1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین میں انسانی اسمگلنگ کے سب سے زیادہ شکار یورپی باشندے

لوئیزا فرے / عدنان اسحاق2 فروری 2014

یورپی یونین میں انسانی اسمگلنگ کے سب سے زیادہ متاثرین کا تعلق رومانیہ، بلغاریہ اور ہنگری سے ہوتا ہے۔ اس دوران خاص طور پر خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والی سویتلانا ایفرموواتصویر: privat

''انسانی اسمگلنگ آج کے دور کی غلامی ہے‘‘۔ یورپی یونین کی جانب سے پیش کی جانے والی اس وضاحت سے تو شاید زیادہ تر یورپی باشندے واقف ہیں۔ تاہم اگر انہیں یہ بتایا جائے کہ اس کا شکار سب سے زیادہ یورپی یونین ہی بن رہی ہے تو یہ حقیقت ان کے لیے ضرور حیرت کا باعث ہو گی۔ یورپی کمیشن میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے ادارے کی رابطہ کار مائریا وسیلیادو کہتی ہیں، ’’ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ متاثرہ افراد کا تعلق غیر یورپی ممالک سے ہوتا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ان میں زیادہ تر یورپی یونین کے شہری ہی ہوتے ہیں‘‘۔ وہ مزید بتاتی ہیں کہ جرائم پیشہ گروہ ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور یہ کاروبار یورپی یونین کی سرحدوں کے اندر ہی ہوتا ہے۔ ان کے بقول زیادہ تر خریدنے والے بھی یورپی شہری ہی ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، مائریا وسیلیادوتصویر: European Parliament

یورپی یونین میں اعداد و شمار کے ادارے یورو اسٹیٹ کے مطابق 2013ء کے دوران انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے61 فیصد افراد کا تعلق یورپی ممالک سے تھا۔ اس رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ یورپی پولیس کی جانب سے 2009ء اور 2013ء کے دوران رونما ہونے والے واقعات کی تحقیقات کی گئی ہیں اور اس سے معلوم ہوا ہے کہ متاثر ہونے والے سب سے زیادہ یعنی چالیس فیصد رومانیہ کے باسی تھے۔ اس کے بعد 18 فیصد کے ساتھ ہنگری کا نمبر آتا ہے جبکہ بلغاریہ 11 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

رپورٹوں سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یورپی یونین میں اسمگلنگ سے سب سے زیادہ متاثر خواتین اور لڑکیاں ہوتی ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ جسم فروشی کا کاروبار ہے۔ یورو اسٹیٹ کے مطابق 2008ء سے 2010ء کے درمیان جن متاثرین کی نشاندہی ہوئی ہے، ان میں سے 62 فیصد کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

سرکاری حکام کے علاوہ مختلف غیر سرکاری تنظیمیں بھی متاثرین کے تحفظ اور ان کی مدد کے ساتھ ساتھ یہ پتا چلانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں کہ ان کا تعلق کس ملک سے ہے۔ جرمنی میں بھی تقریباً 37 تنظیمیں اور مشاورتی مراکز قائم ہیں، جو خواتین کی اسمگلنگ اور ان پر تشدد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ’ KOK ‘ ہے۔ اس کی سربراہ نائلے تانس کہتی ہیں کہ ’’غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں کی وجہ سے برسوں پہلے انسانی اسمگلنگ کے موضوع کو سیاسی ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا‘‘۔ یہ تنظیم متاثرین کا علاج معالجہ کرانے کے علاوہ قانونی چار جوئی کے سلسلے میں بھی انہیں تعاون فراہم کرتی ہے۔

یہ کاروبار یورپی یونین کی سرحدوں کے اندر ہی ہوتا ہےتصویر: picture-alliance/dpa

گزشتہ برسوں کے دوران انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس تناظر میں یورپی کمیشن میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے ادارے کی رابطہ کار مائریا وسیلیادو کہتی ہیں کہ اس سلسلے میں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’2011ء میں یورپی یونین میں متعارف کرائے جانے والے قوانین میں انسانی اسمگلنگ کے شکار افراد کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا بھی شامل تھا۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کو اس قانون کو لاگو کرنے کے لیے دو سال کا وقت دیا گیا تھا لیکن اپریل 2013ء تک صرف بیس رکن ممالک نے اس پر عمل درآمد کرنا شروع کیا تھا۔ اس فہرست میں جرمنی شامل نہیں ہے‘‘۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں