یورپی یونین: دسمبر سمٹ اختتام پذیر
15 دسمبر 2012
یورپی رہنماؤں کی سمٹ میں کئی اہم معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ یورپی بینکاری نظام پر خصوصیت سے لیڈروں نے بات کی۔ یورپی مالیاتی بحران کے تناظر میں قرضوں کے بوجھ تلے دبے ملکوں کے لیے خصوصی فنڈ کے معاملے کو مؤخر کر دیا گیا۔ جرمنی اس کی مخالفت کر رہا تھا۔ یہ بھی طے پایا کہ علیل بینکوں میں براہ راست امدادی فنڈ سے امداد کا عمل شروع کیا جائے گا۔ یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانوئیل باروسو کے مطابق ایسی امداد کا سلسلہ اگلے سال کے وسط سے شروع ہو جائے گا۔ اس کانفرنس میں یورپی استحکامی فنڈ (ESM) پر بھی یورپی رہنماؤں کی توجہ رہی۔
یوروز زون کی مارکیٹوں کو مضبوط کرنے کی کوشش
یورپی یونین کی سمٹ میں سب سے اہم سوال یورو زون کی مارکیٹوں کو بحرانوں کے مقابلے میں توانا کرنا تھا تاکہ وہ کسی بھی ایمرجنسی کا سامنا کر سکے۔ اس مناسبت سے لیڈر اس پر راضی ہوئے کہ علیل بینکوں کا بوریا بستر گول کر دینا یورو زون کی اقتصادیات کے لیے اہم ہو گا۔ اس دوران بجٹ معاملات پر بھی غوروخوض کیا گیا۔ مالیاتی بحران کے تناظر میں اقتصادی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کانفرنس کے نتائج سے مایوسی ہوئی ہے کیونکہ توقعات کچھ اور تھیں۔ کانفرنس کے دوران یورو زون کے وزرائے خزانہ کے گروپ کے سربراہ لکسمبرگ کے وزیراعظم ژاں کلود ینکر کا کہنا ہے کہ وہ بھی توقعات میں کمی سے بہت مایوس ہوئے ہیں لیکن رہنماؤں کو یقین ہے کہ اس زون کے مالی معاملات میں ترقی کے آثار نمودار ہوئے ہیں۔ بعض یورپی لیڈروں نے گزشتہ روز ختم ہونے والی سمٹ کو شاندار قرار دیا۔
شام کا بحران
یورپی یونین کے برسلز میں منعقدہ اجلاس میں عرب ملک شام کی صورت حال پر بھی غور کیا گیا۔ یورپی لیڈران نے اپنے وزرائے خارجہ کو ہدایت کی کہ وہ شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کو خصوصی توجہ دیتے ہوئے تمام آپشنز کو استعمال کرنے کا جائزہ لیں۔ یہ اہم ہے کہ یورپی رہنماؤں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن خطوط پر وزرائے خارجہ شامی اپوزیشن کے لیے تمام آپشنز کے استعمال کا مربوط انداز میں جائزہ لیں گے۔ رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ شام کا مستقبل جمہوری روایات کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے احترام کے ساتھ وابستہ ہونا لازمی ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون نے یہ ضرور کہا کہ لیبیا کی طرح شام میں فوجی آپریشن کا امکان نہیں ہے۔ اسی ہفتے کے دوران یورپی یونین نے شامی اپوزیشن کے نئے قومی اتحاد کو عوام کے جائز نمائندے کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ یورپی یونین انیس مختلف ادوار میں شام میں قائم اسد حکومت پر پابندیوں کا نفاذ کر چکی ہے۔
سکیورٹی اور ڈیفنس
جمعے کے روز یورپی لیڈران نے یورپ کی عسکری صلاحیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اسلحے کی انڈسٹری کو بھی مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ یورپی لیڈران کو اس بات کا احساس ہے کہ کفایت شعارانہ پالیسیوں کی وجہ سے یہ دونوں شعبے نظرانداز ہوئے ہیں۔ اس باعث یورپی ڈیفنس انڈسٹری کو بہت نقصان کا سامنا ہے۔ یورپی یونین کے لیڈران نے امریکا کی سکیورٹی پالیسی کو ایشیا کی جانب شفٹ ہونے کے تناظر میں خیال کیا کہ اب یورپی یونین براعظم افریقہ اور بحیرہ روم کے سکیورٹی امور پر نگاہ رکھنے کو اہمیت دے گی۔ یورپی یونین کی اگلے برس دسمبر میں ہونے والی سمٹ میں سکیورٹی اور ڈیفنس انڈسٹری کو اہم موضوع کے طور پر لیا جائے گا۔ اسی سربراہ اجلاس میں یورپی یونین کی مشترکہ سکیورٹی پالیسی کو مستحکم کرنے کے نئے راستوں کا تعین کیا جائے گا۔
ah/ng (dpa, Reuters)