یورپی یونین میں سماجی بدامنی کا خطرہ بڑھ رہا ہے، عالمی ادارہ محنت
10 اپریل 2013
عالمی ادارہ محنت نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بچتی پالیسیوں پراسی طرح سے عمل کیا جاتا رہا اور روز گار کے مواقع پیدا نہیں کیے گئے تو یورپی یونین میں سماجی سطح پر بدامنی پیدا ہو سکتی ہے۔ معاشی امور کے ماہر پروفیسر میگیئل اینگل مالو کے مطابق ’’جب بے روزگاری کی شرح آج کل کی طرح بہت بڑھ جائے، غربت اور فلاح و بہبود کی ضمانت بھی نہ ہو تو ایسی صورتحال میں سماجی بگاڑ بھی پیدا ہو سکتا ہے‘‘۔ مالو اسپین کی سالامانکا یونیورسٹی اور آئی ایل او سے منسلک ہیں۔
ہسپانوی نوجوانوں میں آج کل بے روز گاری کی شرح 56 فیصد ہے۔ عالمی ادارہ محنت کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپ میں 26.3 ملین افراد بے روز گار ہیں۔ یورپی یونین کے27 میں سے22 ممالک میں روزگار کی منڈی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ صرف پانچ ممالک ایسے ہیں،جہاں2008ء (عالمی مالیاتی بحران کا آغاز) کے مقابلے میں روزگار کے مواقع بہتر ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں آسٹریا، جرمنی، ہنگری، لکسمبرگ اور مالٹا شامل ہیں۔ یورو زون میں شامل سترہ ممالک میں بے روزگار افراد کی شرح زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔
اس رپورٹ سے جو تجزیہ اخذ کیا جا سکتا ہے وہ اس میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا کون سا طبقہ ہے تو فوری طور پر سمجھ آ جائے گا کہ عالمی ادارہ محنت کیوں سماجی بدامنی کی بات کر رہا ہے۔ بے روزگاری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا نوجوانوں کا وہ گروپ ہے، جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔ یورپی یونین کے27 میں سے 26 ممالک میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔ تاہم جرمنی وہ واحد ملک ہے، جہاں صورتحال مختلف ہے۔ دوسرے گروپ میں وہ لوگ شامل ہیں، جن کے پاس طویل عرصے سےکوئی کام نہیں ہے جبکہ تیسرا گروپ غیر ہنر مند مزدوروں پرمشتمل ہے۔
آئی ایل او نے اس حوالے سے تجویز پیش کی ہے کہ معاشی مسائل کے شکار ممالک اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں۔ اس حوالے سے پروفیسر مالو نے کہا کہ آئی ایل او نے جن بچتی اقدامات پر تنقید کی ہے انہیں فوری طور پر روکا جائے اور ان کی جگہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو کوشش کی جائے ۔’’روزگار کو اتنی ہی اہمیت دینی چاہیےکہ جتنی دیگر اقتصادی اہداف کو دی جاتی ہے‘‘۔ مالو کے بقول اگر صورتحال کو قابو میں رکھنا ہے تو تنخواہوں اور اجرتوں کو مستحکم کیا جانا بھی بہت ضروری ہے۔
H.Hendrik / ai / sks