1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کا رواں برس کا آخری سربراہ اجلاس اختتام پذیر

عابد حسین21 دسمبر 2013

یورپی یونین کا دو روزہ سربراہی اجلاس جمعہ 20 دسمبر کو برسلز میں ختم ہو گیا ہے۔ اِس اجلاس میں یونین نے کئی اہم معاملات پر فوکس کیا اور بعض پر حتمی فیصلے بھی کیے۔ بیکنگ یونین کا قیام ان میں سے ایک فیصلہ ہے۔

تصویر: Thierry Charlier/AFP/Getty Images

یورپی یونین نے جمعے کے روز واضح کیا کہ یونین کی روس کے ساتھ اگلی سمٹ آسان نہیں ہو گی۔ یورپی یونین کونسل کے صدر ہرمن فان رومپوئے کہا کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ اگلی میٹنگ میں باقاعدہ طور پر شکایت کی جائے گی کہ یوکرائن کے معاملے پر روسی مداخلت بے جا تھی۔ روس اور یورپی یونین کے درمیان سربراہی اجلاس اگلے سال جنوری کے آخر میں برسلز میں ہو گا۔ رومپوئے کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور یونین کے خدشات اور تشویش کے حوالے سے کھل کر بات کی جائے گی۔

یورپی یونین کے لیڈران اور جرمن چانسلر انگیلا میرکلتصویر: REUTERS

یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں یونین کے لیڈروں نے یوکرائن پر واضح کیا کہ پارٹنر شپ کا دروازہ کییف حکومت کے لیے کھلا ہے لیکن موجودہ یانوکووچ حکومت کے لیے یہ ضروری نہیں ہے۔ یورپی کونسل کے صدر ہرمن فان رومپوئے نے واضح کیا کہ یونین نے یوکرائن کو قابل اعتماد راستہ فراہم کیا تھا جو جدید اور ایک آزاد ملک کے لیے تھا۔ رومپوئے کا مزید کہنا تھا کہ کییف کے آزادی اسکوائر پر لوگوں کا ہجوم ایک بہتر مستقبل کی نوید ہے۔ یورپی یونین نے مقید سابق وزیر اعظم یولیا ٹیمو شینکو کی رہائی اور علاج کے لیے بیرون ملک روانگی کو بھی اہم قرار دیا ہے۔

یورپی یونین کے رہمناؤں نے جمعے کے روز کریڈٹ ریٹنگ اسٹینڈرڈ اینڈ پُور کی جانب سے یونین کی اقتصادی و معاشی پوزیشن کو ایک درجے کم کرنے کو ایک رائے قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی کریڈٹ کمپنی نے یورپی یونین کی اقتصادی پوزیشن کو ڈبل اے پلس(AA+) کرتے ہوئے کہا کہ یونین کی معاشی آؤٹ لُک کو خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانویل بارروسو نے ریٹنگ کمپنی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یونین ایک انتہائی قابل اعتماد مالیاتی ادارہ ہے۔ اِسی طرح یورپی یونین کونسل کے صدر ہرمن فان رومپوئے نے کہا کہ ایک درجے میں کمی سے یورپ میں کرسمس کا مزہ خراب نہیں ہو گا۔

یورپی یونین کے مختلف لیڈروں کا ایک گروپ فوٹوتصویر: REUTERS

یورپی یونین کی سمٹ میں وسطی افریقی جمہوریہ میں مشترکہ فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ اب نئے سال کے پہلے مہینے میں ہونے والی سمٹ میں اِس مناسبت سے مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔ سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کا کہنا تھا کہ اُن کی حکومت فوجیوں کی شرکت کی بات نہیں کرتی لیکن اہم اور خصوصی مشنز کے حوالے سے یونین کی مدد چاہتی ہے۔ اولانڈ کے مطابق ہوائی اڈے، ہسپتالوں کی سکیورٹی اور ادویات کی سپلائی کے علاوہ انسانی ہمدردی کے معاملات میں معاونت وقت کی ضرورت ہے۔

جمعہ 20 دسمبر کو ختم ہونے والے سربراہ اجلاس میں یورپی لیڈران نے واضح کیا کہ یورپ کا خطرناک سمندری سفر اختیار کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی ہر ممکن طریقے سے حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ سربراہ اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ اس صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے دوسرے ملکوں سے مدد حاصل کرنا اہم ہے۔ یونین نے تجویز کیا ہے کہ بہتر اور مؤثر معلوماتی و اطلاعاتی مہم کے علاوہ غیرقانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کی بہتر پالیسی اختیار کی جائے گی۔ اس مناسبت سے بنیادی سطح پر پیش کی جانے والی تجاویز کو اگلے سال جون میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں