یورپی و افریقی رہنماؤں کی سمٹ کا پہلا دن
3 اپریل 2014
بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں منعقد ہو رہی اس سمٹ میں پندرہ یورپی ممالک اور اتنے ہی افریقی ریاستوں کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں۔ اس سمٹ کا مقصد افریقی مسائل کے لیے افریقی حل تلاش کرنا بتایا گیا ہے۔ اس دوران مرکزی توجہ کا نکتہ بحران زدہ ملک وسطی افریقی جمہوریہ کے لیے یورپی یونین کی امن فوج کو حتمی شکل دینا بھی ہے۔ ایجنڈے میں شامل دیگر موضوعات میں غیر قانونی مہاجرت، انسانی حقوق اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنا اور ترقی بھی شامل ہیں۔
اس سمٹ کے ابتدائی دن یورپی اور افریقی ممالک نے دونوں براعظموں کے مابین باہمی احترام پر مبنی منصفانہ تعلقات استوار کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ ناقدین کے بقول افریقہ میں اقتصادی ترقی کی وجہ سے اب عالمی طاقتیں وہاں تجارت کی خواہاں ہیں جبکہ ماضی میں اس براعظم کو صرف امداد ہی دی جاتی تھی۔
یورپی افریقی سمٹ میں شریک جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا، ’’افریقہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس براعظم میں پائے جانے والے مسائل پر ہی توجہ مرکوز کرنا مناسب نہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہاں ترقی کے کتنے زیادہ مواقع موجود ہیں۔
فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے اس دوران یورپ اور افریقہ کے مابین ایک ایسے نئے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا، جس میں سکیورٹی، ترقی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو بنیادی توجہ دی جائے۔ اس سمٹ کے دوران وسطی افریقی جمہوریہ کے لیے یورپی یونین کی امن فورس کی تعیناتی کے حوالے سے تفصیلات بھی بیان کی گئیں۔ یہ مشن تنازعات کے شکار اس افریقی ملک میں گزشتہ ماہ روانہ کیا جانا تھا لیکن انتظامی اور دیگر وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہو سکا تھا۔ فرانس کی اس سابقہ نوآبادی میں افریقی یونین کے چھ ہزار جبکہ فرانس کے دو ہزار امن فوجی پہلے سے ہی تعینات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کے امن فوجی دارالحکومت بنگوئی میں تعینات کیے جائیں گے، جو مسلم اور مسیحی افراد کے مابین فسادات کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق بنگوئی میں انیس ہزار مسلمان افراد کو خطرات لاحق ہیں۔
سمٹ کے شرکاء کو بتایا گیا کہ مئی کے اختتام تک وسطی افریقی جموریہ میں آٹھ سو امن فوجی تعینات کر دیے جائیں گے۔ اٹھائیس رکن ممالک کے اس بلاک میں شامل نو ریاستوں نے ’ای یو فار کار‘ نامی اس مشن کے لیے اپنے اپنے فوجی دستیاب بنانے کا عہد ظاہر کر دیا ہے۔ تیرہ ممالک نے اس مشن کی حمایت کی ہے تاہم فوجیوں کی تعیناتی کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ ان ممالک میں جرمنی، سویڈن، برطانیہ اور لکسمبرگ بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وسطی افریقی جمہوریہ میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس سمٹ میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر برسلز کا دورہ کر رہے بان کی مون کا کہنا تھا کہ وہ اس بحران زدہ ملک کے لیے مزید مالی امداد اور امن فوجیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔
زمبابوے کے صدر رابرٹ مگابے نے اس سمٹ میں شریک ہونے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کی اہلیہ کو ویزا جاری نہیں کیا گیا تھا۔ اسی طرح جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے مگابے کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر اس سمٹ سے شریک ہونے سے منع کر دیا تھا۔ زوما کے بقول، ’’ہم بتایا گیا تھا کہ کس کو ضرور آنا چاہیے اور کیسے نہیں آنا چاہیے۔ یہ غلط ہے کیونکہ اس طرح غیر ضروری ناخوشگواری پیدا ہوتی ہے۔‘‘