یورپی یونین اور یوکرائن کے درمیان ٹریڈ ڈیل پر عمل مؤخر
13 ستمبر 2014
یورپی یونین اور یوکرائن کے درمیان ٹریڈ ڈیل کو ملتوی کرنے کی ایک وجہ روس کی جانب سے وہ شکایت بھی تھی کہ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر معاہدے پر عمل ہوا تو اُس کی صنعت کو بھاری نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ یوکرائنی تنازعے کی وجہ سے روس اور یورپی یونین ایک دوسرے کے مدِ مقابل آئے ہوئے ہیں۔ اسی تنازعے کی وجہ سے امریکا اور مغربی اقوام نے روس پر معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور یورپی یونین نے تازہ پابندیوں کا اعلان جمعے کے روز کیا تھا۔ روس نے جوابی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کو ملتوی کرنے کو بحران کے حل کی ایک کوشش قرار دیا گیا ہے۔ روس نے یکم نومبر سے یوکرائنی مصنوعات کی روس میں درآمد پر پابندی کا اعلان کر رکھا ہے۔ روسی حکام کا خیال ہے کہ یوکرائنی مصنوعات کو روکنے سے یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی مصنوعات کی روس میں کھپت کے امکانات مزید وسیع ہو جائیں گے۔ یورپی یونین کے ٹریڈ کمشنر کارل ڈی گُوخٹ کا کہنا ہے کہ ٹریڈ ڈیل پر التوا سے مسائل کو حل کرنے کے لیے مذاکراتی عمل میں گنجائش نکلے گی۔
کارل ڈی گُوخٹ کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یورپی یونین، یوکرائن اور روس کسی حل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے اِس کا اظہار روسی وزیر اقتصادیات الیکسی اُلیکائیف اور یوکرائنی وزیر خارجہ پاولو کلِمکِن کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا۔ ڈی گوخٹ کے مطابق روس کو دی جانے والی رعایت اصل میں یوکرائن پر مستقبل میں طے پانے والے جامع امن عمل کا حصہ ہے۔ روسی، یوکرائنی اور یورپی یونین کے اہلکاروں کی ملاقات برسلز میں ہوئی۔ گوخٹ نے یہ بھی کہا کہ یوکرائن کو یورپی منڈیوں تک رسائی کا خصوصی درجہ بدستور حاصل رہے گا اور امپورٹ پر طے شدہ رعایتی محصولات کا نفاذ رہے گا۔
یورپی یونین کے رکن ملکوں سے مختلف اشیا کی ترسیل پر یوکرائنی حکومت کو پریشانی اور تشویش بھی لاحق ہے۔ دارالحکومت کییف میں حکومتی ذرائع کا خیال ہے کہ یورپی ملکوں سے سستے سامان کی آمد سے یوکرائنی اقتصادیات کو نقصان پہنچےگا کیونکہ مقامی اشیا کی کھپت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے اور یہ بے روزگاری کے علاوہ چھوٹی صنعتوں کے انہدام کا بھی سبب بن سکتا ہے۔