1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین اور روس کا سربراہی اجلاس

Zubair Bashir4 جون 2013

روس اور یورپی یونین کے مابین آج ایک روزہ مذاکرات ہورہے ہیں۔ ان مذاکرات میں دیگر معاملات کے ساتھ برسلز کی جانب سے اسد مخالفین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں بھی بات ہوگی۔

تصویر: Reuters

ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور يورپی يونين کے مابين آج ہونے والی اس بات چیت میں شام کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق يورپی کی جانب سے پابندی کے خاتمے اور فريقين کے مابين قدرتی گيس کی ترسيل سے متعلق تنازعات مرکزی اہميت کے حامل ہوں گے۔

ماسکو حکام پر امید ہیں کہ وہ ان مذاکرات کے نتیجے میں یورپ کے لیے بغیر ویزہ سفر کرنے کی سہولت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گےتصویر: Reuters

اس اجلاس ميں ملکی صدر ولادی مير پوٹن يورپی کونسل کے صدر ہرمان فان رامپوئے اور يورپی کميشن کے سربراہ يوزے مانوئل باروسو سے ملاقات کريں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ برسلز اور ماسکو حکام اس سربراہی کانفرنس ميں شام کے موضوع پر مجوزہ امن کانفرنس کی حمايت ميں بيان جاری کر کے اپنے تنازعات کو کم کرنے کی کوشش کر سکتے ہيں۔

اجلاس شروع ہونے سے قبل ایک بیان میں ماسکو کے یورپی یونین میں سفیر ولادی میر چیخوف کا کہنا تھا، ’’شام کا موضوع مذاکرات کے ترجیحاتی موضوعات میں سے ایک ہے‘‘۔

برسلز اور ماسکو حکام کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات میں شام کا مسئلہ گفتگو کا غالب موضوع رہے گا۔ اس حوالے سے یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ کوہ یورال میں واقع صنعتی شہر یتاترنبرگ میں ہونے والے اس اجلاس کے دوران روس کا انسانی حقوق کا ریکارڈ بھی زیر بحث آسکتا ہے۔

مذاکرات کے آغاز سے پہلے روسی صدر ولادی میر پوٹن کی جانب سے يورپی کونسل کے صدر ہرمن فان رومپوئے اور يورپی کميشن کے سربراہ يوزے مانوئل باروسو کے اعزاز میں خیر سگالی عشائیہ بھی دیا گیا۔

شام کے مسئلے پر دونوں فریقین کے درمیان واضح تقسیم نظر آتی ہے۔تصویر: Reuters

ماسکو حکام اس بات کے لیے پر امید ہیں کہ وہ آج ہونے والے ان مذاکرات کے نتیجے میں یورپ کے لیے بغیر ویزہ سفر کرنے کی سہولت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ روس کی کوشش ہوگی کہ وہ یورپی یونین میں اپنے گیس منصوبے کے لیے بھی رعایت حاصل کرے۔ یورپی یونین کے نئے قوانین کے مطابق روس یورپی یونین میں گیس پائپ لائن یا اس سے متعلق دیگر تنصیبات قائم نہیں کرسکتا۔

شام کے مسئلے پر دونوں فریقین کے درمیان واضح تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طرف یورپی یونین اسد حکومت مخالف شامی اپوزیشن کی حمایتی ہے تو دوسری طرف پوٹن مسلسل ایک ایسی حکومت کی حمایت میں ڈٹے ہوئے جو سوویت دور سے ماسکو کی بڑی اتحادی ہے۔

zb/aba(AFP)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں