1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین نے یونان کو پھر رعایت دے دی

مقبول ملک20 مارچ 2015

یورپی یونین نے اپنی دو روزہ سربراہ کانفرنس کے اختتام پر آج جمعے کے روز مالی بحران کے شکار ملک یونان کے وزیر اعظم کی طرف سے ٹھوس وعدوں کے بعد ایتھنز کو مزید رقوم کی پیشکش کر دی اور اصلاحات پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

سِپراس نے رات گئے تک جرمنی، فرانس اور کئی مرکزی یورپی اداروں کے سربراہان سے تفصیلی مذاکرات کیےتصویر: Reuters/Y. Herman

برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین کے رہنماؤں نے ایتھنز کو ہنگامی بنیادوں پر اربوں یورو کی رقوم کی جو پیشکش کی ہے، اس سے قبل یونین کی قیادت نے یونان کو درپیش حالات کو ’انسانی بنیادوں پر امداد کی اشد ضرورت کے حوالے سے ایک بحران‘ کا نام بھی دیا۔

تاہم یونین کے رکن ملکوں کی طرف سے یہ پیشکش اسی وقت ممکن ہوئی جب یونانی وزیر اعظم الیکسِس سِپراس نے دیگر یورپی رہنماؤں کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت مالی اور اقتصادی اصلاحات کے ان تمام وعدوں کی ترجیحی خطوط پر وضاحت کرے گی، جو بیل آؤٹ پیکجز کی شرائط کے طور پر قرض دہندگان سے کیے گئے تھے۔

یونانی وزیر اعظم سِپراستصویر: Reuters/Y. Herman

بیلجیم کے دارالحکومت میں یونین کی دو روزہ سربراہی کانفرنس کے دوران یونانی وزیر اعظم کے دیگر یورپی سربراہان مملکت و حکومت کے ساتھ بحرانی مذاکرات کے بعد یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر نے کہا کہ کمیشن کی طرف سے ایتھنز کو دو بلین یورو مہیا کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یونان کو یہ دو ارب یورو یورپی یونین کے ان ترقیاتی فنڈز میں سے مہیا کیے جائیں گے، جو ابھی تک استعمال نہیں ہو سکے تھے۔

اس یورپی سربراہی کانفرنس کے ایجنڈے میں یوں تو کئی دیگر امور بھی شامل تھے لیکن ان موضوعات پر یونان کا مالی بحران حاوی رہا۔ کانفرنس کے بعد یورپی کمیشن کے صدر یُنکر نے صحافیوں کو بتایا، ’’یونان کو اس وقت شدید نوعیت کے سماجی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ انسانی حوالے سے بحران کی سی صورت حال ہے۔ یورپی کمیشن کی طرف سے جو دو بلین یورو مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وہ یونانی خزانے میں نہیں جائیں گے بلکہ ان کے ذریعے ترقی اور سماجی مضبوطی کے پروگراموں میں مدد کی جائے گی۔‘‘

اسی یورپی سمٹ کے موقع پر وزیر اعظم سِپراس نے کل جمعرات کو رات گئے تک جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ کئی مرکزی یورپی اداروں کے سربراہوں کے ساتھ بھی تفصیلی مذاکرات کیے تھے۔ ان مذاکرات میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایتھنز کی طرف سے قرض دینے والے اداروں یعنی یورپی یونین، یورپی مرکزی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کیے گئے اصلاحات کے وعدوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کر دیں گے۔

جرمن چانسلر میرکل فرانسیسی صدر اور دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھتصویر: Reuters/F. Lenoir

آج جمعے کے روز ملنے والی رپورٹوں کے مطابق الیکسِس سِپراس نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں قرض دہندہ اداروں کو ایسے اقدامات کی ایک نئی فہرست مہیا کریں گے، جن پر عمل کرتے ہوئے ایتھنز حکومت لازمی مالیاتی اور اقتصادی اصلاحات کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

ایتھنز حکومت کی آئندہ دنوں میں مہیا کی جانے والی اصلاحاتی اقدامات کی اس نئی فہرست پر یورپی یونین کے رکن ملکوں کے وزرائے خزانہ ممکنہ طور پر آئندہ جمعے کے روز آپس میں مشاورت کریں گے۔

بحران زدہ یونان کو اب تک یورپی کمیشن، یورپی مرکزی بینک اور آئی ایم ایف کی طرف سے دو بیل آؤٹ پیکجز کی صورت میں 233 بلین یورو مہیا کیے جا چکے ہیں۔ ان دو پیکجز کی مجموعی مالیت 240 بلین یورو ہے، جن میں سے سات بلین یورو کی فراہمی ابھی باقی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں