یورپی یونین: تمام برطانوی خواہشات کی تکمیل مشکل، میرکل
27 فروری 2014
جرمنی میں موجودہ وسیع تر مخلوط حکومت کی سربراہ اور تیسری مدت کے لیے وفاقی چانسلر کے عہدے پر فائز قدامت پسند سیاستدان انگیلا میرکل نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ صرف لندن کی خاطر یورپی یونین میں کلیدی نوعیت کی اصلاحات کا وعدہ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
تاہم جرمن چانسلر برطانوی پارلیمان کے دونوں ایوانوں دارالعوام اور دارالامراء کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کو ایک بلاک کے طور پر کچھ اصلاحات کی ضرورت تو ہے لیکن برطانیہ کی جگہ یورپی یونین کے اندر ہے اور اسے اس بلاک کا حصہ ہی رہنا چاہیے۔
میرکل کا برطانیہ کا آج کا ایک روزہ دورہ بہت مصروف تھا اور انہوں نے برطانوی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے جو خطاب کیا، وہ جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے بعد سے کسی بھی جرمن سربراہ حکومت کی طرف سے لندن کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے کیا جانے والا پہلا خطاب تھا۔
یورپ میں ان دنوں اس بارے میں کافی چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ آیا طویل المدتی بنیادوں پر برطانیہ یورپی یونین میں شامل رہے گا۔ اس بارے میں متعدد برطانوی سیاستدان بھی مشروط طور پر ایسے بیانات دے چکے ہیں، جن میں ضروری اصلاحات متعارف نہ کرانے اور برطانوی مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں لندن کے یورپی یونین سے ممکنہ اخراج کا ذکر کیا گیا تھا۔
اس پس منظر میں انگیلا میرکل نے آج اپنے خطاب میں کہا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ان کے تجویز کردہ راستے کے ایک حصے پر تو چلنے کے لیے تیار ہیں لیکن پورے راستے پر نہیں۔
جرمن سربراہ حکومت نے انگریزی زبان میں کی گئی اپنی تقریر میں کہا، ’’کچھ لوگ یہ توقع کر رہے ہیں کہ میری یہ تقریر یورپی یونین میں کلیدی اصلاحات کا ایک ایسا راستہ ہموار کر دے گی، جس پر چلتے ہوئے برطانیہ کی تمام حقیقی یا مبینہ خواہشات پوری ہو جائیں گی۔ مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ ایسی امیدیں لگانے والوں کو ناامیدی ہو گی۔‘‘
اس کے برعکس میرکل نے ڈیوڈ کیمرون کی اس خواہش کی تائید کی کہ یورپی یونین میں اس رجحان کا تدارک کیا جانا چاہیے، جس کے تحت مقابلتاﹰ غریب رکن ملکوں کے یورپی شہری امیر ملکوں کا رخ کرتے ہوئے آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت کا غلط استعمال کرتے ہیں اور میزبان ملک کے سوشل سکیورٹی سسٹم کو اپنے مالی فائدوں کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں انگیلا میرکل نے برطانوی سیاست کو جو پیغام دیا، وہ یہ تھا کہ یورپ کو مضبوط برطانیہ کی ضرورت ہے اور یورپ میں برطانیہ کی آواز یورپی یونین کے اندر سے ہی اٹھنی چاہیے۔‘‘
چانسلر میرکل نے برطانوی پارلیمان سے اپنے خطاب سے قبل آج لندن میں اپوزیشن کی لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ سے بھی ملاقات کی۔ پارلیمانی خطاب کے بعد انہوں نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جہاں ان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
سہ پہر کے وقت جرمن چانسلر نے بکنگھم پیلس میں برطانوی ملکہ الزبتھ ثانی سے بھی ملاقات کی اور ان کے ساتھ چائے پی۔