یورپی یونین سمٹ: آغاز سے قبل سات سالہ بجٹ پر اتفاق رائے
27 جون 2013
یورپی یونین کے 2014ء سے لے کر 2020ء تک کے 960 بلین یورو کے بجٹ اور پھر مستقبل میں یورپی بینکوں کے لیے ممکنہ بیل آؤٹ پروگرام کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے معاملات پر اتفاق رائے نہ صرف آخری وقت پر ہوا بلکہ اس کے لیے بھرپور بحث بھی دیکھنے میں آئی۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جمعرات کی سہ پہر دو روزہ سمٹ کے لیے برسلز پہنچنے والے یورپی سربراہان مملکت و حکومت کو عملی طور پر ایک نیا حوصلہ مل گیا کہ اس بلاک کے اقتصادی اور مالیاتی مسائل پر قابو پانے کی ان کی کوششیں نہ صرف قابل اعتماد ہیں بلکہ بین الاقوامی برادری اور عالمی منڈیوں کو ان کاوشوں کے مؤثر ہونے کا قائل بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ بیلجیم کے دارالحکومت میں جمع یورپی رہنماؤں کو کل جمعے کے روز اس کانفرنس کے اختتام تک اور بھی بہت سے اہم امور کا سامنا رہے گا، جو انہیں مسلسل مصروف رکھیں گے تاہم اگلے سات سال کے بجٹ اور یورپی بینکنگ انڈسٹری کے لیے بیل آؤٹ سے متعلق اتفاق رائے بھی کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔
یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانوئل باروسو نے سمٹ کے آغاز سے محض چند گھنٹے قبل آج برسلز میں اعلان کیا کہ رکن ریاستوں کے نمائندوں اور یورپی پارلیمان کے ارکان کے مابین اگلے سات سال کے اس بجٹ کی منظوری سے متعلق اتفاق رائے ہو گیا ہے، جس کی مالیت 960 بلین یورو یا 1.3 ٹریلین ڈالر کے برابر بنتی ہے اور جس کی منظوری کے لیے گزشتہ برس موسم خزاں سے مسلسل کاوشیں کی جا رہی تھیں۔
اب اس مالیاتی بل کو پہلے سربراہی کانفرنس کے شرکاء منظور کریں گے اور پھر یورپی پارلیمان اگلے ہفتے ہونے والی رائے شماری میں اکثریتی رائے سے اس کی حتمی منظوری دے دے گی۔ اس بجٹ میں پہلی مرتبہ یورپی یونین کی تاریخ میں کٹوتیاں بھی کی گئی ہیں لیکن منظورہ کردہ مالی وسائل نہ صرف ریکارڈ بے روزگاری کے خلاف پروگرام کے تحت، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے کافی ہوں گے بلکہ بہت سی رقوم نئی سرمایہ کاری کے لیے بھی استعمال کی جا سکیں گی۔
اس بجٹ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ زرعی شعبے کے لیے مالی اعانتوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے علاوہ 2020ء تک یونین کے بنیادی منصوبوں کے لیے فنڈنگ کی ضمانت بھی مل گئی ہے۔
بجٹ پر اتفاق رائے سے چند گھنٹے قبل یونین کے وزرائے خزانہ نے بھی اپنے ایک اجلاس میں اس بات پر اتفاق کر لیا کہ مستقبل میں بحران زدہ بینکوں کے لیے بیل آؤٹ کے سلسلے میں مالی نقصانات کس کو، کس طرح اور کس ترتیب سے لیکن ایسے برداشت کرنا ہوں گے کہ حتمی ادائیگیاں یورپی ٹیکس دہنگان کو نہ کرنا پڑیں۔
یورپی یونین کی اس سمٹ کے شرکاء متوقع طور پر یہ تصدیق بھی کر دیں گے کہ لیٹویا نے یورو زون میں شمولیت کی شرائط پوری کر دی ہیں۔ لیٹویا تقریباﹰ یقینی طور پر اگلے برس یکم جنوری سے یورپی کرنسی اتحاد میں شامل ہونے والے 18 ویں ملک کے طور پر یورو زون کا رکن بن جائے گا۔
(mm / shs (AP