میڈیٹیرینین یونین کے وزرائے خارجہ کا پہلا اجلاس
13 اپریل 2015
ہسپانوی وزیراعظم ماریانو راخوئے نے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونین کے ملکوں کو غیر ملکی تارکین وطن کے معاملے پر عملی اقدامات اور دہشت گردی کے عفریت کو قابو کرنے کے لیے بہتر تعاون کی ضرورت ہے۔ راخوئے کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی اور غیر ملکی مہاجرین کے معاملے پر یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کی اقوام کے درمیان قریبی تعاون اور رابطہ کاری وقت کی ضرورت ہے۔ ہسپانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ جہادیوں کی دہشت گردی سے اِس یونین کے تمام ممالک اور عوام کو گہرے خطرات لاحق ہیں اور بحیرہ روم کے دونوں کناروں پر آباد ریاستیں سنجیدہ کمٹمنٹ سے دہشت گردی کے عفریت کو شکست دے سکتی ہیں۔
آج پیر 13 اپریل کو ہسپانوی شہر بارسلونا میں منعقدہ اِس اجلاس میں یورپی یونین کی رکن اٹھائیس ریاستوں کے وزرائے خارجہ کے علاوہ بحیرہ روم کے جنوبی کناروں پر آباد آٹھ ملکوں کے خارجہ امور کے وزراء بھی شریک تھے۔ ان ملکوں میں الجزائر، مصر، اسرائیل، اردن، لبنان، مراکش، فلسطینی اتھارٹی اور تیونس شامل تھے۔ سن 2008 کے بعد یورپی یونین اور بحیرہ روم کی ریاستوں کی میٹنگ کو اِس نئی تنظیم کا سب سے بڑا اجلاس قرار دیا گیا۔
تقریباً سات برس قبل قائم کی جانے والی میڈیٹیرینین یونین (Mediterranean Union) کی پہلی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی میزبانی اسپین کو حاصل ہوئی۔ اسی ملک میں سن 2004 میں یورپ میں کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا۔ اِس نئی یونین کے رکن ممالک کی تعداد تینتالیس ہے۔ اِس کے قیام کا مقصد یورپی یونین اور بحیرہ روم کے کنارے پر آباد دوسری ریاستوں کے درمیان مساوی بنیاد پر مکالمت شروع کر کے مختلف معاملات کا بہتر حل تلاش کرنا ہے۔ بارسلونا میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی چیف فیڈیریکا موگرینی نے بھی یونین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایک مینٹگ میں شرکت کی۔ اِس میں علاقائی امور کو زیر بحث لایا گیا۔ ریجنل پالیسی کی میٹنگ میں یورپی ملکوں کی تنظیم کے کمشنر ژوہانس ہان بھی شریک تھے اور انہوں نے مختلف معاملات پر اپ ڈیٹ دیا۔
کانفرنس کے موقع پر اردن کے وزیر خارجہ ناصر جُودہ نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کس طرح نوجوانوں کو جہادیوں کے چنگل سے بچایا جائے اور اِس مقصد کے لیے بہتر حکمت عملی تیار کر کے اُس پر عمل کرنا اہم ہے۔ جُودہ کے مطابق نوجوانوں کے مسائل اور اُن کی پریشانیوں کے تدارک سے انہیں جہادی گروپ میں شمولیت سے روکا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی مہاجرین کے حوالے سے یورپی یونین کی جانب سے ایک نئی حکمتِ عملی مرتب کرنے کا بھی اشارہ دیا گیا ہے۔