1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین میں امریکی اشیاء کی ڈیوٹی فری درآمد

افسر اعوان8 فروری 2014

امریکا اور یورپی یونین کے درمیان دنیا کے سب سے بڑے فری ٹریڈ کے معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق یورپی یونین امریکا سے درآمد کی جانے والی تقریباﹰ تمام ہی اشیاء پر ڈیوٹی ختم کر دے گا۔

تصویر: Georges Gobet/AFP/Getty Images

روئٹرز کے مطابق یورپی یونین کی طرف سے یہ پیشکش پیر 10 فروری کو کی جائے گی۔ یعنی یورپی یونین کے تجارتی امور کے سربراہ کارل ڈے گوخٹ اور ان کے امریکی ہم منصب مائیکل فورمین کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی براہ راست ملاقات سے محض ایک ہفتہ قبل۔ 28 رکنی یورپی یونین کے تجاری امور کے سربراہ امریکا کو بتائیں گے کہ وہ امریکی اشیاء کے لیے کس حد تک اپنی مارکیٹ کھول سکتے ہیں، جس کے جواب میں امریکی حکام کی طرف سے بھی اسی طرح کی پیشکش متوقع ہے۔

یورپی یونین کی اس پیشکش کے بارے میں قریبی معلومات رکھنے والے ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین امریکا سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر موجودہ ڈیوٹیز کی شرح میں 96 فیصد تک کمی پر رضامندی کا اظہار کرے گا۔ تاہم بقیہ چند حساس اشیاء پر یہ ڈیوٹیز برقرار رہیں گی جن میں گوشت اور پولٹری وغیرہ سے متعلق مصنوعات بھی شامل ہیں۔ روئٹرز کے مطابق دو دیگر یورپی اہلکاروں نے بھی اس پیشکش کی تصدیق کی ہے۔

حالیہ ڈیوٹیز کے باعث امریکا اور یورپی یونین کے آٹو میکرز کو سالانہ ایک بلین امریکی ڈالرز تک کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہےتصویر: picture-alliance/dpa

یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی سامان کے حوالے سے ٹیکسوں کی شرح پہلے ہی کافی کم ہے۔ دونوں فریقین ان ٹیکسوں میں مزید کمی کے اس معاہدے کو تجارتی حوالے سے انتہائی فائدہ مند تصور کرتے ہیں۔ دنیا کی کُل اقتصادی سرگرمی کے نصف کے قریب اس معاہدے کے بعد فریقین کے لیے سالانہ 100 بلین امریکی ڈالرز کے قریب مالی فائدہ متوقع ہے۔

اس معاہدے کے حوالے سے بات چیت کا آغاز گزشتہ برس جولائی میں ہوا تھا۔ پیر کے روز درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی یہ متوقع پیشکش دراصل اس معاہدے کے حوالے سے پہلی اہم کامیابی ہوگی۔

روئٹرز کے مطابق یورپی کمیشن کی طرف سے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے ایک اہلکار کے مطابق کمیشن تجارتی معاہدے کے حوالے سے اگلے ہفتے آفرز کے تبادلے پر کام کر رہی ہے تاہم اس اہلکار نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

باہمی تجارت کے حوالے سے اخراجات میں کمی کو دونوں اطراف کی کمپنیوں کے لیے فائدہ مند قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر کار ساز ادارے مثلاﹰ فورڈ، جنرل موٹرز اور فوکس واگن کے امریکا اور یورپ میں موجود پلانٹس کو اس سے کافی فائدہ ہوگا۔

یورپی یونین کے ممالک سے امریکا درآمد کی جانے والی کاروں پر دو فیصد ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے تاہم یورپی یونین نے امریکا سے درآمد کی جانے والی کاروں پر 10 فیصد کی شرح سے ڈیوٹی لاگو کی ہوئی ہے۔ ٹرکوں اور دیگر تجارتی گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح اس سے بھی زائد ہے جس سے آٹو میکرز کو سالانہ ایک بلین امریکی ڈالرز تک کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں