1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پریشان

عدنان اسحاق 18 اگست 2013

انسانی حقوق کی تنظیموں نے پناہ گزینوں سے متعلق یورپی یونین کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یورپی پالیسیوں میں یکجہتی کا فقدان واضح دکھائی دیتا ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

ایک اندازے کے مطابق شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے تقریباً دو ملین افراد ملک چھوڑنے کے بعد محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر شام کے پڑوسی ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔ یورپی یونین کے دفتر شماریات یورو اسٹیٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران تیس ہزار کے قریب شامی باشندوں نے یورپی یونین میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستيں جمع کرائی ہيں۔ تارکین وطن سے متعلق جرمن دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ صرف جولائی کے مہینے میں انہیں ایک ہزار شامی شہریوں کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ میں اسٹیٹ سیکرٹری اولے شروڈر کے بقول’’مشکل میں گھرے ہوئے افراد کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ جرمنی نے پانچ ہزار شامی باشندوں کو پناہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ’’ ان افراد کے اہل خانہ کو بھی جرمنی آنے کا موقع دیا جائے گا۔‘‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی فرانسسکا ولمار نے کہا کہ جرمنی کی جانب سے پانچ ہزار شامی شہریوں کو پناہ دینے کا اعلان ایک اچھا آغاز ہے۔ ’’لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ کافی نہیں ہے۔‘‘

تصویر: AP

ولمار نے مزید کہا کہ جرمنی نے ابھی تک کسی بھی شامی شہری کو پناہ نہیں دی ہے کیونکہ اس سلسلے ميں پناہ گزينوں کے انتخاب کا طریقہ کار ابھی تک طے نہیں کیا جا سکا ہے۔ یورپی یونین میں شامل بحیرہ روم کے ممالک مالٹا، قبرص، اٹلی اور یونان میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ تارکین وطن موجود ہیں۔ بلغاریہ اور ہنگری کے حکام کو مشرق وسطٰی اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے ان پناہ گزینوں نے پریشان کیا ہوا ہے، جو ان دونوں ممالک کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کے بقول بات جب پناہ گزینوں کے تحفظ کی ہو تو یورپی یونین کی جانب سے بین الاقوامی ضابطوں تک کی خلاف ورزی کر دی جاتی ہے۔

تصویر: UNICEF/Asad Zaidi

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی فرانسسکا ولمار کے بقول یورپی یونین کی پناہ گزینوں کے حوالے سے پالیسی کو ایک مشترکہ منصوبے اور مشترکہ مہم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ولمار نے یونان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ترکی سے ملنے والی یونانی سرحد پر ناقابل تسخیر باڑ لگائے جانے کے بعد سے تارکین وطن یورپ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کے لیے خطرناک سمندری راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ حقیقت ہے کہ یونان کو معاشی بحران کا سامنا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غیر انسانی سلوک کا مظاہرہ کیا جائے۔‘‘ ولمار نے مزید کہا کہ یونانی حکام کو بخوبی علم ہے کہ سمندری راستے میں بہت سے افراد ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین میں پناہ گزینوں کے تحفظ کے لیے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پرعمل بھی کیا جانا چاہیے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں