفین کس حد تک متاثر ہوں گے۔
جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر آج برسلز میں اپنے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات میں روس کے خلاف پابندیوں کے موضوع پر کوئی خاص توجہ مرکوز نہیں کریں گے بلکہ اُن کی طرف سے یوکرائن کی حمایت کے لیے مضبوط سگنل کی اپیل متوقع ہے۔