1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین سربراہ کانفرنس کے نتائج، تبصرہ

Christian Trippe / امجد علی28 جون 2014

یورپی یونین کی دو روزہ سربراہ کانفرنس میں یوکرائن کے ساتھ شراکت کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے اور لکسمبرگ کے سیاستدان ژاں کلود یُنکر کو یورپی کمیشن کا آئندہ صدر بھی نامزد کر دیا گیا۔ ڈی ڈبلیو کے کرسٹیان ٹریپے کا تبصرہ۔

دو روزہ سربراہ کانفرنس کا آغاز جمعرات چھبیس جون کو بیلجیم ہی کے شہر ’ایپریس‘ میں اُس تقریب سے ہوا تھا، جس میں پہلی عالمی جنگ کے آغاز کی یاد تازہ کی گئی
دو روزہ سربراہ کانفرنس کا آغاز جمعرات چھبیس جون کو بیلجیم ہی کے شہر ’ایپریس‘ میں اُس تقریب سے ہوا تھا، جس میں پہلی عالمی جنگ کے آغاز کی یاد تازہ کی گئیتصویر: Reuters

جمعہ ستائیس جون کو برسلز میں اپنے اختتام کو پہنچنے والی یورپی یونین کی اس سربراہ کانفرنس نے یُنکر کی صورت میں ایک ایسے سیاستدان کو یورپی کمیشن کا صدر نامزد کیا ہے، جس نے اس سے پہلے یورپ بھر میں انتخابی مہم میں خود کو چوٹی کے اس عہدے کے لیے پیش کیا، جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

اب تک یورپی کمیشن یورپی یونین کے رکن ملکوں کی قومی حکومتوں کے نمائندہ ادارے یعنی یورپی کونسل سے ہدایات لیتا تھا۔ یُنکر کی نامزدگی کے ساتھ ہی اب اس طرح کے اختیارات کونسل کی بجائے پارلیمان کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔

یورپی یونین میں یورپی پارلیمنٹ کا یہ بڑھتا ہوا عمل دخل بظاہر خوش آئند ہے اور اس کا نتیجہ آگے چل کر یہ بھی نکل سکتا ہے کہ یونین کے معاملات زیادہ شفاف اور جمہوری ہو جائیں لیکن دوسری طرف یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ ایسا ہی ہو۔ پہلے تو اُس نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کرنا ہو گی، جو یُنکر کی نامزدگی کے عمل کے دوران رکن ملکوں کے باہمی تعلقات کو پہنچا ہے۔

ڈوئچے ویلے اسٹوڈیوز برسلز کے انچارج کرسٹیان ٹریپے

اب تک کی صورتِ حال کے پیشِ نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی تمام تر مخالفت کے باوجود یُنکر کی نامزدگی برطانیہ کو یورپی یونین سے اور بھی دور لے جا سکتی ہے اور برطانیہ یونین سے نکل جانے کا بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔ یُنکر کی نامزدگی کی صورت میں یونین کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی فیصلہ ایک بڑے رکن ملک یعنی برطانیہ کی مرضی کے خلاف کیا گیا ہے۔

اس سربراہ کانفرنس کے دوران خارجہ سیاست میں بھی ایک بڑا فیصلہ کیا گیا اور وہ فیصلہ بھی اپنے اندر کئی خطرات لیے ہوئے ہے۔ یوکرائن، جارجیا اور مولدووا کے ساتھ آزاد تجارت اور شراکت کے معاہدے یورپی یونین کے لیے ایک بڑی ذمے داری بھی بن گئے ہیں۔ ان معاہدوں کی صورت میں روس کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کی صورتِ حال اور بھی شدید ہو گئی ہے، یہ اور بات ہے کہ زیادہ تر رکن ممالک ایسا نہیں سمجھتے۔ بالفرض روس نے ان معاہدوں کی وجہ سے ان تینوں ممالک کو اقتصادی شعبے میں تنگ کرنا شروع کر دیا تو پھر کییف، طبلیسی اور چسیناؤ حکومتوں کی مالی مدد کرنا یورپی یونین کی ذمے داری بن جائےگی۔

یورپی یونین کی جمہ ستائیس جون کو برسلز میں اختتام کو پہنچنے والی دو روزہ سربراہ کانفرنس کا آغاز جمعرات چھبیس جون کو بیلجیم ہی کے شہر ’ای پریس‘ میں اُس تقریب سے ہوا تھا، جس میں پہلی عالمی جنگ کے آغاز کی یاد تازہ کی گئی۔ یورپی سربراہانِ امملکت و حکومت نے اس جنگ میں مرنے والوں کی یاد پر پھول چڑھاتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ آج کے دور میں یورپی ساتھی ممالک کے درمیان جنگ مزید ممکن نہیں رہی ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں