یورپی یونین سے کسی تجارتی فضائی کمپنی کی 35 سال بعد پہلی پرواز منگل 16 دسمبر کو عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتر گئی۔ بغداد حکومت کے مطابق عراق کی ’’ہوا بازی کے یورپی نقشے‘‘ پر واپسی خوش آئند ہے۔
عراقی دارالحکومت بغداد کا بین الاقوامی ہوائی اڈہتصویر: Vitaliy Belousov/Sputnik/dpa/picture alliance
اشتہار
عراقی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ یورپی یونین کے کسی رکن ملک کی کسی ایئر لائن کی ایک تہائی صدی سے بھی زیادہ عرصے بعد جو اولین پرواز منگل کو بغداد کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اتری، وہ یونان کی ایجیئن ایئر لائنز کی ایک فلائٹ تھی۔
عراقی وزارت ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں کہا کہ عشروں بعد ایسی پہلی فلائٹ کا بغداد میں اترنا ''عراق کی شہری ہوابازی کے یورپی نقشے پر واپسی‘‘ کا ثبوت ہے، جو بہت خوش آئند ہے۔
ساتھ ہی اس وزارت نے کہا کہ اس یورپی فلائٹ کی بغداد میں لینڈنگ ''ایوی ایشن کے عراقی شعبے کے خوش کن بحالی کا ایک نیا مرحلہ‘‘ بھی ہے۔
ایتھنز کے ہوائی اڈے پر کھڑا ایجیئن ایئرلائنز کا ایک مسافر طیارہتصویر: Nicolas Economou/NurPhoto/picture alliance
یورپی یونین سے بغداد تک براہ راست فضائی رابطوں میں تعطل کب سے؟
یورپی یونین کے رکن ممالک کی فضائی کمپنیوں کی عراقی دارالحکومت بغداد تک براہ راست پروازوں کا سلسلہ سلامتی کی وجوہات کی بنا پر 1990 کی دہائی کے اوائل میں اس وقت سے بند تھا، جب طویل عرصے تک عراق پر حکومت کرنے والے صدر صدام حسین نے خلیج فارس میں عراق کی ہمسایہ عرب ریاست کویت پر فوجی حملہ کر دیا تھا۔ کویت پر یہ عراقی فوجی حملہ خلیج کی پہلی جنگ کے نتیجے میں ناکام بنایا گیا تھا۔
بعد میں 2003ء میں امریکہ کی قیادت میں عراق میں فوجی مداخلت کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت ختم ہو گئی تھی، مگر پھر ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں ایک ایسی خانہ جنگی بھی شروع ہو گئی تھی، جس میں برسوں تک کئی جہادی گروہ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہے تھے اور فرقہ وارانہ خونریزی کا ایک طویل سلسلہ برسوں تک جاری رہا تھا۔
یونان کی ایجیئن ایئرلائنز نے اسی سال عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل کے لیے بھی اپنی براہ راست کمرشل پروازیں بحال کر دی تھیںتصویر: Yunus Keles/AA/picture alliance
عشروں کی بدامنی کے بعد استحکام
عراق میں صدام دور کے بعد برسوں تک جاری رہنے والی بدامنی اور خانہ جنگی کے بعد مشرق وسطیٰ کی اس ریاست میں اب کافی حد تک دوبارہ استحکام آ چکا ہے۔ ملکی حکومت کی بھی کوشش ہے کہ سلامتی کی مسلسل بہتر ہوتی ہوئی صورت حال کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے عراقی معیشت کو بھی ترقی دی جائے۔
یونانی دارالحکومت ایتھنز سے بغداد تک اب جو کمرشل فضائی رابطے بحال ہوئے ہیں، ان کے تحت ہر ہفتے ایتھنز سے دو پروازیں بغداد تک جایا اور آیا کریں گی۔
عراقی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق اگر تجارتی طلب مزید بڑھی، تو ہر ہفتے ایتھنز سے بغداد تک دو پروازوں کے موجودہ سلسلے کو وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔
ایتھنز کے بین الاقوامی ایئر پورٹ سے ٹیک آف کرنے والی ایک مسافر پرواز کی ایک تصویرتصویر: Markus Mainka/dpa/picture alliance
یونان کی ایجیئن ایئر لائنز نے اسی سال ایتھنز سے عراق میں اربیل تک اپنی پروازوں کا سلسلہ بھی بحال کر دیا تھا، جو شمالی عراق میں نیم خود مختار علاقے کردستان کے دارالحکومت ہے۔
عراقی کردستان میں سلامتی کی صورت حال باقی ماندہ عراق سے کہیں بہتر ہے، جہاں اربیل تک پروازوں کی کامیاب بحالی یورپی یونین اور بغداد کے مابین براہ راست فضائی رابطوں کی بحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
ادارت: کشور مصطفیٰ
عراق: امریکی جنگ کے دس سال بعد
تصویر: DW/K. Zurutuza
ڈراؤنا خواب جاری
گزشتہ دس برسوں میں تعمیر نو کے اربوں ڈالر کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا لیکن ایک عام شہری کو آج بھی لوڈ شیڈنگ اور صاف پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ ملک کا بنیادی ڈھانچہ آج بھی کمزور ہے، بدعنوانی عروج پر ہے، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
ذاتی گھر کا خواب
جنگ اور عدم استحکام کی وجہ سے عراقی پناہ گزینوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اندورن ملک بے گھر ہونے والے عراقیوں کی تعداد 1.2 ملین بنتی ہے۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
بم دھماکے روز مرہ کا معمول
عراق کی مجموعی آبادی کا پانچواں حصہ دارالحکومت بغداد میں رہتا ہے۔ 33 ملین آبادی والے اس شہر میں آئے دن بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ شہریوں کو روزانہ درجنوں چیک پوائنٹس پر تلاشی کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
اموات اور تباہی
عراق میں ہلاکتوں کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرنے والے دارے ’باڈی اکاؤنٹ‘ کے مطابق صرف گزشتہ برس ہلاک ہونے والے عراقیوں کی تعداد 4568 تھی۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
خواتین کی مشکلات
عراق میں صرف چالیس فیصد خواتین پڑھ لکھ سکتی ہیں۔ دس سالہ بد امنی کی وجہ سے بیواؤں کی تعداد تمام تر پرانے ریکارڈ توڑ چُکی ہے۔ مالی مشکلات کی وجہ سے لڑکیوں کی کم عمری میں ہی شادیوں کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
بارودی سرنگیں
لوگوں کی زندگیوں کو اب بھی بارودی سرنگوں اور غیر تباہ شدہ دھماکہ خیز مواد سے خطرات لاحق ہیں۔ ان کی وجہ سے ملک کو آلودگی جیسے بڑے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق، 2.7 ملین سے زائد لوگ آلودہ ماحول میں رہ رہے ہیں۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
یورنیم کے تابکار عناصر
طبی اعداد و شمار کے مطابق عراق میں کینسر اور لیوکیمیا جیسے موذی عارضوں کیں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ نومولود بچوں کی اموات کی شرح ہیروشیما اور ناگاساکی سے بھی زیادہ ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یورنیم کے تابکارعناصر ہیں۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
سکیورٹی خدشات
حکومتی حمایت یافتہ مختلف قبائلی رہنماؤں نے اپنے علاقوں میں امن برقرار رکھنے کے لیے سن 2005ء میں 'عراق کے بیٹوں' کے نام سے ایک نیم فوجی گروپ قائم کیا لیکن کم اسلحے اور حکومتی کمزوریوں کی وجہ سے یہ القاعدہ کا اہم ہدف بنا ہوا ہے۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
عرب بہار کا آغاز ؟
دسمبر 2012 ءکے بعد سے عراق کے سنی اکثریتی علاقوں کے ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس احتجاجی تحریک کو نام نہاد عرب بہار کا حصہ کہا جاتا ہے۔
تصویر: DW/K. Zurutuza
بہتر مستقبل کی لڑائی؟
سُنی ملیشیا گروپ ’’1920ء ریولوشن بریگیڈ‘ وہ مسلح گروپ ہے، جو موجودہ حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس گروپ کے چیف کمانڈر کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جھوٹی جنگ مسلط کرنے والے ممالک کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ تعمیرنو میں مدد کریں۔‘‘