’یورپی یونین جائے بھاڑ میں‘ کہنے پر نولینڈ کی معذرت
7 فروری 2014
نولینڈ اور یوکرائن میں متعین امریکی سفیر جیف پِیٹ کے درمیان حال ہی میں ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کی ٹیپ لیک ہو گئی تھی، جس میں نولینڈ نے یورپی یونین کو ’گالی‘ دی تھی۔ یوکرائن میں جاری سیاسی بحران اور وہاں کسی ممکنہ نئی حکومت کے قیام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نولینڈ نے کہا تھا، ’یورپی یونین جائے بھاڑ میں‘۔
یہ ٹیلی فون کال بیچ ہی میں اچک لی گئی تھی اور اسے یوٹیوب پر جاری کر دیا گیا تھا۔ ویڈیو کچھ یوں تھی کہ تصویر ساکت تھی، پس پردہ اس ٹیلی فون کال کی ریکارڈنگ چل رہی تھی جبکہ اسکرین پر روسی زبان میں اس گفتگو کے ترجمے کی پٹی چل رہی تھی۔ اس کال میں ہونے والی گفتگو سے لگتا ہے کہ یہ زیادہ پرانی نہیں ہے۔
امریکی حکام نے مبینہ طور پر ان دو سفارت کاروں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کو مسترد کرنے کی بجائے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی سفارت کاروں کی ٹیلی فون کالز کی جاسوسی کر رہا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے اس ٹیپ کے اصل یا من گھڑت ہونے کی بابت کوئی بات کرنے کی بجائے کہا، ’مجھے کہنے دیجیے کہ وہ (نولینڈ) اپنے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، ظاہر ہے، انہوں نے اس پر ان سے معذرت کی ہے۔‘
ساکی نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس آزادانہ تفصیلات نہیں ہیں کہ یہ گفتگو کس طرح ریکارڈ کر لی گئی اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کس نے چڑھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ یقیناﹰ یہ روس کا نیا ’جاسوسی ہتھکنڈا‘ ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے الزام عائد کیا ہے کہ یوٹیوب پر موجود اس ٹیپ کو روسی حکومت کی جانب سے ٹوئٹر کے ذریعے پھیلایا گیا، جس سے اس میں روس کے ملوث ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
گزشتہ برس نائب امریکی وزیرخارجہ برائے یورپی امور کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی وکٹوریا نولینڈ اپنی اس ٹیلی فون کال میں یوکرائن میں متعین امریکی سفیر پِیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے صدر یانوکووچ کی اس پیشکش کا ذکر کرتی بھی سنائی دیتی ہیں، جس میں انہوں نے اپوزیشن لیڈر ارسینی یاتسینیُک کو وزیراعظم اور سابق ہیوی ویٹ باکسر وتالی کلِچکو کو نائب وزیراعظم بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ ان دونوں اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا گیا تھا۔
نولینڈ یہ کہتی سنائی دیتی ہیں کہ کلچکو کا یانوکووچ کے ساتھ کام کرنا، اُن کے ’خیال میں غیرضروری بھی ہے اور ناقابلِ عمل بھی۔‘
نولینڈ دسمبر میں یوکرائن میں ان مظاہروں کے مرکز آزادی چوک پر بھی گئیں تھیں، جس کا مقصد وہاں موجود مظاہرین سے اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ اس گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کییف میں سابق ڈچ سفیر رابرٹ سیری کو یوکرائن کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔
نولینڈ کی اس ٹیلی فونک گفتگو سے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان یوکرائن کے معاملے پر پائے جانے والے پالیسی اختلافات کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے، ’میرے خیال میں یہ بہت اچھا ہو گا۔ اس سے چیزیں آپس میں جڑیں گی، کیوں کہ انہیں اقوام متحدہ جوڑے گی۔ خیر یورپی یونین جائے بھاڑ میں‘۔