یورپی یونین وسطی افریقی جمہوریہ افواج روانہ کرنے پر متفق
21 جنوری 2014
پیر کے دن برسلز میں منعقد ہوئے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں وسطی افریقی جمہوریہ میں قیام امن اور وہاں جاری نسلی فسادات کے تناظر میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ لاراں فابیوس نے بتایا ہے کہ اس افریقی ملک میں یورپی یونین کے رکن ممالک کی افواج کی تعداد پانچ سو تک ہو سکتی ہے۔ ابتدائی طور پر ایسی خبریں منظر عام پر آئی تھیں کہ یورپی یونین وہاں اپنے ایک ہزار فوجی روانہ کر سکتا ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ممالک میں ایسی کون سی ریاستیں ہیں، جو اس مشن کے لیے اپنے فوجی روانہ کریں گی۔ جرمنی نے وسطی افریقی جمہوریہ میں قیام امن کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے دہرایا ہے کہ وہ وہاں اپنے فوجی روانہ نہیں کرے گا۔
منگل کے دن جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان اشٹیفان زیبرٹ نے برلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ جرمن حکومت یورپی یونین کے حمایت یافتہ اس مشن کے لیے کس طرح کی مدد فراہم کرے گا۔ جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا ہے کہ یورپی اقوام کی طرف سے وسطی افریقی جمہوریہ کے لیے فوجی مدد کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ وہ افغانستان کے بعد کسی دوسرے بڑے مشن کی تیاری کر رہا ہے۔ یورپی یونین کے اس مشن کی حتمی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے کی جائے گی۔
نئے رہنما کا انتخاب
وسطی افریقی جمہوریہ کے لیے یورپی یونین کے فوجی مشن کے اعلان سے کچھ دیر قبل ہی بنگوئی حکومت نے نئے عبوری رہنما کو منتخب کیا تھا۔ اس افریقی ملک کی 129 رکنی عبوری قومی کونسل نے منگل کے دن ہی دارالحکومت کی میئر کیتھرین سامبا پانزا کو عبوری صدر منتخب کیا۔ وہ میشل جوتودیا کی جگہ یہ منصب سنبھالیں گی۔
ملک میں مذہبی فسادات کو روکنے میں ناکامی پر وسطی افریقی جمہوریہ کے پہلے مسلمان صدر میشل جوتودیا کو عالمی برداری کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے دس جنوری کو اپنے منصب سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
وسطی افریقی جمہوریہ کی عبوری قومی کونسل نے ووٹنگ کے دوسرے مرحلے کے بعد کیتھرین کی صدر کے عہدے کے لیے منظوری دی۔ ووٹنگ کے پہلے راؤنڈ میں کونسل کے ممبران ان کے نام پر اتفاق رائے نہیں کر سکے تھے۔ وہ آئندہ الیکشن تک صدر کےعہدے پر براجمان رہیں گی۔
ادھر یورپی یونین کے انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے والے کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ وسطی افریقی جمہوریہ کو تقریباﹰ پانچ سو ملین یورو کی امداد فراہم کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق وسطی افریقی جمہوریہ میں شروع ہونے والے اس تازہ تنازعے کے نتیجے میں ایک ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔