1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین شام پر پابندیاں سخت کرنےکے لیے متفق ہے، قبرص

8 ستمبر 2012

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف پابندیاں سخت بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات قبرص میں ہونے والے ایک اجلاس میں سامنے آئی ہے۔

تصویر: AP

قبرص کی وزیر خارجہ ایراتو کوزاکو مارکولیس کا کہنا ہے کہ شام پر پابندیاں سخت کر نے کے لیے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے درمیان اتفاق رائے پافوس کے دو روزہ غیر رسمی اجلاس میں ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک شام کے تنازعے کے حل کے لیے بدستور روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ہمیں روس کے ساتھ کام کرنا ہوگا، ہمیں روس کے ساتھ کام جاری رکھنا ہو گا کیونکہ ہم انہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ روس اور چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر دباؤ بڑھانے کے لیے تین کوششوں کا راستہ روک چکے ہیں، جس کی وجہ سے مغربی طاقتوں میں ماسکو حکومت کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔

پافوس کے اجلاس کے بعد فرانسیسی وزیر خارجہ لاراں فابیوس کا کہنا تھا کہ شام کے خلاف نئے اقدامات کی تفصیلات یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کیتھرین ایشٹن کے دفتر میں طے ہوں گی۔ قبل ازیں اسی اجلاس سے خطاب میں جرمنی کے وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے روس اور چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شام کے حوالے سے اپنا رویہ تبدیل کریں۔

قبرص کی وزیر خارجہ ایراتو کوزاکو مارکولیستصویر: picture-alliance/dpa

دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے شام پر امریکی پابندیوں کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے شام کی اپوزیشن کی جانب سے تجویز کردہ عبوری حکومت کے منصوبے پر بھی تنقید کی ہے۔

لاوروف نے روس کے شہر ولادی ووسٹوک میں ایپک کے خصوصی اجلاس کے موقع پر اپنی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ایران اور شام کے تنازعات پر امریکا اور روس کے مقاصد مشترک ہیں لیکن ماسکو حکومت دھمکیوں اور نئی پابندیوں پر مبنی امریکی پالیسی کی حمایت نہیں کرتی۔

حلب میں شدید لڑائی

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں باغیوں اور فوج کے درمیان لڑائی کا سلسلہ شدت پکڑ گیا ہے۔ فوج وہاں باغیوں کے خلاف فتح کا دعویٰ کر رہی ہے۔

اے ایف پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج نے بیس گھنٹے کی لڑائی کے بعد باغیوں کو ایک پوزیشن سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس کارروائی میں فوج کو ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل تھی۔

ایک عینی شاہد نے بتایا ہے: ’’دونوں جانب بہت زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘‘

ایک فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ باغیوں کے زیر استعمال چھ بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دی گئیں، جنہیں وہ ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

باغیوں کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں فری سیریئن آرمی کے ارکان نے ہتھیاروں کی کمی کے ساتھ حصہ لیا۔ اس کمانڈر نے اپنی شناخت ابو عمر کے نام سے کروائی ہے۔

ng / aba (AFP, Reuters)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں