1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہعراق

یورپی یونین سے 35 سال بعد کسی پرواز کی بغداد میں پہلی لینڈنگ

مقبول ملک اے ایف پی کے ساتھ
16 دسمبر 2025

یورپی یونین سے کسی تجارتی فضائی کمپنی کی 35 سال بعد پہلی پرواز منگل 16 دسمبر کو عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتر گئی۔ بغداد حکومت کے مطابق عراق کی ’’ہوا بازی کے یورپی نقشے‘‘ پر واپسی خوش آئند ہے۔

عراقی دارالحکومت بغداد کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ
عراقی دارالحکومت بغداد کا بین الاقوامی ہوائی اڈہتصویر: Vitaliy Belousov/Sputnik/dpa/picture alliance

عراقی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ یورپی یونین کے کسی رکن ملک کی کسی ایئر لائن کی ایک تہائی صدی سے بھی زیادہ عرصے بعد جو اولین پرواز منگل کو بغداد کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اتری، وہ یونان کی ایجیئن ایئر لائنز کی ایک فلائٹ تھی۔

عراق سے اقوامِ متحدہ مشن اور امریکی فوج کے انخلا کا آغاز، مگر بیرونی دباؤ برقرار

عراقی وزارت ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں کہا کہ عشروں بعد ایسی پہلی فلائٹ کا بغداد میں اترنا ''عراق کی شہری ہوابازی کے یورپی نقشے پر واپسی‘‘ کا ثبوت ہے، جو بہت خوش آئند ہے۔

ساتھ ہی اس وزارت نے کہا کہ اس یورپی فلائٹ کی بغداد میں لینڈنگ ''ایوی ایشن کے عراقی شعبے کے خوش کن بحالی کا ایک نیا مرحلہ‘‘ بھی ہے۔

ایتھنز کے ہوائی اڈے پر کھڑا ایجیئن ایئرلائنز کا ایک مسافر طیارہتصویر: Nicolas Economou/NurPhoto/picture alliance

یورپی یونین سے بغداد تک براہ راست فضائی رابطوں میں تعطل کب سے؟

یورپی یونین کے رکن ممالک کی فضائی کمپنیوں کی عراقی دارالحکومت بغداد تک براہ راست پروازوں کا سلسلہ سلامتی کی وجوہات کی بنا پر 1990 کی دہائی کے اوائل میں اس وقت سے بند تھا، جب طویل عرصے تک عراق پر حکومت کرنے والے صدر صدام حسین نے خلیج فارس میں عراق کی ہمسایہ عرب ریاست کویت پر فوجی حملہ کر دیا تھا۔ کویت پر یہ عراقی فوجی حملہ خلیج کی پہلی جنگ کے نتیجے میں ناکام بنایا گیا تھا۔

عراقی الیکشن، فرقہ وارانہ کشیدگی اور سابق وزیر اعظم المالکی

بعد میں 2003ء میں امریکہ کی قیادت میں عراق میں فوجی مداخلت کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت ختم ہو گئی تھی، مگر پھر ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں ایک ایسی خانہ جنگی بھی شروع ہو گئی تھی، جس میں برسوں تک کئی جہادی گروہ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہے تھے اور فرقہ وارانہ خونریزی کا ایک طویل سلسلہ برسوں تک جاری رہا تھا۔

یونان کی ایجیئن ایئرلائنز نے اسی سال عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل کے لیے بھی اپنی براہ راست کمرشل پروازیں بحال کر دی تھیںتصویر: Yunus Keles/AA/picture alliance

عشروں کی بدامنی کے بعد استحکام

عراق میں صدام دور کے بعد برسوں تک جاری رہنے والی بدامنی اور خانہ جنگی کے بعد مشرق وسطیٰ کی اس ریاست میں اب کافی حد تک دوبارہ استحکام آ چکا ہے۔ ملکی حکومت کی بھی کوشش ہے کہ سلامتی کی مسلسل بہتر ہوتی ہوئی صورت حال کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے عراقی معیشت کو بھی ترقی دی جائے۔

موصل کی تاریخی النوری مسجد آٹھ سال بعد دوبارہ کھول دی گئی

یونانی دارالحکومت ایتھنز سے بغداد تک اب جو کمرشل فضائی رابطے بحال ہوئے ہیں، ان کے تحت ہر ہفتے ایتھنز سے دو پروازیں بغداد تک جایا اور آیا کریں گی۔

عراقی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق اگر تجارتی طلب مزید بڑھی، تو ہر ہفتے ایتھنز سے بغداد تک دو پروازوں کے موجودہ سلسلے کو وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔

ایتھنز کے بین الاقوامی ایئر پورٹ سے ٹیک آف کرنے والی ایک مسافر پرواز کی ایک تصویرتصویر: Markus Mainka/dpa/picture alliance

یونان کی ایجیئن ایئر لائنز نے اسی سال ایتھنز سے عراق میں اربیل تک اپنی پروازوں کا سلسلہ بھی بحال کر دیا تھا، جو شمالی عراق میں نیم خود مختار علاقے کردستان کے دارالحکومت ہے۔

عراق: داعش کا شامی اور عراقی علاقوں کا سربراہ ہلاک

عراقی کردستان میں سلامتی کی صورت حال باقی ماندہ عراق سے کہیں بہتر ہے، جہاں اربیل تک پروازوں کی کامیاب بحالی یورپی یونین اور بغداد کے مابین براہ راست فضائی رابطوں کی بحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں