1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین اور چین کے تعلقات قریبی لیکن مشکل بھی

Kishwar Mustafa16 نومبر 2012

یورپی یونین چاہتی ہے اور اس پر لازم بھی ہے کہ یہ چین کی نئی قیادت کے ساتھ مکالمت کو مضبوط بنائے۔ تاہم اس کی راہ میں چند رکاوٹیں بھی ہیں۔

تصویر: picture-alliance/dpa

چین کا شمار ایسے ملکوں میں ہوتا ہے جو بہت تیزی سے تبدیلیوں کی طرف گامزن ہیں۔ اقتصادی کامیابیاں اس ملک کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کے ساتھ مل کر اسے مستقبل کی دنیا کی ایک اہم طاقت بن کر ابھرنے میں غیر معمولی مدد دے رہی ہیں۔

یورپی یونین اور چین کے سیاستدان جب بھی ملاقات کرتے ہیں تو یہ کیمرے کی فلیش لائٹ کی چمک کے ساتھ رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ تاہم یہ اپنے اختلافات چھپا نہیں سکتے۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں فریقین کے نقطہ ہائے نظر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ تب بھی مستقبل کے چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی نئی حکومت سے یورپ کو بڑی لطیف امیدیں وابستہ ہیں۔ جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں قائم اسکول آف فنانس سے منسلک چینی امور کے ایک جرمن ماہر ہورسٹ لوُشل کے بقول’شی جن پنگ اب تک کے چینی صدر ہو جن تاؤ کے مقابلے میں کسی حد تک اعتدال پسند نظر آ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چین اب کسی حد تک اقتصادی منڈی کی طرف چل پڑا ہے۔ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ چین اب آزاد خیال اور کھلی سیاست پر توجہ دیتے ہوئے آگے بڑھے گا۔‘

چین متعین یورپی یونین کے سفیر مارکوس ایڈیررتصویر: AP

حقیقت یہ ہے کہ چین اور یورپ کا انحصار ایک دوسرے پر گہرا ہے۔ انہیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور یہ دونوں آپس کے قریبی تجارتی تعلقات سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ یورپ چین کا سب سے اہم تجارتی پارٹنر ہے۔ چین کی یورپ میں سرمایہ کاری یورو کے بحران کے اثرات سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

چین میں یورپی یونین کے مشن کے سربراہ مارکوس ایڈیرر یورپی یونین اور چین کو ہم پلہ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،’ہم چینی سامان کی سب سے بڑی مارکیٹ ہیں جبکہ یورپی یونین کی فرمیں چین کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنیاں ہیں اور چین یورو کی مضبوطی میں بھی غیر معمولی دلچسپی رکھتا ہے‘۔

ایڈیرر کا ماننا ہے کہ یورو چین کے لیے اس لیے غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہے کہ بیجنگ حکومت ملکی کرنسی یوآن کو مستقبل میں دنیا کی ایک بڑی ریزرو کرنسی کے طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ ایسا چین کے لیے اس صورت میں آسان تر ہو گا جب دنیا میں صرف ایک ہی بڑی محفوظ کرنسی نہ ہو، یعنی ڈالر۔

R.Bosen/S.Faber/km/ij

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں